دربہ گام پلوا مہ جھڑپ مہلوکین سپرد خاک

پلوامہ// دربگام پلوامہ میں سوموارکے روزفورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق دو جنگجوئوں اور ایک عام شہری کو سپرد لحد کیا گیا۔ ان کے نماز جنازہ میں ہزاروںلوگوں نے شرکت کی۔ حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈرسمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر ساکن دربگام اور انکے ساتھی عاقب احمد خان عرف مولوی ساکن راجپورہ پلوامہ کو منگل کے روز اپنے اپنے آبائی علاقوں میں لوگوں کی بھاری موجود گی میںسپردلحد کیا گیا۔ سب سے پہلے صبح 11بجے راجپورہ میں عاقب احمد خان کی نماز جنازہ سٹیڈیم میں ادا کی گئی۔ لوگوں کی تعداد اس قدر تھی کہ تین بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔اور بعد میں انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپردخاک کیا گیا۔اس کے بعد راجپورہ میں موجود لوگ جلوس کی صورت میں دربہ گام پہنچ گئے جہاں دو بجے نماز جنازہ کا ٹائم رکھا گیا تھا۔سمیر ٹائیگر کی 6بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔دربہ گام میں سروں کا سمندر تھا۔نہ سرف مرد اور نوجوان سیلاب کی صورت میں موجود تھے بلکہ ہزاروں خواتین بھی سینہ کوبی کررہی تھیں۔دربہ گام میں تین جنگجو بھی نمودار ہوئے اور انہوں نے ہوائی فائرنگ کر کے ساتھی کو سلامی دی۔مکمل ہڑتال اور فورسز کی جانب سے علاقے کو جانے والی راستوں پر رکاوٹوںکے باوجود گزشتہ روز بعد دوپہر سے ہی وادی کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداددربگام اور راجپورہ پہنچنے میں کامیاب ہو ئے اور رات بھر مارے گئے جنگجوئوں کے آبائی گائوں میں ہی قیام کیا۔منگل کو لوگ پیدل اور گاڑی کے چھتوں ،موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی غرض سے راجپورہ اور دربگام پہنچ گئے۔ادھر آری ہل میں جاں بحق ہوئے جواں سال شہری کو بھی سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سرپد خاک کیا گیا۔آری ہل میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو نعرے بازی کررہے تھے۔بعد میں نعروں کی گونج میں اسے سپرد لحد کیا گیا۔

گیلانی کا خطاب

 سید علی گیلانی نے دربگام پلوامہ معرکے میں جاں بحق ہوئے  سمیر احمد بٹ (سمیر ٹائیگر)، عاقب احمد وانی اور ایک کمسن شہری شاہد احمد بٹ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے یہ سرفروش اسلام اور جموں کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے سے آزادی کے لئے اپنی اٹھتی جوانیوں کو قربان کررہے ہیں ۔سمیر ٹائیگر کے جلوس جنازہ سے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں گیلانی نے کہا کہ عظیم اور مقدس مقاصد کے لئے اپنی جانیں دینے والے مرتے نہیں ہیں، بلکہ وہ ابدی زندگی حاصل کرتے ہیں اور انہیں کبھی مردہ مت کہو بلکہ یہ اپنے ربّ کے یہاں سے رزق بھی پاتے ہیں۔ حریت رہنما نے کہا کہ ہمارے شہداء کا خون قیمت میں حرم پاک سے بھی بڑھ کر ہے، لہٰذا ہمیں ہر صورت میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے ان عظیم شہداء کا خون ملازمت، سڑکوں، ڈیلی ویجری اور دوسرے حقیر مراعات کے عوض ان لوگوں کے ہاتھوں نہیں بیچنا چاہیے جو ہمارے معصوم نوجوانوں کے قتل میں براہ راست طور شریک ہیں۔ جن لوگوں کو ہم ووٹ ڈالتے ہیں وہی لوگ اس قتل غارت گری اور ہمیں غلامی کے دلدل میں پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ چاہے پنچائتی انتخابات ہوں، بلدیاتی انتخابات ہوں، پارلیمانی انتخابات ہوں یا اسمبلی انتخابات ہوں ہمیں ہر حال میں ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے۔