خوشحال جموں و کشمیر

 وزیراعظم گرامین سڑک یوجناکے تحت سال 2020-21ء میں ریکارڈ 3,167 کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر 

سری نگر//پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائی ) کپواڑہ یونٹ پہاڑی اور سرحدی ضلع کپواڑہ کے دور افتادہ اور دُور درازعلاقوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو تعمیرکرنے میں اہم کردار اَدا کرتا ہے۔یوجنا نے کئی سڑکیں تعمیر کی ہیں جو سینکڑوں دیہاتوں اور بستیوں کو بڑے شہروں اور ضلع ہیڈکوارٹر سے اَب تک جوڑتی ہیں ۔ اِس طرح دیہی آبادی کی سماجی و اِقتصادی صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ڈل تاوانگن بھوٹو روڈ ضلع کپواڑہ میں ایسی ہی ایک سڑک ہے جسے پی ایم جی ایس وائی نے تعمیر کیا تھا ۔ایگزیکٹیو اِنجینئر پی ایم جی ایس وائی کپواڑہ مشتاق احمد نے کہا،’’ مرکزی حکومت نے یہ سڑک نومبر 2019ء میں پی ایم جی ایس وائی پیکیج نمبر :جے کے 082002 کے تحت منظور کی تھی۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ سڑک کپواڑہ ہیڈ کوارٹر سے 15کلومیٹر دور کپواڑہ ۔ کلاروس ہائی وے سے نکلتی ہے۔دسمبر 2020ء میں کام شروع کیا گیا تھااور کووِڈ پابندیوں کے باوجود کام کو اَنجام دیا گیا اور پی ایم جی ایس وائی ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ سٹاف نے کا م ک اَنجام دینے کے لئے بہت کوششیں کیں اور اِس پروجیکٹ کو کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ اِنجینئر نے مزید کہا کہ یہ سڑک جس کی لمبائی 5.70 کلومیٹر ہے ۔ڈل قصبہ شکور پورہ او روانگن بھوٹو نامی بستیوں کو جوڑتی ہے ۔ اِ سے 7,900 اَفراد کی کُل آبادی کو فائدہ پہنچا اور ضلع ہیڈ کوارٹر کے ساتھ پورے علاقے کے رابطے میں بہتری آئی ہے۔اِس سڑک نے علاقے کی صحت سہولیات ، زراعت اور باغبانی تک رَسائی کو بہتر بنایا ہے اور علاقے میں سماجی و اِقتصادی ترقی کو تقویت دینے کے لئے گیم چینجر ثابت ہوئی ہے ۔ اِس سڑک کو دسمبر 2021میں 648 لاکھ روپے کی رقم سے زمین کے کام کی کٹائی او ربھرنے ، حفاظتی کاموں ( آر اینڈ بی والز) بشمول آئی / سی کے ذریعے مکمل کیا گیا تھا او راس کی لمبائی 5.70کلومیٹر تھی۔ ان گائوں کے مقامی لوگوں نے پی ایم جی ایس وائی کے عملے کی کوششوں کو سراہا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر اِنتظامیہ کا شکر یہ اَدا کیا ہے۔ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ سب سے اہم پیرا میٹروں میں سے ایک ہے جسے کسی خطے کی ترقی اور خوشحالی اقتصادی کاکلیدی محرک سمجھا جاتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ کے نظام کی مروجہ شکلوں جیسے روڈ ویز ، ریلوے ، ائیر ویز او رآبی گذر گاہوں میں سڑک ٹرانسپورٹ کا سب سے قابل رَسائی اور قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔جموں وکشمیر یوٹی خطے میں جہاںلینڈ سکیپ کی اکثریت دیہی اور پہاڑی ہے۔ سڑک کی ٹرانسپورٹیشن اِقتصادی خوشحالی اور ترقی میں اہم کردار اَدا کرتی ہے۔ضلع ریاسی میں پی ایم جی ایس وائی سکیم نے اَب تک سینکڑوں گائوں اور بستیوں کو بڑے قصبوں او رضلع صدر مقامات سے جوڑنے والی سڑکیں تعمیر کی ہیں۔ اِس طرح دیہی آبادی کی سماجی اِقتصادی صورتحال کو بدل دیا ہے۔آگر ۔جٹو سرپنچ شریمتی پریم لتانے کہا،’’آگر ۔ جٹو اِندرونی پی ایم جی ایس وائی سڑک ضلع کی ایسی ہی ایک سڑک ہے ۔یہ  سڑک بلاک کٹراہ کی3سے چار پنچایت بستیوں کو جوڑتی ہے۔ ‘‘اُنہوں نے کہا کہ سڑک سے پورے علاقے کا رابطہ بہتر ہوا ہے ۔ سرپنچ نے لیفٹیننٹ گورنر کی اِنتظامیہ اور بالخصوص ضلع اِنتظامیہ رِیاسی کی تعریف کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کس طرح یہ سڑک نہ صرف گائوں آگر ۔ جٹو بلکہ اس سے جڑی تین دیگر پنچایتوں کے مکینوں کی زندگیوں کو بھی بدل رہی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ طلباء بالخصوص متاثرہوئے کیوں انہیں سکول تک پہنچنے کے لئے چھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنا پڑتا تھا جو اَب کم ہو کر صرف 2 کلومیٹر رہ گیا ہے اور اِس طرح مؤثر طریقے سے فاصلہ 5کلومیٹر سے زیادہ کم ہو گیا ہے۔مزید برآں ، اِس میکڈامائزڈ سڑک نے اَب ان بستیوں سے تمام موسمی رابطے کی سہولیت فراہم کی ہے جو اِس سے منسلک ہیں جو پہلے ایسا نہیں تھا ۔ ان دیہات کے مقامی لوگوں نے پی ایم جی ایس وائی کے عملے کی کوششوں کی تعریف کی ہے او رایل جی اِنتظامیہ کا شکر یہ اَدا کیا ہے ۔ اِس جذبے سے جموں و کشمیر کے ہر گاؤں تک سڑک جلد ہی حقیقت بننے والی ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ جموں و کشمیر کے ہر گاؤں تک سڑک کو حقیقت بنانے کے لئے کیپکس، ایس ایس ای او رپی ایم جی ایس وائی کے تحت کاموں کو تیز کر رہا ہے۔ سرحدی دیہاتوں بشمول سرحدی محافظ دستوں کے لئے اگلے برس کے دوران جموں و کشمیر کی تمام سرحدی چوکیوں کو سڑکوں سے جوڑ دیا جائے گا۔جموں و کشمیر نے پی ایم جی ایس وائی کے تحت سال 2020-21ء میں ریکارڈ 3,167 کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر کیں ۔ اِس طرح جموںوکشمیر یوٹی میں دُور دراز کی بستیوں کو محفوظ رابطہ فراہم کیا۔1,32,520 کلومیٹر پی ایم جی ایس وائی سڑکیں تعمیر کی گئیں اور 2,290 کلومیٹر بلیک ٹاپ کی گئیں ،2020-21ء میں 3,167 کلومیٹر پی ایم جی ایس وائی سڑکیں تعمیر کی گئیں اور 5,500 کلومیٹر بلیک ٹاپ کی گئیں اور سال2021-22میں 2,480کلومیٹر پی ایم جی ایس وائی سڑکوں کو بلیک ٹاپ کیا گیا ۔2,033 بستیوں کو جوڑنے والے 16,448 کلومیٹر پر محیط 2,353 پی ایم جی ایس وائی پروجیکٹ شروع سے ہی مکمل کئے گئے ہیں۔ جموںوکشمیر نے پی ایم جی ایس وائی کے تحت حاصل کی گئی سڑک لمبائی کے لحاظ سے قومی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ دور دراز علاقوں کو رابطہ فراہم کرنے کے لئے 125 پل تعمیر کئے جانے ہیں۔نبارڈ دیہی سڑکوں کے لئے ایک اور وسائل کا آلہ ہے ۔ 2018-19ء میں 28 پروجیکٹوں جن کی لاگت 80.96کروڑ روپے ، 2019-20 ء میں 84پروجیکٹس جن کی لاگت231.29 کروڑروپے ،2020-21ء میں 115 منصوبے جن کی لاگت 418.67 کروڑ روپے اور 2021-22ء میں 400پروجیکٹوں جن کی لاگت 1585.38 کروڑ روپے کی منظور ی دی گئی ہے ۔ سری نگر ۔ سونہ مرگ سڑک پر 6.50 کلومیٹر زیڈ موڑ ٹنل ( 2378 کروڑ ) دسمبر 2023ء تک مکمل ہوگی ۔سردیوں کے دوران سونہ مرگ کے سفر کی سہولیت کے لئے ایسکیپ ٹنل کو وقت سے پہلے مکمل کیا گیا ہے۔8.45 کلومیٹر ٹوئن ٹیوب قاضی گنڈ۔بانہال ٹنل 3,127 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔14.15 کلومیٹر دو لین دو طرفہ زوجیلا ٹنل کی تعمیر 14.20 کلومیٹر متوازی ایس کیپ کے ساتھ جاری ہے۔این ایچ ۔144اے کے اکھنور۔پونچھ سیکشن پر 4 ٹنلوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ این ایچ ۔ 244  پر سنتھن پاس کے تحت 10.30 کلومیٹر سنگھ پورہ۔وائیلوٹنل کی ڈی پی آر کو منظوری دی گئی ہے۔ این ایچ۔ 244 پر 8کلومیٹر سدھ مہادیو ۔ درنگا ٹنل 1اور 2کو منطور ی دی گئی ہے۔ دو چار لین والی دونوں ٹیوب ٹنلوں کا سنگ بنیاد ۔ 4.38 کلومیٹر ماروگ تا ڈگڈول، اور 3.2 کلومیٹر ڈگڈول سے خونی نالہ کے علاوہ مومپاسی سے شیربیبی اور ناشری۔رام بن کے درمیان 6 کلومیٹر کے وایاڈکٹس کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔6 لین دہلی۔امرتسر۔ کٹراہ ایکسپریس وے پر 130 کلومیٹر کے حصے کے لئے کل 8,681 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد، دہلی سے کٹرا ہ کا سفر کا وقت کم ہو کر پانچ گھنٹے رہ جائے گا۔جموں شہر کو کم کرنے کے لئے 58 کلومیٹر سیمی رنگ روڈتعمیر کی جا رہی ہے اور 4 لین سیمی رنگ روڈ سری نگر پر کام 6 ؍اگست 2021 ء سے شروع ہوا ہے۔سنبل سے وائیلو تک پروجیکٹ کے مرحلہ دوم کو منظوری دے دی گئی ہے۔ڈی پی آر تیار ہے۔ تیسرا مرحلہ لسجن سے راجباغ تا خانیار تا پاندچھ تا گاندربل تا وائیل منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے۔اکھنور۔پونچھ روڈ کو ڈبل لین کرنے کا کام  3185 کروڑ روپے سے شروع کیا گیا ہے۔ دومیل بھملا روڈاین ایچ ۔144 کی اَپ گریڈیشن 55.05 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔این ایچ ۔244 کے سدھ مہادیو۔گوہا-کھیلانی۔کشتواڑ۔چترو۔اننت ناگ سٹریچ کی ڈبل لیننگ کا کام 4289 کروڑروپے سے شروع کیا گیا ہے۔ این ایچ ۔ 444سری نگر۔ پلوامہ ۔ شوپیان۔ کولگام ۔ قاضی گنڈ کو منظور کیا گیا ہے جس میں پلوامہ ، شوپیاں اور کولگام بائی پاس شامل ہیں ۔ بائی پاسز کے لئے کے لئے اراضی کا حصول آخری مراحل میں ہے او راس پروجیکٹ پر 2020-21ء میں 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔بمنہ ( 88 کلومیٹر) پر 3فلائی اوور جس کی لاگت 36.9 کروڑ روپے ہے ، نوگام (85کلومیٹر کی لاگت 49.3کروڑ روپے اور صنعت نگر جنکشن کو منظوری دی گئی ہے اور بمنہ اور نوگام فلائی اوور پر کام شرو ع کیا گیا ہے۔1010 کروڑ روپے کی لاگت والے 83 سی آر ایف پروجیکٹوں کو جے کے آئی ڈی ایف سی سے فنڈ کیا جائے گا جو مارچ 2023 ء تک مکمل ہوگا۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں سڑک کا سفر تیز تر اور محفوظ تر ہو گیا ہے۔ جموں سے کشتواڑ کے سفر کا وقت 7.5 گھنٹے سے گھٹا کر 5 گھنٹے کیاگیا ہے۔ جموں سے ڈوڈہ کا این ایچ۔ 244پر سفر کا وقت 5.5 گھنٹے سے کم کر کے 3.5 گھنٹے کیا گیا ہے۔ سری نگر اور جموں کے درمیان سفر کا وقت ایل ایم ویزکے لئے  7سے12 گھنٹے سے گھٹ کر 5.5 گھنٹے ہو گیا ہے۔ سری نگر سے گلمرگ تک کا سفر 3 گھنٹے سے گھٹ کر 1.5 گھنٹے ہو گیا ہے۔ اسی طرح این ایچ۔44  کے سری نگر۔جموں سیکشن پر سفر کرنے والے ٹرکوں کے لئے لی اوور 24سے72 گھنٹے سے کم ہو کر 12 گھنٹے ہو جاتا ہے۔مزید برآں، جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ یومیہ میکڈامائزیشن بھی درج کیا گیا ہے۔ میکڈامائزیشن کے لئے یومیہ اوسط 2019-20 ء میں 6.27 کلومیٹر فی دن سے بڑھ کر 2020-21 ء میں 14.7 کلومیٹر فی دن ہو جاتا ہے۔ 2021-22 میں 15.03.2022 تک یومیہ 21.92 کلومیٹر کی اوسط حاصل کی گئی ہے۔ 2020-21ء میں مختلف سینٹرل اور جموںوکشمیر یوٹی سکیموں کے تحت 5,035 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مکمل کی گئی ۔جموںوکشمیرمیںہر گاؤں تک سڑک بلاشبہ اقتصادی خوشحال اور تر قی کا سنگ میل ہے اور اس سے جموں و کشمیر میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔