دبستانِ کشمیر کے درخشاں ستارے اشرف عادل

‌جموں و کشمیر کی سرزمین ابتداء سے ہی علمی و ادبی اعتبار سے مردم خیز رہی ہے۔شروع سے ہی اردو زبان یہاں کے کلچر ،روایات ، تہذیب و تمدن اور لوگوں کے احساسات و جذبات کی ترجمان رہی ہے۔اس زبان نے ہمیشہ نئی تبدیلیوں کو اپنایا اور اپنا رشتہ عوام کے ساتھ قائم رکھا۔موجودہ دور میں اگرچہ اس زبان سے محبت میں کمی آئی ہے ،پھر بھی گھر گھر اردو کا رواج ہے۔جہاں اردو کو گھر گھر پہنچانے میں یہاں کے اخبارات ، رسائل و جرائد نے اہم کام انجام دیا ہے وہیں یہاں کے ادباء شعراء نے بھی عوام کو اس زبان سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جن ادباء و شعراء کی تخلیقات عوام اور ادبی دنیا میں یکسان مقبول ہیں ان میں ایک معروف نام اشرف عادل کا ہے۔
‌شیخ محمد اشرف1966 ء شہر خاص کے خانیار علاقے میں پیدا ہوئے، والد کا نام شیخ عبدالاحد ہے۔اشرف عادل کو نثر میں ڈرامہ اور شاعری میں غزل راس آئی۔تین دہائیوں سے ان دونوں اصناف میں لکھ رہے ہیں ۔پہلی تحریر ’’ آہ اردو زبان‘‘ کے عنوان سے آفتاب میں شائع ہوئی، جس میں ایک محب اردو کے حوالے سے اپنے جذبات رقم کئے تھے۔اس کے بعد شاعر(ممبئی) نے ان کی غزل چھاپی اور1993 ء میں انہوں نے اپنی گلوبل ڈائرکٹری میں ان کا نام شامل کیا۔اردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔کشمیری زبان میں پہلا ڈراما ’’ وقت کا فرشتہ ‘‘ 1992 ء میں لکھا۔اب تک آپ کی چار کتابیں لذت گریہ 2002 ء ، تمثیل داغ  2012 ء ، چاند کا ہم شکل 2016 ء اور الہام سے پہلے 2021 ء شائع ہو چکی ہیں۔
‌اشرف عادل کا تعلق کشمیر کے شعراء کی جدید نسل سے ہے۔ان کی غزلوں میں شدت سے عشق و محبت کی ترجمانی ملتی ہے۔وہ داخلی کیفیات کو ہی اپنی شاعری کا موضوع نہیں بناتے بلکہ کائنات کے دیگر معاملات ، انسانی رشتوں، خواہشات ، فضا کی وسعتوں ، آسمان کی بلندیوں ، زمین کی گہرائی کو نہایت سادہ بیانی اور فنکاری کے ساتھ موضوع بناتے ہیں۔ان کے رگ وپے میں کبھی کبوتر بولتا ہے تو کبھی ان کے اندر سخنور بولتا ہے، کبھی یہ قلم سے جنگ لڑتے ہیں تو کبھی ان کے ہاتھوں میں خنجر بولتا ہے، کبھی سبق دیتے ہیں کہ خدا کی رحمتوں پر بھروسہ رکھو اور یقین پختہ رکھو تو پتھر بھی بولے گا تو کبھی خواہشات کے در کو بند کرنے کا درس دیتے ہیں تاکہ حیات کا در کھلے۔اُردو ڈرامے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو مختلف ادوار میں مختلف مذہبی ، تاریخی اور ادبی شخصیات پر ڈرامے ملتے ہیں۔یہ ڈرامے کسی اہم شخصیت کو مرکز میں رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ان شخصیات میں شعراء بھی شامل ہیں۔آگرہ بازار کی مثال سامنے کی ہے جو نظیر اکبر آبادی پر لکھا ہوا ڈرامہ ہے۔پروفیسر ابن کنول نے بھی بزم داغ کے عنوان سے داغ دہلوی پر ڈرامہ لکھا ہے۔وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے شاعر اشرف عادل کو بھی بلبل ہزار داستان کی شاعری اور شخصیت سے خاص لگاؤ ہے۔انہوں نے داغ دہلوی کی زندگی اور شاعری کے متعلق مواد کا مطالعہ کیا، جس سے متاثر ہوکر تمثیل داغ کے عنوان سے ریڈیائی ڈرامہ تحریر کیا۔تمثیل داغ تین ایکٹوں پر مشتمل ریڈیائی ڈرامہ ہے جس میں داغ دہلوی کی زندگی ،شخصیت ، عشقیہ داستان اور اس دور کے ادبی ، سیاسی، سماجی ، ثقافتی صورتحال کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ اس ڈرامے میں داغ کی پیدائش سے لے کر یتیمی ، ماں کی دوسری شادی ، شاعری ، شہرت ، منی بائی حجاب سے ملاقات ، ان سے عشق ،حجاب کی بہن ، داغ کا کلکتہ کا سفر ، عظیم آباد میں سکونت ان سارے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ عادل اشرف نے زیادہ زور داغ اور حجاب کی عشقیہ کہانی پر دیا ہے۔زبان بھی سادہ اور عام فہم استعمال کی ہے اور کھٹن اصطلاحوں کو برتنے سے گریز کیا گیا ہے۔ ڈرامے کے مکالموں میں داغ کے اشعار کا بھی برسر موقع استعمال کیا گیا  ہے۔
‌ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈراموں کو مختلف نام دیے گئے۔اسے ریڈیو ڈرامہ، ریڈیو پلے ، براڈ کاسٹ پلے ، ریڈیائی ڈرامہ اور نشری ڈرامہ جیسے نام ملے۔یہ سماعتی پابندی کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور کرداروں کی گفتگو سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون نیک ہے اور کون بد۔ان کی شکل و صورت ، لباس ، ماحول سب کچھ مکالموں سے بیان ہوتے ہیں۔اخلاق اثر کے مطابق اردو کا پہلا دستیاب شدہ ریڈیو ڈراموں کا مجموعہ کرشن چندر کا دروازہ ہے۔اس مجموعے کے ڈرامے اکتوبر 1937 ء سے یکم مارچ 1941 ء کے درمیان آل انڈیا یا لاہور ریڈیو اور دہلی سے نشر ہوئے،اس مجموعے کا قدیم ڈرامہ بیکاری ہے،تب سے آج تک متعدد قلمکاروں نے اس صنف کی آبیاری کی۔وادی کشمیر میں بھی اس صنف کی طرف خاص توجہ دی گئی۔اشرف عادل نے بھی ریڈیو اور ٹی ڈرامے لکھے، ان کی کتاب چاند کا ہم شکل میں چار ریڈیو ڈرامے چاند کا ہم شکل ، قاتل لمحے ، نئے انداز نئے مجرم اور آستین کا سانپ اور چار ٹی وی ڈرامے لہو رنگ، تصویر ، زندگی کے آس پاس ، سنہرے خواب اور زہرآب شامل ہیں۔یہ ڈرامے وقتا ًفوقتاً ریڈیو کشمیر سرینگر اور دوردرشن کیندر سرینگر سے نشر ہوئے ہیں۔
عکاظ کے میلے ہوں یا بادشاہوں کے دربار شاعری کو ہمیشہ سامعین اور قارئین نے پسند فرمایا ہے۔ محفل شعر خوانی کی ریت پرانی ہے۔اس سے عوام کی تفریحی ہوتی ہے اور شعر و ادب کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔یہ ادب اور عوام کے درمیان پل ہے اور ادب کا رشتہ سماج سے استوار کرتا ہے۔طرحی مشاعرے بھی ادبی روایت کا حصہ رہے ہیں۔لکھنو ہو یا دہلی ان دبستانوں میں طرحی مشاعروں کا رواج رہا ہے کہ ایک مصرعہ دیا جاتا ہے جس پر شعراء طبع آزمائی کرکے تخیل کے جوہر دکھاتے ہیں۔اس میں شعراء کو ایک خاص زمین   میں شعر گوئی کے لیے پابند کیا جاتا ہے ۔اس میں شعراء کو یہ آزادی نہیں ہوتی کہ وہ آزادی سے بحر ، ردیف ،قافیہ کا انتخاب کر سکے۔طرح کے طور جو مصرعہ دیا جاتا ہے شعراء پر پابندی عاید ہوتی ہے کہ وہ اسی مصرعے کی بحر کو بنیاد بنا کر کلام کہے۔موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بدولت طرحی مشاعرے منعقد کرانا آسان ہوگیا ہے۔دنیا بھر کے شعراء ادبی فورمز کے ذریعے طرحی مشاعرے میں شرکت کرتے ہیں جس سے نو مشقوں کی تربیت بھی ہوتی ہے اور شاعری کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اشرف عادل نے دو ہزار گیارہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی فی البدیہ طرحی مشاعروں میں شرکت کرنی شروع کی۔انہوں نے جو غزلیں ان آن لائن طرحی فی البدیہ مشاعروں کے لیے لکھی ہیں ان کو کتابی صورت میں " الہام سے پہلے " 2021 ء میں منظر عام پر لایا۔اس شعری مجموعے میں ایک حمد اور ایک نعت کے علاوہ اٹھاون طرحی غزلیں شامل ہیں۔یہ ساری طرحی غزلیں مختلف ادبی فومرز بزم سخنوراں، فیس بک ٹائمز اسپین ، فورم بزم تخلیق ، فورم دیا، فورم عشق نگر ، فورم قوس قزح، فورم صبا آداب کہتی ہے اور فورم عبدالستار میموریل وغیرہ میں پیش ہوئی ہیں۔ان غزلوں میں اگرچہ زمین کلاسیکی شعراء کی ہے لیکن تخیل ، موضوع اور زبان و بیان اشرف عادل کا ہے۔ان غزلوں میں موجودہ دور کی صورتحال ، بچارگی ، محرومی اور دیگر مسائل کو تخلیقی اظہار بخشا گیا ہے۔اشرف عادل نے ایسے غزلوں میں نئی فضا اور نیا ذائقہ پیدا کیا ہے اور اپنا انفرادی تشخص برقرار رکھتے ہوئے انسانی زندگی سے جڑے گوناگوں مسائل کی عکاسی کی ہے۔اشرف عادل جنبش قلم کو اللہ کا کرم مانتے ہیں اور وقت کسی کا نہیں رہتا کی نوید بھی سناتے ہیں، سارے سہاروں کو جھوٹا گردان کر اقرار کرتے ہیں کہ ستارے مجھے غور سے دیکھتے ہیں۔ ان کا مدعا بھی کچھ اور ہے اور رہنما بھی کوئی اور ، یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم نے ایک نئی فکر شاعری کو عطا کی۔
اشرف عادل کی غزلیں ملک کے بہت سے رسائل و جرائد میں شائع ہوتی ہیں ۔اشرف عادل داغ فاؤنڈیشن کے علاوہ مختلف بین الاقوامی آن لائن فورمز کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ابھی لکھ رہے ہیں اور اپنی تحریروں سے گلدستہ ادب کو سجا رہے ہیں۔
(رابطہ :- 8493981240)