خیر خواہی اورموجودہ طرزِ زندگی ! ہمارا معاشرہ

ہارون ابن رشید ۔ ہندوارہ

کہاں گئے وہ دن جب ہم ایک دوسرے سہارے جیا کرتے تھے ، دکھ درد اور خوشیوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتےتھے، _ امیر تھا یا غریب ہر انسان میں مذہبی رواداری ، مساوات اور بھائی چارے کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، _ ایک ساتھ روتے تھے اور ایک ساتھ مسکراتے تھے، تب وہ لوگ غربت تھے لیکن پُر سکون اور فرحت بخش زندگی گزارتے تھے، غریب کی وہ تمام اَڑچنے اور سختیاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بانٹتے تھے اور ایک دوسرے کو دلاسہ دیکر زندگی کے مزے لیا کرتے تھے۔ _ جس غلام ملک میں وہ لوگ رہتے تھے ،اُس ملک کو آزاد کرنے میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کے ساتھ انگریزوں کے ساتھ لڑ کر آزادی حاصل کی اور مل کر فاقہ کشی کرتے ہوئے اس کو آزاد اور جمہوری ملک بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔لیکن پھر انسان اپنی نظریں دور کی منزلوں کی طرف دوڑانے لگا اور وہ غریب کی تمام آزمائشوں سے تنگ آکر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے لگا لیکن اس دوڑ میں انسان اصلی وجود و حقائق سے دور ہوتا گیا، یہاں تک کہ اشرف المخلوقات ہو کر بھی معاشی حیوان بن بیٹھا، _ اس کے بنیادی محرکات یہ ہیں کہ انسان نے مذہب کے اصولوں کی پابندی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری سے اپنی توجہ ہٹا کر بے راہ روی ، منشیات کے دھندوں اور بے حیائی کے طور طریقوں میں داخل ہوگیا ۔موجودہ دور میں انسان اگرچہ معاشی طور خود کفیل ہے اور مجموعی طور آرام دہ زندگی بسر کرتے ہیں لیکن سکون نام کی کوئی چیز اُس میں نہیں ہے۔ _ اس کے بنیادی محرکات ہیں کہ انسان مادیت پرستی کی وجہ سے اپنی حقیقی وجود سے جان کر بھی آشنا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں حلال و حرام اور حق و باطل کے درمیان تفاوت کرنے سے انسان قاصر رہتا ہے۔ _ آج سے پہلے کئی دہائی لوگوں کی رشتہ داری اور ہمسا‌ئیگی اتنی مضبوط تھی کہ کوئی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا تھا، ہر ایک اپنے سے دوسرں کی بجائی اور خوشحالی میں خوش ہو جاتا تھا ،عبادت و عیادت اور خوش و غم کی تقریبات و دیگر معمولات زندگی حسین و جمیل تھیں۔ _ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں انسان اقتصادی اور معاشی طور خود کفیل نہیں تھا ، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر ایک شخص ایک دوسرے کا معاون و مددگار ہوتا ہے لیکن جوشاہی گدیوں پر برا جماں ہوتے ہیں ، ٹھیک ہے کہ جو انسان ترقی کی دوڑ میں غلط طریقے سے پیسے بٹور کر آگے بڑھتے ہیں ،وہ ہر اعتبار سے پریشان ہوتا ہے _ ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر آج بھی انسان مذہبی اصولوں اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے تو عین ممکن ہے کہ انسان ترقی کے ساتھ ساتھ پُر امن اور خوشحال زندگی گزار سکتا ہے۔ _ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان خودغرضی ، لالچ ، دھوکہ‌بازی اور فریب کاری سے اپنے آپ کو دور رکھ کر انسانوں کی طرح زندگی گزاریں، اس ترقی یافتہ دور میں انسان کو اپنے حقیقی وجود کی طرف اپنی نظریں مرکوز کرنی لازمی ہیں _ تاکہ انسان اپنے نفس کے ساتھ ساتھ دوسرں کے لئے بھی خیر خواہ اور ہمدرد ثابت ہو سکے تو ضرور وہ انسان زندگی کے غموں سے نکل کر خوشحالی کی طرف گامزن ہو جائے گا _۔
[email protected]