!دریائوں اور ندی نالوں کی تباہی کا الارم

ریاست بھر میں ندی نالوں سے ریت اور بجری نکالنے کیلئے ایک سرگرم مافیا کام کررہاہے جس نے ایسی جگہوں کو بھی کھدیڑ کر رکھ دیاہے جہاں سے ریت اور بجری کا اخرا ج 2014کے سیلاب کے طرح پھر سے تباہی کا مؤجب بن سکتاہے ۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ دریا ئوں پر بنے پلوں کے آس پاس سے بھی موقعہ ملنے پر ریت اور بجری نکالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا، جس سے ان پلوں کی بنیادیں کمزور پڑتی جارہی ہیں اورانکےپشتے ڈھ جانے کا خطرہ ہر دم لگارہتا ہے۔اس معاملے پر مقامی آبادی بھی سیخ پاہے  لیکن اُنکی چیخ وپکار پر کوئی توجہ دینے کےلئے تیار نظر نہیں آتا۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریت اور بجری نکالنے کے عمل سے بڑی تعداد میں مزدور پیشہ افرادجڑے ہوئے ہیں اور ان کی روزی روٹی کا انحصار اسی کام پر ہے لیکن اس کام میں ایسا مافیا سرگرم ہے  جس نےجے سی بی مشینیں لگاکر ندی نالوں کا حلیہ ہی بگاڑدیاہے ۔ سرحدی ضلع پونچھ سے بہنے والے دریائے سرن پر جگہ جگہ مشینیں لگارکھی گئی ہیں اور بڑے پیمانے پر ریت بجری نکال کر نہ صرف ضلع بلکہ بیرون ضلع بھی فروخت کی جارہی ہے اور یہ سارا کام عدالت عظمیٰ کی ہدایات کے برعکس انجام دیاجارہاہے ۔ اگرچہ عدالت کی طرف سے اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ غیر قانونی طور پر ریت اور بجری نہ نکالی جائے لیکن مقامی انتظامیہ سرگرم مافیا کو قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے اور جے سی بی مشینوںکے استعمال پر بھی پابندی عائد نہیں کی جاسکی ۔یوں یہ مشینیں کھلے عام دن رات دریا کے اطراف و اکناف جگہ کھدیڑنے کے کام میںلگی ہوئی ہیںجس سے دریا کا نقشہ ہی بگڑ گیاہے اور اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ طغیانی آنے پر یہ دریا اپنا اصل راستہ بدل کرنیاراستہ اختیار کرسکتاہے اور ایسی حالت میں لوگوں کی زمینیں اور مکانات کے طغیانی کی زد میں آنے کا زبردست اندیشہ ہے،جیساکہ ستمبر 2014کے تباہ کن سیلاب کے دوران دیکھاگیا،جب ریاست بھر کی طرح ضلع پونچھ میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچی اور لوگوں کی سینکڑوںکی کنال اراضی اور درجنوں رہائشی مکانات کا نام ونشان تک مٹ گیا ۔ دریائے سرن کی طرح ریاست بھر کے دریائوں اور ندی نالوں سے ریت اور بجری نکالی جارہی ہے اور زیادہ تر جگہوں پر یہ کام غیر قانونی طرز پر انجام پارہاہے ۔حالانکہ تعمیراتی لحاظ سے ریت اور بجری کی ضرورت دن بدن بڑھتی جارہی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ قوانین کی دھجیاں اڑاکر اس کام کو انجام دیاجائے بلکہ یہ کام انہی خطوط کے مطابق ہونا چاہئے جس کی قانون اجازت دیتاہے اوراس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جس سے لوگوں کی تباہی کا سامان فراہم نہ ہو ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام ایسے مافیا کے خلاف کارروائی کرے جنہوںنے دولت سمیٹنے کی اندھی دوڑ میں ماحولیاتی اور ارضیاتی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر  کئی کئی مشینیں اور ٹپر لگارکھے ہیں اور ریت بجری کے اخراج کے وقت یہ تک بھی نہیں دیکھاجاتا کہ اس سے مقامی آبادی نقصان سے دوچار ہوسکتی ہے ۔