دربار مو ملازمین کی سرکاری رہائشی سہولیات ختم

سرینگر// جموں و کشمیر انتظامیہ نے بدھ کے روز 'دربار مو' ملازموں کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ان ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ یونین ٹریٹری کی دونوں دارالحکومتوں سر نگر اور جموں میں تین ہفتوں کے اندر اندر سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کریں۔انتظامیہ کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دربار مو کی قدیم روایت کو ختم کرنے کے اعلان کے کچھ دن بعد لیا گیا ہے ۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے 20 جون کو اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اب مکمل طور پر ای آفس کے ذریعے کام کاج سنبھال رہی ہے اس طرح ششماہی دوبار مو روایت کا خاتمہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دربار مو کے خاتمے سے انتظامیہ کو سالانہ دو سو کروڑ روپے بچ جائیں گے جن کو سماج کے پسماندہ طبقے کی فلاح وبہبود پر صرف کیا جائے گا۔اب یونین ٹریٹری کی دونوں دارلحکومتوں سرینگر اور جموں میں سیکریٹریٹ سال بھر چلتا رہے گا۔اسٹیٹس محکمے کے کمشنر سیکریٹری ایم راجو کی طرف سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سرینگر اور جموں میں دربار مو ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں کو منسوخ کرنے کو منظوری دی گئی ہے ۔سرینگر کے ملازمین کو جموں میں جبکہ جموں کے ملازمین کو سرینگر میں رہائش گاہیں دی گئی تھیں۔’دربار مو‘‘کے ایک حصے کے طور پر ، راج بھون ، سول سیکریٹریٹ اور بہت سارے دوسرے دفاتر سال میں دو بار جموں اور سرینگر کے مابین منتقل ہوتے تھے۔یہ مشق ، جس کے تحت انتظامیہ موسم سرما کے چھ ماہ کے دوران جموں اور گرمیوں کے دوران سرینگر میں کام کرتی تھی ، مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1872 میں شروع کیا تھا۔