دانائے راز کا نظریہ ٔ احسان

حقیقت  عظمیٰ جاننے اور اس سے رابطے کے لئے انسان کے پاس چار طریقے رہے ہیں:مذہب،فلسفہ، تصوّف(سریت)اور شاعری۔سریت یا تصوف کو سرے سے رد کرناانسان کے  ایک حس کو معطل کرنا ہے۔ ان چاروں دبستانوں کو اپنی اپنی حد اختیار میںرکھ کر ان کو حقیقت کے کامل عرفان کا ذریعہ بنانا انسان کی کامل تشفی کا ضامن ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کی تعبیر و تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں۔مذہب کے ڈانڈے فلسفہ و سریت سے اور تینوں شاعری کے ہم نوا بن جاتے ہیں۔ اقبال دنیا کی ان چند بڑی ہستیوں میں شامل ہیں جو ا ن سب طریقوں سے اعتناء رکھتے ہیں اور یہ ان کی عالمگیر مقبولیت کی ایک وجہ ہے۔یہاں ہم ان کے تصوف کی جہت کے مطالعہ کے سلسلے میں چند اہم نکتے زیربحث لاتے ہیں۔ دوسرے اہم علوم جن میں فقہ، حدیث اور فلسفہ و سائینس کی بہت سی جہات اور ان کی ترقی شامل ہیں، کی طرح تصوف کے برگ و با ربھی  عرب سے باہر ہی ظاہر ہوئے۔تصوف عجم میں پھلا پھولا۔تصوف ہمیشہ سے دین کا حسن یا اس کی تکمیل یا اس کی اخلاقی و روحانی جہات کی بازیافت کے طور اسلام کا جزو لا ینفک یا مقصود گردانا گیا ہے۔اس کے لئے احسان کی اصطلاح مستعمل تھی۔ اکابر صوفیاء کے نزدیک یہ اخلاص فی العمل یا شریعت پر عمل کو تکلیف کے بجائے شوق و ذوق یا انہماک یا محبت کے دایرے میں لانے یا علم وعرفان کے زاویے کو زیرنظر رکھنے سے عبارت ہے۔ اسلام کی جامع روایت میںشریعت کی پاسدار ی( اگر چہ حقیقت کے بالمقابل اس کی عملی شکل جسے فقہ کہتے ہیں، کی اصولی اضافیت اور زما ن و مکان کی تبدیلی کی وجہ سے اس کی تکثیریت) ہمیشہ سے تصوف کا لازمہ رہا ہے۔تصوف یا سلوک کے اسintegral  تصور کے حوالے سے اکابرین علماء و صوفیاء کا اجماع رہا ہے۔ اسلام کی ہر بڑی شخصیت سلوک یا طریقہ احسانی یا عام الفاظ میں تصوف سے منسلک رہی ہے۔ یہ روایت آج تک جاری و ساری ہے۔ ابن تیمیہ ہوں یا ابن جوزی یا اکابرین اہل حدیث یا اکابرین دیوبند یا بریلی سب اصولی طور پرمعروف معنوں میں اہل تصوف میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ سید مودودی جن کے حوالے سے کافی بدگمانیاں پھیلائی گئیں، نے صراحت کے ساتھ تصوف سے اپنی وابستگی ظاہر کی ہے۔ جس تصوف کی وکالت مولانا تھانوی یا مولانا عبد القادر رائے  َپوری یا مولانا مناظر احسن گیلانی کرتے ہیں، اس کی روح مولانا مودودی بلکہ غامدی کے یہاں بھی واضح نظر آتی ہے۔ امام غزالی ہوں  یاشیخ سرہندی یا شاہ و لی اللہ یا کشمیر کے حوالے سے شاہ ہمدان یا شیخ العالم یا شیخ حمزہ مخدوم یا شیخ یعقوب صرفی رحہم اللہ ( سب اہم غیر متنازعہ مذہبی یا دینی شخصیات جن کااحترام اہل دیو بند یا اہل بریلی یا اہل حدیث سب کے نزدیک پایا جاتا ہے) سب ٹھیٹ معنوں میں صوفی ہیں اقبال چونکہ اسلامی روایت سے پیوستہ ہیں ا س لئے صوفی ہی ہو سکتے ہیں۔
  اقبال بنیادی طور پر صوفی مفکر اور شاعر تھے اگر چہ ا ن کو عام طور پر عجمی تصوف کے مخالف کے طور پر گردانا جاتا ہے لیکن اس تاثر کیلئے کسی حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ماہرین اقبالیات نے اقبال کی ایرانی یا عجمی تصوف پر تنقید کو ان کے کلام کے تناظر میں سمجھنے کی بھر پور کوشش نہیں کی ہے۔ اقبال عجمی تصوف کو اسلام میں اجنبی پودا تصورنہیں کرتے ہیں اور ان کو ہم ایرانی صوفیانہ مفکر ین کی صف میں کھڑا دیکھ سکتے ہیں   اور ان کو کچھ صوفیاء پر تنقید یا تصوف کو باہری اثرات سے پاک کرانے یا اسلامائز کرنے کی سعی انہیں عجمی صوفیہ کی صف سے الگ نہیں کرتی ہے۔ ان کااختلاف عجمی صوفیہ سے دراصل تعبیر کا اختلاف ہے اور بڑی حد تک نزاعِ لفظی۔
اس مقالے میں اقبال اور تصوف پر ہوئی پرانی بحث اور اس موضوع پر مختلف اقبالی تحریروںکو کھنگالنا اور اصل حوالوں سے نقل کرنا  مقصودنہیں بلکہ ایک مختلف زاؤئے سے ان اہم نکات کا تجزیہ کرنا ہے جن کو عام طور پر اس سلسلے میںاُٹھایا جاتا ہے اور اقبال کی قیاسی تصوّف(بالخصوص عجمی تصوف) دشمنی پر ان کی جو مختلف تحریریں ناقابل تردید شہادت کے بطور پیش کی جاتی ہیں، ان کا ایک مختصر جائزہ لینا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ و  مجموعی طور پر خود ایک عجمی صوفی نظر آتے ہیں۔اقبال نے عجمی صوفی شاعری کومخربِ اخلاق کہا۔  حافظ پر شدید تنقید کی۔ ایسی تنقید پر برصغیر کے اکثر تصوف پسند حلقے شدید برہم ہوئے اور اقبال کو حافظ ہی کانہیں تصوف کا دشمن قرار دیا گیا ۔  تصوف کے کچھ بنیادی تصورات جن میںنفی خودی، توحید و جودی، قرآن کی باطنی تعبیر شامل ہیں، رد کئے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ انہوں نے عجمی تصوف کو دور انحطاط کے سا تھ جوڑ دیا ۔ یہ بھی مسلّمہ امر ہے کہ انہوں نے ابن عربی کے مختلف نظریا ت کو شدید نتقید کا نشانہ بنایا ۔ اس کے  لئے صوفی ما بعد الطبیعات میں تنزلات ستہ،قدمِ ارواحِ کاملہ جیسے نظریات صحیح نہیں ہیں۔ اقبال کے کچھ مشہور جملے اور وہ سارے بیانات جو  ان کی عجمی تصوف کے تئیں تا قدانہ انداز فکر کے غماز ہیں کو زیر نظر رکھ کر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ عجمی تصوف کے بڑے مفکرین میں سے ہیں؟سب سے پہلے ہم اقبال کے بنیادی تصورات جن کا تعلق ان کی صوفیانہ فکر سے ہے ،کے متعلق کچھ نکتے پیش کر تے ہیں ۔ 
اقبالی فکر کا مرکزی نکتہ تصورِخودی ہے۔ احساسِ خودی صوفیانہ فکر کی اساس ہے، اگر اس بات پر خاص زور دیا جائے کہ ’’میں‘‘ کہنے کا حق حقیقت میں اللہ کو ہے، اور بند ے کو تب ہی جب وہ بقا باللہ کے مقام پر پہنچے۔ اقبال کے نزدیک بھی خودی تب ہی مستحکم ہوتی ہے جب اسے خدا کا قرب نصیب ہو۔ اقبال نے، جیسا کہ میکشؔ اکبر آبادی نے لکھا ہے، بقا با للہ کیلئے خودی کا لفظ استعمال کیا اور انسان کا مل کیلئے مرد مومن کی اصطلاح ۔
یہ بات اگر چہ صحیح ہے کہ صوفیانہ لٹریچر میں خودی کو ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے اور لفظ خودی عام طور پر منفی معنوں میںمستعمل  ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اقبال اسی منفی تصورِ خودی کو مستحکم کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ صوفیانہ ادب میں کہیں کہیں پر خودی کو مستحسن معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس بات پر بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ اقبال نے تکبرّ کے معنی میں اس کا استعمال کیاہے یا فرعونی خودی کی وکالت کی ہے ،اگر چہ شجاع الحق کو  Forgotten Truth  میں یہ تسامح ہو اہے۔ اقبال نے دراصل عبد اور معبود ،نفس اور روح ، محدود اور لامحدود اور اضافی اور مطلق کے مابین فرق کو ملحوظ رکھنے کیلئے اس بات پر شدّت سے زور دیا ہے ۔ تمام اکابرصوفیہ نے عبد اور معبود کے بنیادی فر ق کو ملحوظ نظر رکھا ہے اور ابن عربی نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ بندہ اور خدا ایک نہیں ہیں۔ ان کے الفاظ میں خدا کتنا  ہی تنّزل احتیار کرے بندہ نہیں بنتا اور بندکتنی ہی ترقی کرے خدا نہیں بن سکتا ۔ توحید و جودی کے معنی ہر گز یہ نہیں کی خدااور بندہ ایک ہو جاتے ہیں ، شریعت منسوخ ہو جاتی ہے، ثواب اور گناہ کی تفریق مٹ جاتی ہے اور انسان غیر مکلف ہو جاتا ہے۔ابن تیمیہ کی ابن عربی پر تنقید بڑی حد تک غلط فہمی اور غلط معلومات کا نتیجہ ہے کہ آج جب کہ ابن عربی پر کافی کام ہو چکا ہے، یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال متاخرین کو وحدت الوجود کے متعلق سے بڑی غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔ اقبال بھی آخر عمر میں اس انتہائی نازک فرق کو پوری طرح پہچان گئے تھے جو وحدت ا لوجود کی صحیح اور ملحدانہ تعبیر میں ہے۔ اور اس کے متعلق خاموشی ہی اختیا ر کرنے کو کہتے تھے۔
 اقبال آخر عمر میں وجودی ہوگئے تھے یا نہیں، اس بات پر الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اقبال کے ہر دورکے کلام میں قریب قریب  اسی منہاج اور اسی ضابطہ اخلاق کی بات کہی گئی ہے جو اکابر صوفیا کے ہاںہمیں ملتا ہے۔’’ اسرار خودی‘‘ میں جس ضابطہ اخلاق اور پابندیٔ شریعت کی بات کہی گئی ہے ،وہی اکابر صوفیاء کے ہاں بھی ہے ۔ اقبال کو تصوف کے فلسفہ بننے پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض اکابر صوفیہ کو بھی ہے اور بہ حیثیت فلسفہ تصوف پر نا قدانہ نگاہ ڈالی جاسکتی ہے ۔شہودیوں کا وجودیوں سے اختلاف دراصل اسی فلسفہ کے حوالے سے ہے ۔ تصوف اکابر صوفیا ء کیلئے اخلاص فی العمل ہی کا نام ہے اور فلسفیانہ مسائل پر موشگافی تصوف کا بنیادی طورپر Mandate  ہے ہی نہیں۔ تصوف کا مقصود اللہ سے قر ب، بقا باللہ یا معرفت الہیٰ ہے۔ اس کے لئے وجودی یا شہودی ہونا غیر متعلق مسئلہ ہے ۔اخلاقیات پر وجودیوں اور شہودیوں کے مابین کوئی بنیادی نزاع ہے ہی نہیں۔ شریعت کی پابندی دونوں کے ہا ں اصولی طور پر مسلّم ہے، عبد و معبود ، ہدایت وضلالت، نیکی و گناہ ، حلال و حرام کا فرق دونوں نظریوں میں ملحوظ نظر رکھا گیا ہے۔ 
یہ بحث بھی ہمارے بنیادی ادّـعا پر کوئی اثر نہیں ڈالتی ہے کہ وحدت الشہودیا وحدت ا لوجود میں سے کون سلوک کی اعلیٰ منزل ہے ۔ مقصد اگر نجات ہے یا ؎عرفان الہیٰ تو یہ بات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں کہ سا لک کو سب کچھ ایک دکھے یا خالق سے اپنی مغائرت کا احساس ہو۔ ایک ہی سالک مختلف حالتوں میں دونوں طرح کی کیفیات سے گزر سکتا ہے جب ہم غیر کی طر ف نگاہ مرکوز کریں اور خود کا احساس ختم ہوجائے تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ بندگی کی جہت سے ماورائت ہو جاتی ہیں ۔ شاید یہ بات ہرشخص وہ صوفی ہو یا نہیں پرمنطبق ہوتی ہے کہ وہ کبھی شہودی ہو جاتا ہے اور کبھی وجودی ۔ جب کچھ خاص لمحات میں ہم دنیا و ما فیہاسے بے گانہ ہو جاتے ہیں اور عارف و معروف میں فاصلے ختم ہو جاتے ہیں ، تو ہم وجودی ہو جاتے ہیں لیکن یہ کیفیت لمحاتی ہو تی ہے اور پھر ہم معلوم دنیا میں واپس آتے ہیں تو ہم  شہودی بن جاتے ہیں ،یہ دونوں تجربات ہیں اور دونوں عام معنوں میں وقوفی cognitive   نہیں ۔ تصوف اور دوسرے سرّی فلسفوں اور مذاہب کے مطابق Experiencer   بیچ میں ہٹنا چاہیے، تب ہی اللہ یا حقیقت کا عرفان ممکن ہے ۔ خدا کا عرفان کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے متعین کیا جاسکییا جس کا ٹھیٹ معنوں میں تجربہ کیا جاسکے۔ گسستن اور پیوستن کی اصطلاحیں جو اس سلسلے میں وضع کی گئی ہیں حقیقی اختلاف کو ظاہر نہیں کرتیں۔وصال مطلق معنوں میں کبھی ہوتا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی بڑے عجمی یا غیر عجمی صوفی نے اس کادعویٰ کیا ہے ۔ وائٹہیڈنے اپنی مشہور کتاب ’’دور جدید میں سائنس ‘‘ میںسرّی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوے خدا کو ناممکن الحصول تلاش Unattainable quest سے تعبیر کیا ہے۔ اگر ہم ذرا غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا کسی ایسی شئے کا نام نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ وہ یہ ہے یا وہ ہے اور جس کا ہم تصّورکر سکیں ، یا جس کا تجربہ کر سکیں ۔ خدا کو پانا کسی Feeling   یا جذبے کا نا م بھی نہیں ہے ۔ خدا کیا ہے؟ اس کے مختلف جوابات دئے گیٔ ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ وہ زندہ حقیقت ہے مومنین کیلیٔ ۔ وہ محیط ہے۔ ہر لمحہ کو ،اس کی شان نرالی ہے۔ وہ زندگی کی غیوبیت Mystery ہے۔ اُس کاظہور چار سُو ہے ،ہر چیزاُسی سے ہے ۔ زندگی ، ہر دم رواں جا وداں زندگی جو ہر آن نئے رنگ میں دکھتی ہے ،جو ہر لمحہ آگے کی اور کسی نامعلوم منزل کی طرف گامزن ہے، دراصل اپنے اند ر خدا کی صفات کی جلوہ گری ہے۔ ہر طرح سے محدود انسان کیلیٔ خدا کی لامحدودیت کا مکّمل تجربہ ممکن نہیں، جیسا کہ اسلام کے اس عقیدے کہ خدا کا دیدار اس دنیا میں ممکن نہیں ہے، سے متشرح ہوتا ہے۔ آخرت میں بھی ان معنوں میں دیدار خداوندی ممکن نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ وصال اپنے مطلق معنوں میں ہو گیا ۔ اللہ تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور جیسا کہ غزالی نے وضاحت کی ہے وہ نور ہے جس سے آنکھیں دیکھ پاتی ہیں وہ نہ آسمان میں، نہ زمین میں نہ ان سے پرے کوئی مخصوص شئے ہے۔ Theology (خدا کے متعلق علم) دراصلAutology (ذات کا علم)ہے جیسا کہ مشہور عالم مذاہب وسرّیت آنند کمارا سوامی کہتے تھے ۔ بندہ بندگی یا عبودیت سے مطلق معنوں میں وراییٔت کبھی بھی نہیں حاصل کر پاتا ہے ۔ شان بندگی دے کر شان خداوندی لینا کسی بھی سرّی مفکر یا صوفی کے نزدیک ممکن نہیں ۔ اگر خدا مطلق شعور اور وجود کا نام ہے تو یہ زماں ومکاں میں قید جسم سے بندھے بندہ کیلئے ناممکن الحصول ہے۔ بندہ سے اضافیت کیحدبندی کسی بھی طریقے سے ہٹائی نہیں جاسکتی ۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ صوفیاء نے عشق کی فراوانی ، اس کی افزودگی اور ابدیت کی بات کی ہے ۔ صوفی محبت سے عبارت ہے صوفی کا محبوب کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا اسی لئے محبت کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ ذات ِخداوندی گہرا ئیوں  میں اَن گنت پردوں کے اندر چھپی ہوئی ہے ۔ ان گہرائیوں میں کسی بھی شخص یا ولی کی مکمل رسائی کبھی ممکن نہیں ۔ صوفی کو دائمی محبت اور نہ ختم ہو نے والی تلاش ہے ۔ وصال ہرآن بس ہونے کو ہوتا ہے لیکن ہوتا نہیں۔ صوفی شاعری میں اسی لئے شکایتیں ہیں۔ شنکر جیسے وید انتک وجودی کیلئے بھی منا جات کے بغیر چارہ نہیں ۔ ابن عربی جو اسلام میں وجودیوں کے سرخیل تسلیم کئے جاتے ہیں ،کو بھی گڑ گڑا نے سے کبھی مفر نہ ہو ا ۔ حضور ﷺ کا عبادت میں انہماک اس حد تک تھاکہ پائے مبارک متورّم ہوجاتے تھے۔ اس لئے اقبال کا صوفیوں سے اس بارے میں کوئی بنیاد ی ختلاف ہوہی نہیں سکتا کہ وہ خود کو فراق کا نمائندہ سمجھتے ہوں اور اکثر صوفیا کو وصا ل کا۔ یہ ضرور ہے کہ ہر صوفی کو وصال کی تمنا ہے اور اقبال کو بھی ہم کنار یا بے کنار ہونے کو خواہش ہے اور یہ مطلق وصال کی خواہش ہی زندگی کو معنی دیتی ہے ۔ 
 یہ بات کہ عجمی تصوف کی شاعری دور الخطاطہ میں ہو ئی ہے یا الخطاط کیلئے ذمہ دار ہے، تاریخی حقائق سے براہ راست ٹکراتی ہے۔سید حسین نصر نے اس الزام کا تشفی بخش جواب دیا ہے، ہر تہذیب میں دورِ عروج میں سرّی شاعری ہوئی ہے۔ سرّی یا صوفیانہ شاعری اعلی قسم کی تخلیقی کاوش ہے ۔بحیثیت آرٹ اس کا اعلیٰ مقام ہے ۔حافظ کی شاعری کی جمالیاتی اہمیت تاج محل اور الحمراء سے کم نہیں ۔ اگر صوفیانہ شاعری سُلا دیتی ہے تو آرٹ کے اکثر مظاہر بھی ایک خوش آئندسُکر کی کیفیت ناظرین یا سامعین پروارد کرتے ہیں(سکر کو صرف بے ہوشی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے، یہ روح کی آسودگی بھی ہے) ۔فن خواہشات اور جذبات کا ٹھہراؤ ہے جیسا کہ جوائس نے اپنی مشہور ناول  A Portrait of the Artist as a Young Man   میں وضاحت کی ہے۔ مشرقی جمالیات کا بھی یہی رجحان ہے خوبصورتی ایک قدربڑی حد تک اسی لئے ہے کہ وہ انسان کو زماں و مکاں سے ماورایئت کا حسین احساس دیتی ہے۔ روح کے نہاں خانوں میں جہاں انبساط ہی انبساط ہے، کی اور ہمیں لے جاتی ہے۔ سارے مذاہب کا مشترکہ نظر یہ ہے کہ نجات کیلئے عمل نہیں بلکہ روحانی آسودگی، Becoming نہیںBeing بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ محبت بھی تو خوبصورتی کی ایک قسم ہے ۔ موسیقی کو مسلمہّ اہمیت کے پیچھے وہ سکُر کی کیفیت ہی ہے جو اس سے پیدا ہوتی ہے ۔ کیا محبت یا عشق جس کے اقبال مویٔدہیں، سُکر کی ایک قسم نہیں ؟ ذکر و فکر ، سوز وساز، عبادت و مناجات سب میں ایک لطیف قسم کی سُکر جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ زندگی کا حُسن اسی سُکر کی وجہ سے ہے جسے اقبال حافظ کا زہر کہتے ہیں۔معرفت تو ایک شراب ہی ہے۔ جب محبوبِ ازلی جھلکیا ں دکھاتا ہے تو کس زلیخا کے بس میں ہے کہ ہوش بحال رہے۔محبوب کی ایک جھلک دیکھ کر ا نگلیاںتو کیا عاشق تو سینے تک چھلنی کر دیتے ہیں ۔ ممتا اور پیار کے مختلف رنگوں کا حسن ان میں سُکر کا عنصر ہے۔ Transcendence ، جو مذہب کی جان ہے، میں سُکر کی وجہ سے کشش ہے۔ 
(بقیہ سوموار کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)