درہ گائوں کے شمشان گھاٹ میں لگاتار کان کنی جاری | عوام نے تشویش کا اظہار کیا،انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ

پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے ندی نالوں میں کان کنی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران شمشان گھاٹوں تک کو نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ پونچھ کے گائوں درہ کے شمشان گھاٹ میں بھی لگاتار غیر قانونی کان کنی کی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق انتظامیہ کو اس حوالے سے بارہا متوجہ کیا گیا ہے تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے سماج سیوا سوسائٹی پونچھ کے صدر جگل کشور نے جہاں گائوں درہ کے شمشان گھاٹ کی طرف جانے والیراستہ کی انتہائی خستہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہی انہوں نے کہا کہ اگر کسی جنازے کو شمشان گھاٹ لے جانا ہوتا ہے تو مر جانے والے کے لواحقین اور دوسرے افراد کیلئے شمشان گھاٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے وہاں مسلسل ہورہی غیر قانونی کان کنی پر متعلقہ محکمہ سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں سخت کارروائی کی جائے اور اس سے شمشان گھاٹ اور اس کے قریب کے زرعی کھیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا غیر قانونی کان کنی پانی کو زرعی کھیتوں کی طرف موڑ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے جو باندھ وہاں 1992 کے سیلاب کے بعد تعمیر کی گئی تھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی پھر 2014 کے سیلاب کے میں وہ بالکل تباہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد حفاظتی بندوں کے لئے سرکار کی جانب سے وافر مقدار میں رقومات واگزار ہونے کے بعد بھی وہ بعد دوبارہ تعمیر نہیں کی گئی اور ہمیں نہیں معلوم کہ وہ تمام رقوما کہاں گئی۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ ان رقومات کے استعمال کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج سوسائٹی کے تمام ممبران اور کارکنان لیفٹیننٹ گورنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں اور سخت کارروائی کریں کیونکہ ان علاقوں کو بہت عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔