! درد ہی ہمارا کُل سرمایہ ہے فکر انگیز

سید مصطفیٰ احمد ۔حاجی باغ، بڈگام

دنیا میں بیشتر لوگ درد سے کوسوں دور بھاگتے رہتے ہیں۔ خوشی اور سکون کس کو پسند نہیں ہے۔ خوشی کی چاہ میں، میں نے اٹھائے غم بہت کے مصداق ہر کوئی عمل دائمی خوشی کے لئے انجام دی جاتی ہے۔سُکھ اور قلب سکون کے لئے کیا سے کیا نہیں کرنا اور کہاں سے کہاں نہیں جانا پڑتا ہے۔ الغرض مقصد ِحیات ہی آرام اور خوشی کے محور کے ارد گرد گھومتا ہے۔ اس کے برعکس درد کے ساتھ کسی کی نہیں بنتی ہے۔ درد کسی بھی قسم کا ہو، کسی بھی ذی حِس کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ خود کے لئے اور آنے والی نسلوں کے لئے بھی ہم سکون اور اطمینان ہی کو ورثے کے طور پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔ درد کی کسک اور گائل کردینی والی لہروں سے ٹکراتے وقت جب استخوان ٹوٹ جاتے ہیں تو آہ نکل کر فغاں بننے میں دیر نہیں ہوتی ہے۔ اس درد کا فغاں بننے میں روح کو چھلنی کردینے والی جو کاٹ کاٹنی پڑتی ہے، وہ اس انسان کے زیر نظر ہوتی ہے جو اِن مراحل سے گزر گیا ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس یہ بات اس انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی ہے، جس کو اصلی درد سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔
جب سے ہم نے زندگی کو کسی حد تک سمجھنے اور قلب سکون کو حاصل کرنے کی راہوں پر چلنا شروع کر دیا ہے، تب سے درد اور غم کے ساتھ ایک اٹل رشتہ استوار ہوا ہے۔ اب درد سے اتنا پیار ہوگیا ہے کہ اس کے بغیر حقیقی سکون میسر نہیں ہوتا ہے۔ میں کوئی صاحب بصیرت یا کوئی افلاطون نہیں ہوں کہ اپنی آگاہی کا ڈھنڈورہ پیٹتا پھروں۔ ابھی خود سے روشناس ہونے کی پہل نہیں ہو رہی ہے، کائنات کے بے شمار راز کیسے افشاں ہوسکتے ہیں لیکن میری بات اس شخص کی سمجھ میں زیادہ آسکتی ہے جو درد کی وادیوں میں اُتر کر درد کے درد میں ڈوب کر امر ہوگیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ انسان ہی درد کی نازک کیفیات سے روشناس ہوسکتا ہے جس کو درد کی پہچان ہوگئی ہو۔جیسے کہ مندرجہ بالا سطروں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کیسے خود کے ساتھ بِتائے ہوئے لمحات نے ہمیں درد کی پہچان کروائی اور درد کو ہی ہمارے لئے آب حیات بنا دیا ہے۔ ہماری حالت کو کسی نے کیسے خوبصورت انداز میں قلمبند کرکے لکھا ہے کہ یہ جسم ہے تو کیا، یہ روح کا لباس ہے ،یہ درد ہے تو کیا، یہ عشق کی تلاش ہے۔ ان سطروں میں ہوبہو اس بات پر توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ جب جسم روح کا لباس ہے اور اس لباس کی عارضی خوشی کے لیے روح کے درد کا سودا کرنا خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، تو ہم نے عشق یا سچی محبت کی دنیا میں قدم رکھ کر آگ کے دریا میں ڈوبنے کی ٹھان میں ساحل سے مبریٰ اُس دریا میں اپنے آپ کو درد کی لپیٹوں کے حوالے کردیا ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ درد سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی قبروں پر رحمت کی بارش ہمیشہ برستی رہی جن لوگوں کی بدولت درد سے ہمارا رشتہ آج تک برقرار ہے۔ اس پہلے شخص کو میری دل سے سلام کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے پہلی بار حقیقی درد کو پہچان کر ہمارے لئے ایسا سرمایہ چھوڑ دیا، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے اُتنا ہی کم ہے۔ کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ دنیا میں جس نے سب سے پہلے دل دیا اُس دلبر کو میرا سلام، اسی طرح جس نے درد کی راہ پر پہلی بار چلنا شروع کیا تھا اور اسی درد کو اپنی حیات اور موت سمجھ کر دنیا کی آسائشوں سے دور اپنی دل کی روشنی کو امام بنایا اور روح کی آواز پر لبیک کرتے ہوئے درد آشنا وفادار اور حقیقی لوگوں کے لئے راہیں منور کردیں۔
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ درد سب کے نصیب میں نہیں ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ دنیا کے دُکھ درد کو ہی اصلی درد سمجھ کر درد کی حقیقت سے روشناس ہوئے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں یا پھر اس دنیا میں رہ کر درد سے اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں۔ مندرجہ بالا سطروں میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اصلی درد کی پہچان کے علاوہ اس کی معراج تک پہنچنے کے لئے آہنی چنے چبانے کے ساتھ ساتھ زہر کے اتنے دریا گلے سے اُتارنے پڑتے ہیں ،جس سے جسم کے علاوہ روح کی ہر تار میں ایسا شور پیدا ہوتا ہے کہ دنیاوی شور اُس شور کے سامنے نہ کے برابر دکھائی دیتا ہے، اس شخص کے لئے عام درد کوئی بھی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ پیسوں کے آنے جانے کا درد، اولاد کی حیات و موت کا درد اور فصلوں کی کمی و بیشی کا درد وغیرہ، ایک حقیقی انسان کے سامنے صفر کے برابر ہے۔اگر گلشن کا راز سمجھنا ہو تو کانٹوں سے دامن کا اُلجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح درد سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے دُنیوی درد سے دب کر حقیقی درد سے نفرت کرنا عقل سے کورے لوگوں کا شیوہ ہے۔ جب روح کی تاروں سے درد بھرا گیت نکل کر آتا ہے تو ہر رَگ میں طوفان اٹھتا ہے جو لافانی دنیا کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس کو درویشی کہیے یا پھر جنون، درد سے میرا دامن خدا نے بھر دیا ہے۔ بات کہنے کا حق ہر کسی کو ہے، اسی طرح بات لکھنے کا بھی حق ہر انسان کو تولد ہونے کے ساتھ ہی میسر ہوتا ہے، لیکن وہی بات لکھی اور بولی جائے جس سے غور و فکر کے لاکھوں نہیں کم از کم ایک چھوٹا سا دریا ہی بہنے لگے۔ میں نے اس مضمون میں اور مضامین کی طرح اپنی بات قاریوں کے سامنے رکھی ہے۔ اپنی اس چند روزہ زندگی میں ہونے والے حادثات سے جو اسباق میں حاصل کرتا ہوں ،ان کو میں لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں۔ میں ہمیشہ اس نیت سے مضمون تحریر کرتا ہوں کہ کوئی قاری اپنا قیمتی وقت نکال کر میری تحریروں کو پڑھ کر زندگی کے متعلق پہلے سے ہی جمع شدہ معلومات میں مزید اضافہ کریں۔ میرے لحاظ سے میرا درد اُن کا درد ہے جو درد سے واقف ہوگئے ہیں اور اس کے خاطر جینا اور مرنا سیکھ گئے ہیں۔ جاتے جاتے میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دُنیاوی درد سے بڑھ کر کچھ ایسے درد ہیں جو آفاقی اور زمانے کے حدود و قیود سے پَرے اور ٹھوس ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حقیقی درد سے روشناس کریں اور دنیا کی عارضی لذتوں اور خوشیوں سے دور رہنے کی توفیق عطا کریں۔
(رابطہ۔7006031540)
[email protected]