خوشال سر اورگِل سر کی رونقیں بحال کریں جڑواں جھیلوں کو بچانا حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری

عارف شفیع وانی

کبھی صاف وشفاف پانیوں کیلئے مشہور سرینگر میں خوشحال سر اور گل سر جھیلیں معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ بدبودار پانی، گھاس اور کچرے کے ڈھیر ان جڑواں جھیلوں کی باقیات ہیں۔چند دہائیوں قبل تک، خوشحال سر اور گل سر، جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے آبی ذخائر ہیں، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے پسندیدہ اڈے تھے۔ یہ آبی ذخائر ڈل جھیل کے پانی کو نالہ امیر خان کے ذریعے ڈل سے باہرلے جاتے ہیں اور اس کی ہائیڈرولوجی کو برقرار رکھنے کیلئے اہم ہیں۔یہ جھیلیں مچھلیوں کی بہت سی انواع اور ہجرت کرنے والے پرندوں کو اس کے سرکنڈوں اور آبی گھاس کے بڑے ٹکڑوں میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی تھیں۔ یہ مچھلی اور ندرو کی اعلی پیداوار پر فخر کرتی تھیں، جو تجارتی مقاصد کیلئے ماہی گیروں اور مقامی باشندوں کو روزی روٹی فراہم کرتے تھے۔

آہستہ آہستہ تحفظ کے اقدامات کی عدم موجودگی میں ان آبی ذخائر کی حالت خاص طور پر گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ خراب ہونے لگی۔ جڑواں جھیلوں کو بڑے پیمانے پر بھر دیا گیا ہے اور ان پر تجاوزات کھڑی کی گئی ہیں۔ ملحقہ بستیوں اور تعمیرات سے سیوریج کے بے دریغ بہاؤ نے انکے نباتات اورجمادات کو بری طرح متاثر کیا۔سرکاری بے حسی اور بے ضمیر لوگوں کی لالچ نے خوشحال سر اور گل سر کو کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا۔ان جھیلوں کا پانی اتنا صاف تھا کہ اس میں شفا بخش خصوصیات موجود تھیں۔ اب ان آبی ذخائر سے نکلنے والی تیز بدبو لوگوں کیلئے ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ انھوں نے ان قدرتی اثاثوں کو کس طرح تباہ کیا۔مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ان جھیلوں کے کیمیائی پیرامیٹرز قابل اجازت سطح سے زیادہ خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ جڑواں جھیلیں یوٹروفیکیشن (یعنی ان کی گہرائی میں مسلسل کم واقع ہورہی ہے)سے گزر رہی ہیں۔ ہم ہر سیکنڈ کے ساتھ ان جڑواں جھیلوں کو کھو رہے ہیں۔ ان جھیلوں کے زیادہ تر علاقے تمام مقامی ورغیر مقامی مواد کی ڈمپنگ سائٹس بن چکے ہیں جس کے نتیجے میں ان آبی ذخائر کا دم گھٹنے سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ ان جھیلوں کو پانی میسرکرنے والے چشمے بھی دم توڑ چکے ہیں۔

ایک مشہور ماہر ماحولیات اور ہائیڈرولک انجینئر اعجاز رسول ان آبی ذخائر کی خرابی کیلئے حکام کو مورد الزام ٹھہرانے کیلئے میں کوئی عار محسوس نہیںکرتے۔وہ کہتے ہیں’’خوشحال سر اور گل سر جڑواں سیٹلائٹ جھیلیں ہیں جو ریونیو ریکارڈ پر ڈل اور نگین جھیل کا حصہ ہیں ۔ساحل کی آبادی سے پیدا ہونے والا سیوریج اور ٹھوس فضلہ پانی کے معیار کو خراب کرتا ہے۔جھیلوں کی دیکھ بھال کرنے والے کوئی نہیں تھے کیونکہ یہ ڈل اور نگین جھیل کے تحفظ کے منصوبے کے دائرہ کار سے باہر تھے۔ درحقیقت یہ واضح نہیں تھا کہ حکومت کے کس محکمے کو ان جڑواں جھیلوں کا انتظام اور تحفظ کرنا ہے۔ یہی نہیں، ساحلی علاقوں میں گاد ہونے سے تجاوزات کی راہیں نکلیں اور اس کے گادھے علاقوں میں رہائشی کالونیاں بن گئیں۔ جھیلوں کو اپنے رقبے اور حجم میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں کہیں بھی ان کے تحفظ اور مناسب طریقے سے انتظام کیلئے آواز اٹھائی گئی تو مختلف محکموں نے ذمہ داریوں سے پلو جھاڑ لیا اور دوسروں پر ذمہ داری ڈالتے رہیں ‘‘۔

انہوں نے مزید کہا’’ساٹھ کی دہائی کے وسط میں مکانات و شہری ترقی محکمہ نے ایس ٹی پی کے ساتھ سیوریج کے داخلے کو روکنے اور اسے ٹریٹ کرنے کیلئے ایک پیریفرل سیوریج سکیم شروع کی لیکن اس کے فورا ًبعد ہی اس منصوبے کو جزوی طور پر عمل میں لایا گیا اور اس کا کوئی مقصد نہیں رہا۔ چند ماہ قبل یہ کام نکاسی آب کے پائپ بچھا کر دوبارہ شروع کیا گیا تاہم اس کی تکمیل اور شروع ہونے میں کافی وقت لگے گا اور جھیلیں آلودہ ہوتی رہیں گی۔ فوری ضرورت ہے کہ لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی( LCMA) جھیلوں کو ان کے مستقبل کے انتظام اور تحفظ کیلئے سنبھالے اور UEED کو بھی جلد شروع کرنے کیلئے پیریفرل سیوریج اور سیوریج ٹریٹمنٹ کے کام کو تیز کرنے کیلئے کہے‘‘۔

2002 میں حکومت نے خوشحال سرکے تحفظ کیلئے 61 کروڑ روپے کا ایک جامع منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کو مرکزی حکومت نے منظوری دے دی تھی۔ اس منصوبے میں زمین کی بھرائی، غیر قانونی شجرکاری اور تعمیرات کے ذریعے تجاوزات کو ہٹا کر جھیل کی حفاظت اور ترقی کا تصور کیا گیا تھا۔ ان کی حد بندی اور باڑ لگانے کے علاوہ مزید تجاوزات کو روکنے کیلئے خوشال سر میں سخت نگرانی کیلئے فارسٹ پروٹیکشن فورس کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس منصوبے نے کبھی دن کی روشنی نہیں دیکھی۔

اس وقت کے وزیر جنگلات نے کہا تھا کہ گل سر اور خوشحال سر کی خرابی میں کئی دہائیاں لگیں اور ان کی بحالی میں ہمیں کم از کم چند سال لگیں گے۔ تاہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اہم جھیلیں ہونے کے باوجود حکومت نے ابھی تک ان آبی ذخائر کے تحفظ کی ذمہ داری لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (LCMA) کو نہیں سونپی ہے۔ LCMA، جو ڈل کے تحفظ کا کام کر رہی ہے، آبی ذخائر کے تحفظ میں مہارت رکھتی ہے۔

اگرچہ نگین لیک کنزرویشن آرگنائزیشن (NLCO)، جو کہ ایک ماحولیاتی گروپ ہے، گزشتہ چند برسوں سے خوشال سر اور گل سر کی صفائی ستھرائی کا کام کر رہی ہے۔ لیکن یہ NLCO کیلئے ایک آسان کام نہیں رہا ہے کیونکہ اسے صفائی کی مہم کے دوران کچھ رہائشیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ NLCO کے صدر منظور وانگنو نے کہا’’چیلنجوں کے باوجودہم اپنے مشن احساس کے تحت خوشحال سر اور گل سر میں صفائی مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم ان آبی ذخائر کو ایک سماجی اور مذہبی ذمہ داری کے طور پر محفوظ کرنے کیلئے اپنے حصہ کا دیا جلارہے ہیں۔ میں ہمارے مقصد کی حمایت کرنے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ کا شکر گزار ہوں لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے قدرتی اثاثوں کے تحفظ کیلئے لوگوں کی شراکت ضروری ہے‘‘۔
NLCO

نے ایک مثال قائم کی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے تئیں ذمہ داری کا احساس ظاہر کیا ہے۔ NLCO کی طرح زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان آبی ذخائر کی بحالی کے مقصد میں تعاون کرنا چاہئے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ راتوں رات کام نہیں ہے لیکن ہمارے آبی ذخائر کو بچانے اور مزید نقصان کو روکنے میں برسوں اور مسلسل تحفظ کی کوششیں لگیں گی۔

ماہرین ماحولیات نے ان جڑواں جھیلوں میں جانے والی تمام نالیوں کوبند کرکے انہیں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی طرف موڑ کر سیوریج کی آمد کو روکنے کی سفارش کی ہے۔ مزید تجاوزات کو روکنے کیلئے ان آبی ذخائر کی حد بندی اور باڑ لگانے کا وقت آگیا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان جڑواں جھیلوں کو اب تک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آخر کار حکومت کو ان آبی ذخائر کے طویل مدتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ لوگ صفائی مہم چلا سکتے ہیں لیکن یہ حکومت ہے جس نے ایس ٹی پی بنانا ہے یا تجاوزات کو ہٹانا ہے۔ ان آبی ذخائر کو بچانے کیلئے حکومت اور سٹیک ہولڈرز بشمول ماہرین ماحولیات اور محققین کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

خوشحال سر اور گل سر ڈل جھیل کے خارجی بہاؤ کے راستے ہیں اور سرینگر کے روایتی آبی ٹرانسپورٹ کے روٹ کا حصہ ہیں۔ ان آبی ذخائر کو بچانے کا وقت آگیا ہے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ جھیلیں ناپید ہو جائیں گی اور آنے والی نسلیں ہمیں اس کیلئے مورد الزام ٹھہرائیں گی۔
( مضمون نگار انگریزی روزنامہ ’’گریٹر کشمیر ‘‘کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہیں۔)
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی آراء ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔