خوشحال سر جھیل گندی نالی میں تبدیل فطرت کے اثاثہ کو آلودگی اور تجاوزات سے بچانا ہوگا

عارف شفیع وانی

صاف و شفاف پانی کیلئے مشہور سری نگر کی خوشحال سر جھیل انسانی بستیوں سے نکلنے والے بدرو نالیوں کے مسلسل بہاؤ کی وجہ سے غلاظت کے تالاب میں تبدیل ہو گئی ہے۔خوشحال سر نالہ امیر خان نہر اور گلسر جھیل کے ذریعے ڈل جھیل کے خارجی نہروں میں سے ایک بناتی ہے۔ چند دہائیاں قبل تک یہ جھیل سیاحوں کا پسندیدہ ٹھکانہ تھی۔ جھیل مچھلیوں اور مہاجرپرندوں کی بہت سی اقسام کی میزبانی کرتی تھی۔ یہ ندروکے تنےکیلئے بھی مشہور تھی ،جو مقامی کسانوں کے لئے روزی روٹی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

رفتہ رفتہ، بے لگام تجاوزات، خودرُو پودوں کی افزائش اورآب گیرہ کے گندے پانی کی وجہ سےخوشحال سر کا پانی جمود کا شکار ہوا اور بدبودار ہو گیا۔جھیل کی آخری باقیات پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی جا رہی ہیں، خاص طور پر علی جان روڈ کی جانب سے جھیل کے حصے کو تجاوزات کا سامنا ہے۔ جھیل کواس لئے تجاوزات کا سامنا ہے کیونکہ ابھی تک کسی بھی محکمے کے پاس سرکاری طور پر اس کی ملکیت نہیں ہے۔ محکموں کی جانب سے جھیل کی ذمہ داری ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی وجہ سے لینڈ مافیا کو آہستہ آہستہ جھیل کو دفن کرنے اور تعمیرات کرنے کےلئے کھلا ہاتھ مل گیا ہے۔ اب ایک جھیل سے بڑھ کر یہ کنکریٹ کے جنگل اور گندے پانی کے تالاب میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جھیل کے اندرونی حصوں پر بھی بنیادی طور پر بھرائی کے ذریعے زرعی اراضی کی توسیع دیکر تجاوزات کی جا رہی ہیں۔ جھیل ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔

یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی طرف سے جھیل کے تحفظ کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں مکانات و شہری ترقی محکمہ نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ ایک پرفیرل سیوریج سکیم شروع کی تاکہ خوشحال سر میں سیوریج کے داخلے کو روکا جا سکے اور اسے سائنسی طریقے سے ٹریٹ کیا جا سکے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس منصوبے کو جزوی طور پر عمل میں لایا گیا۔

حکومت نے 2002 میں خوشحال سر کے تحفظ کےلئے61کروڑ روپے کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا تھا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے منظور شدہ اس منصوبے میں زمین کی بھرائی، غیر قانونی شجرکاری اور تعمیرات کے ذریعے تجاوزات کو ہٹا کر جھیل کی حفاظت اور ترقی کا تصور کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد جھیل کی حد بندی اور باڑ لگانا اور خوشال سر میں مزید تجاوزات کو روکنے کےلئے فارسٹ پروٹیکشن فورس کے اہلکاروں کو تعینات کرنا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی دفن ہو گیا۔
سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ خوشحال سر کے کیمیائی پیمانے قابل اجازت حد سے زیادہ خطرناک حد تک بگڑ گئے ہیں۔ جھیل زہریلے مواد کی ڈمپنگ سائٹ بن گئی ہے جس کے نتیجے میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ایک مقامی ماحولیاتی گروپ نگین لیک کنزرویشن آرگنائزیشن (NLCO) گلسر جھیل کے ساتھ ساتھ آبی ذخائر کو صاف کرنے کے لئے گزشتہ تین سال سے رضاکارانہ طور پر کوششیں کر رہا ہے۔ اس اقدام نے کم از کم کئی دہائیوں پرانے جمع شدہ کوڑے کو آب گاہ سے ہٹانے میں مدد کی ہے۔

تاہم خوشحال سر کی شان کو بحال کرنے کے لیے حکومت کی فعال مداخلت کی ضرورت ہے اور NLCO جیسے متعلقہ ماحولیاتی گروپ مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ محدود وسائل اور مشینری کے باوجودNLCO نگین، خوشحال سر اور گلسر جھیلوں کے تحفظ کے لئےمعاشرے کے حصے کے طور پر اپنا کام کر رہا ہے۔ اپنے مشن احساس کے تحت، NLCO نے گزشتہ تین سال میں گلسر ،خوشحال سر جڑواں جھیلوں سے 4000 ٹرکوں سے بھرے کچرے کو ہٹایا۔
چونکہ آبی ذخائر کے تحفظ میں یکے بعد دیگرے حکومتوں کےلئے فنڈنگ اہم رکاوٹ رہی ہے، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کا کوئی کلچر نہیں ہے۔ شاید ہی کوئی سرکاری، نیم سرکاری یا پرائیویٹ ادارہ ہو جو وادی میں زمین پر ماحولیات کی بہتری کے لئے سرگرمی سے کام کر رہا ہو۔

جموں و کشمیر سے باہر بہت سی جھیلوں جیسے پنجاب، بنگلورو اور چنئی کو کارپوریٹس نے CSR کے تحت بحال کیا تھا۔ معدومیت کے دہانے پرجنوب مشرقی بنگلورو میں 35 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہیباگوڈی جھیل کو ایک کمپنی نے CSR کے تحت بحال کیا اور اس کے پانی کے معیار کو بہتر بنانے اور نباتات اورجمادات کی واپسی کے بعد اسے لوگوں کےلئے وقف کیا۔

ایک کولڈ ڈرنک کمپنی نے کرناٹک میں اماو سیا کیرے اور تھوبن کیرے میں دو جھیلوں کو کامیابی کے ساتھ بحال کیا۔ یہ پھلتے پھولتے آبی ذخائر، جو کہ مقامی زراعت کو سپورٹ کرتے ہیں اور متنوع ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھتے ہیں، تیزی سے صنعتی اور زرعی ترقی سے متاثر ہوئے تھے۔سائنسی مداخلتوں کے بعد ان آبی ذخائر کو CSR کے تحت دوبارہ محفوظ کیا گیا۔

اسی طرح کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت ایک کمپنی نے چنئی کے شولنگنالور میں ایک درمیانے درجے کی آبگا ہ انائیکینی تالاب کو بحال کیا۔ تالاب، جو 10,000 سے زیادہ لوگوں کے لئے پینے کے پانی کا ذریعہ تھا،کو کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیاتھا۔ کمپنی نے چار ٹن آبی گھاس اور دیگر خود رو گھاس پھوس کوہٹاکر اسے صاف کیا۔

ہمارے یہاں بھی اسی طرح خوشحال سر کی طرح بہت سے آبی ذخائر اورآبی ہناہ گاہیں ہیں جن کے تحفظ کےلئے اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بیشتر آبی ذخائر کو آلودگی، گاد اور تجاوزات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور انکے تحفظ کے لئے ایک ہی حل کی ضرورت ہے۔ اگر ارادہ ہے تو ہم بھی راستہ نکال سکتے ہیں۔

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے زیادہ ہمیں اپنی فطرت کی حفاظت کے لئے عام آدمی کی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوشحال سر کا تحفظ ڈل جھیل کی صحت اور اس کی ہائیڈرولوجی اور کشمیر کے مجموعی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کےلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہم گھر، سڑکیں، پل اور فلائی اوور تو بنا سکتے ہیں لیکن جھیلیں نہیں بنا سکتے۔ ہمیں آبی ذخائر کو مقدس اور فطرت کی ملکیت سمجھنا ہے۔ ہمیں قدرتی اثاثوں کے نگہبان کے طور پر کام کرنا ہے نہ کہ تباہ کرنے والے!
(مضمون نگار انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہیں۔)

(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)