’خیالات کی جنگ ‘کا نعرہ بے معنی: فریڈم پارٹی

 سرینگر//ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سرینگر اور اننت ناگ (اسلام آباد) میں آزادی پسند عوام کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے سخت کرفیو اور بندشیں عاید کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”خیالات کی جنگ “کا نعرہ سراب ثابت ہوگیا ہے۔لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عاید کئے جانے کیخلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد عبد اللہ طاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اُن حکمرانوں کی اصلیت عوام کی نظروں میں بالکل واضح طور پر آگئی ہے جو کہتے تھے کہ ”جمہوریت خیالات کی جنگ ہے“۔انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا کے اندر لوگوں کے بنیادی حقوق میں یہ پہلا حق ہے کہ لوگ پر امن طور احتجاج کریں،ریلیاں نکالیں یا جلسے منعقد کریں لیکن کشمیری عوام جب بھی ایسی کوئی کوشش کرتے ہیں تو کرفیو اور بندشوں کے ذریعے اُن کا یہ حق بھی سلب کیا جاتا ہے۔ مولانا طاری نے کہا کہ پر امن کشمیری عوام کو سزا دینا اور اُنہیں ہراساں کرنا یہاں کے ہر حکمران طبقے کا شیوہ رہا ہے اور ہر حکمران عوام پر ظلم و بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کرتا آرہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام گذشتہ 70برس سے استقامت کے ساتھ اُن حقوق کی خاطر بر سر جد جہد ہیں جنہیں ساری دنیا تسلیم کرچکی ہے اور متنازع خطے کے حکمرانوں نے ہر دور میں نئی دلی کے خاکوں میں ہی رنگ بھرا ہے اور انہوں نے کبھی بھی یہاں کے عوام کو پر امن طور آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔مولانا طاری نے درجنوں آزادی پسند لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر گرفتاریاں،پابندیاں اورکرفیو نافذ کرنے سے مسائل حل ہوجاتے تو دنیا کے اندر اس وقت کوئی بھی تنازعہ موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کشمیر تنازعہ کو عوام کی مرضی کے مطابق حل کیا جانا ہے تو اُس کیلئے با معنی مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے جو پابندیاں عاید کرنے اور جمہوری حقوق سلب کئے جانے سے نہیں ہوگا۔مولانا طاری کا کہنا تھا کہ فریڈم پارٹی کے محبوس و علیل سربراہ جناب شبیر احمد شاہ کی سیاست کی بھی یہی بنیاد رہی ہے جو اس وقت دلی کے بد نام زمانہ تہار جیل میں پابند سلاسل ہیں۔