دروغ گوئی۔تمام بُرائیوں جڑ

جھوٹ نے کتنے پیرہن بدلے
سچ ہمیشہ سے بے لباس رہا
دروغ گوئی سے مراد ہے، جھوٹ بولنا۔ کسی کے بارے میں خلافِ حقیقت خبر دینا ، جھوٹی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ سچی معلوم ہو۔ تمام مذاہب میں دروغ گوئی کو بُرا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے دین ِ اسلام میں دروغ گوئی بہت بڑا عیب اور بد ترین گناہِ کبیرہ میں شامل ہے۔
جھوٹ کو "ام الخبائث" یعنی تمام برائیوں کی جڑ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ جھوٹ بولنے والے کی شخصیت اور کردار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، وہ ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوتا ہے ، کوئی اُس کی بات کا اعتبار نہیں کرتا اور وہ ہر محفل میں بے اعتبار و بے وقار ہو جاتا ہے۔ دنیا کے نقصان کے ساتھ ساتھ وہ عذابِ جہنم اور قبر کی طرح طرح کی سزاؤں کا بھی مستحق ٹھہرتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے کو اپنا ایک جھوٹ چھپانے کےلیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جس کی بنا پر وہ اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں ، نبیوں اور ولیوں کی رحمت و عنایت سے دور ہو جاتا ہے۔ دروغ گو انسان پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے ۔
"صرف ایک جھوٹ پچھلے تمام سچ کو مشکوک بنا دیتا ہے۔"دروغ گو انسان وقتی طور پر کسی کو تکلیف پہنچانے ، اپنی شہرت بچانے ، یا دوسروں کی نظروں میں معتبر بننے کےلیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے مگر گزرتے وقت کے ساتھ بولے گئے جھوٹ کے خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں ، وہ اطمینانِ قلب سے محروم ہو جاتا ہے ،نت نئے مسائل اور پریشانیوں میں گِھر جاتا ہے ، اُس کا چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے ، اُس پر رزق تنگ ہو جاتا ہے اور اُس کا ضمیر ہر وقت کچوکے لگاتا رہتا ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہو ۔
" سچ موجود ہوتا ہے ، جھوٹ بنائے جاتے ہیں "جھوٹ کی مذمت میں قرآن و حدیث میں بارہا جگہ آیات و احادیث بیان کی گئی ہیں،،،ارشادِ باری تعالی ہے:"اُن کے دِلوں میں مرض ہے تو اللہ نے اُن کے مرض میں اضافہ کر دیا اور اُن کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے اُن کےلیے دردناک عذاب ہے"۔
"بےشک اللہ تعالی اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا جھوٹا ہو"
 حدیث میں جھوٹ کو نفاق کی ایک خصلت قرار دیا گیا ہے ، ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: "منافق میں تین خامیاں ہوتی ہیں ، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے"۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : "صدق کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ، آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے ، آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُسے اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے "۔
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہت بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تین مرتبہ یونہی فرمایا ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا :ہاں ،کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا ۔آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے ،اُٹھ بیٹھے اور فرمایا سنو! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ،آپ مسلسل فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ خاموش ہو جائیں۔
تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گناہ نہیں :1۔ جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے، اسی طرح جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظلم سے بچنے کےلیے بھی جھوٹ بولنا جائز ہے ۔2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ اُن دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہے مثلا ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے ، تمہاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اس قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اور صلح ہو جائے ۔3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کےلیے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں پھر عرض کیا گیا:کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں پھر پوچھا گیا:کیا مومن کذاب (جھوٹا) ہو سکتا ہے؟آپ نے فرمایا: بالکل نہیں مسلمان جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
"جھوٹے لوگوں کی صحبت سے بچو اگر نہیں بچ سکتے تو کبھی بھی اُن پر یقین مت کرنا ":حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : " مسلمان آدمی کو چاہیے کہ وہ بہت جھوٹے آدمی کے ساتھ دوستی اور برادری کا رشتہ نہ باندھے،، اس لیے کہ جھوٹے سے دوستی کرنے والے شخص کو بھی جھوٹا سمجھا جائے گا اگرچہ وہ سچ بات بھی کہے گا تو سچ نہیں مانا جائے گا"۔
دماغی ماہرین کے تجربات کے مطابق جو شخص لگاتار جھوٹ بولتا ہے اُس کی شخصیت پر منفی اثرات تو پڑتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُس کا دماغ بھی بے حس ہوتا چلا جاتا ہے ، اُسے دوسروں کے جذبات و احساسات کی کوئی پروا نہیں رہتی ، اُس کےلیے جھوٹ ایک نارمل سی بات بن جاتی ہے ، ایک وقت آتا ہے کہ اُسے اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا یہاں تک کہ اُس کے قریبی رشتے داروں مثلا بیوی ، شوہر ، بچے ، ماں باپ اور بہن بھائیوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ 
     آج ہمارے معاشرے میں دروغ گوئی ایک ناسور کی شکل اختیار کر گئی ہے ، جسے کوئی گناہ سمجھتا ہی نہیں حالانکہ یہ صرف گناہ نہیں بلکہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے ، ہمیں چاہیے کہ اپنے معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ کریں ، کسی بھی بات میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ کریں ، بِلا تحقیق کوئی بھی بات آگے نہ پھیلائیں ، چاہے کتنا ہی دشوار وقت ہو ، سب لُٹ جانے کا خدشہ ہو ، سر پر تلوار لٹک رہی ہو تب بھی ہماری زبان سے کلمہ حق ہی جاری ہو ، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب پر اپنا خصوصی رحم و کرم نازل فرمائے ، ہمیں قبر اور حشر کی تمام سختیوں سے نجات دلائے اور تمام رذائلِ اَخلاق سے بچنے کی توفیق دے ، آمین یا رب العالمین ۔ارشادِ باری تعالی ہے: "اے اہلِ ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو"۔
���������