’خون چاہے جنگجوئوں کا بہے یا فوجیوں کا۔ خون ایک ہے‘

بنگلورو //کشمیر میں امن وامان قائم کرنے، کشمیری عوام اورمارے گئے فوجی جوانوں کے خاندانوں کے دکھ اور درد کوسمجھنے کے لئے ’ پیغام محبت‘ مہم کا آغاز کیا گیا۔ بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکرنے اس مہم کا آغازکیا ۔آشرم نے محبت اورانسانیت کی بنیاد پرایک حساس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کے آشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔’ پیغام محبت‘ عنوان سے ہوئے اس پروگرام میں ایک جانب ملی ٹنسی سے متاثر افراد موجود تھے تو دوسری طرف  فوجی جوانوں کے اہل خانہ۔اس موقع پر کہا گیا کہ خون چاہئے ملی ٹنٹوں کا بہے یا فوجی جوانوں کا۔ خون ایک ہی ہے، دکھ درد ایک ہی ہے۔ لہذا آشرم نے ملی ٹنسی میں اپنوں کو کھونے والے متاثرہ خاندانوں اورفوجی جوانوں کے خاندانوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کی ہے۔ روی شنکر نے کہا کہ مسئلہ کے حل کی جانب انہوں نے ایک چھوٹا قدم اٹھایا ہے۔ اس پروگرام سے قبل آشرم کے رضاکاروں نے ملی ٹنسی سے متاثر خاندان اور فوجی جوان کے خاندانوں کی آپس میں ملاقاتیں کروائیں۔ایک دوسرے سے ملنے، آپس میں بات چیت کرنے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد آشرم آئے ہوئے تھے۔ روی شنکر کی کوشش کو سراہتے ہوئے متاثرہ افراد نے کہا کہ کشمیر میں خوان خرابہ بند ہونا چاہئے، مسئلہ کا حل گولی سے نہیں بات چیت سے ہونا چاہئے۔  روی شنکر نے کہا کہ اْنکا آشرم  2004 سے کشمیرعوام سے بات چیت کرتا آرہا ہے۔ آشرم کے نمائندوں نے کشمیر کے ہرطبقہ سے مذاکرات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکی اس پہل کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی وہ حکومت کے ایجنٹ کے طور پرکام کر رہے ہیں۔