خورشید احمد بسملؔ، شاعرانہ مزاج میں صوفیانہ رنگت

خورشید احمد بسملؔ ہمارے خطہ پیر پنچال (جموں و کشمیر)کے ایک باذوق اور رچے ہوئے شعری شعور کی نمائندہ آواز ہیں۔ان کی شاعری ایک پختہ ذہن شاعر کی شاعری معلوم ہوتی ہے اور وہ شاعر ی کو جذبات واحساسات کی ترسیل کا ایک موثر ذریعہ خیال کرتے ہیں۔بسمل ؔصاحب کا شعری مجموعہ’’ابرنیساں‘‘186صفحات پر مشتمل ایک میں جہاں اُن کا اردو کلام شامل ہے، وہیں ان کی پہاڑی شاعری بھی درج ہے۔’’ابر نیساں‘‘میں نظمیں زیادہ اور غزلیں کم ہیں۔ کتاب کی زینت اور شان حمد باری تعالیٰ،نعت رسول مقبول صلی ا للہ علیہ وسلم ،ماہ صیام کی برکتیںِ،شب قدر کی فضیلت بڑھاتی ہیں ، ان کے علاوہ اخلاقی،روحانی اور سماجی اصلاح کے جذبے سے سرشار بہت سی نظمیں قاری کو خوب سیرتی کا درس دیتی ہیں جو وقت کی ایک اہم ضرورت  ہے۔بہت سے لوگ شعر وادب کو ذہنی عیاشی اورتفریح طبع کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیںلیکن خورشید احمد بسملؔکا معاملہ ان سے بالکل مختلف ہے ۔ان کی نظموں اور غزلوں میں جو اصلاحی جذبہ اور لفظ ومعنی کی طہارت نظر آتی ہے وہ اس امر کا تحریری ثبوت ہے کہ وہ ایک پُر امن اور صالح معاشرے کی تشکیل وتعمیر کے متمنی ہیں۔ان کی نوائے پریشاں میں دردوسوز اور زندگی کے گزرتے لمحوں کا گہرا احساس موجود ہے۔حیات وکائنات کی صداقتوں پہ ان کا کامل یقین ان سے کچھ ایسے اشعار کہلواتا ہے جو نہ صرف خیر وشر کے افتراق کو بڑے لطیف انداز میں واضح کرتے ہیں بلکہ زندگی کی معنویت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔بقول پروفیسر حامدی کاشمیری:’’خورشید احمد بسملؔ راجوری کے ان لکھنے والوں میں شامل ہیں جو شعر وشاعری کے لیے طبع موذوں رکھتے ہیںاور بلاشبہ ایک پختہ کار اور جہاں آگاہ شاعر ہیں۔ان کی چشم نظارہ وارہتی ہے ۔وہ اپنی ذات کے نہاں خانوں سے نکل کر باہر کی معروضی دنیا کے سرد وگرم اور اونچ نیچ کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اپنے ذہنی تاثرات کو نغمیاتی رنگ وآہنگ میں پیش کرتے ہیں۔ان کا شعری کینواس پھیلا ہوا ہے۔وہ اپنے مشاہدات سماجیات  اور اخلاقیات کو ہنر مندی سے نظم کرتے ہیں ۔وہ ماشااللہ’’بعد از بزرگ تُو ئی قصہ مختصر‘‘کے تحت اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کے ساتھ ہی مدحت رسولؐ کی صورت میں اپنے عقیدت مندانہ  جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے طے کردہ کسی نظریے کی پابندی کو ٹھکراتے ہوئے اپنے شعری ذہن کی آزادگی کو روا رکھتے ہیں‘‘کائنات اور خالق کائنات کی عظمت جب دل میں موجزن ہو اور نظام عالم کی حیرت انگیز کاریگری پہ نظر ہو تو بھلا جذبہء حمد وثنائے باری تعالیٰ مظاہر فطرت کی نشاندہی کے ساتھ کیوں نہ شعری اظہار کی صورت اختیار کرے ۔خورشید احمد بسمل  ؔ اس جذبے سے سرشار ہیں۔ ان اشعار پر دھیان دیجیے  ؎
  اے  خدا،اے  خدا ،تُو بڑا  تُو بڑا
 کون تیرے سوا،اے خدا، اے خدا
ماہ وانجم  ترے
عرش اعظم ترا
بحر وبر ہیں ترے
فرش خاکی ترا
  سب ترا،سب ترا،سب ترا ،سب ترا
   اے خدا، اے  خدا،  تُو بڑا  تُو بڑا
یہی خلوص وصداقت اور فکری آہنگ ان کی دوسری حمدیہ اور نعتیہ نظموں میں بھی در آیا ہے۔مثلاًرسول اکرمﷺ کی شان میں انہوں نے اپنی جس عقیدت مندی کا اظہار شاعرانہ انداز میں کیا ہے ،وہ بہت ہی متاثر کُن ہے۔اس کے علاوہ خورشید احمد بسملؔ نے ’’ماہ رمضان کی برکتیں‘‘لیلتہ القدر‘‘ یا’’ماں کے حضور نذرانہء عقیدت‘‘ایسی نظمیں ہیں جن میں عقیدت مندانہ اور متصوفانہ جذبات کی امنگ وترنگ محسوس ہوتی ہے۔نمونے کے طور پر متذکرہ نظموں سے ماخوذ کچھ اشعارملاحظہ فرمائیے   ؎
رہبر عالم، ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم
بعد خدا تُو سب پہ مقدم صلی اللہ علیہ وسلم
شمس وقمر ہیں تجھ پر قرباں
جن وملائک تیرے درباں
تیرا ثنا خواںعالم عالم صلی اللہ علیہ وسلم
بے مثل دیکھی زیبائی تیری
بے مثل پائی گویائی تیری
تیرا ہی کوثر تیرا ہی زم زم صلی اللہ علیہ وسلم
  سب نبیوں میں تُو ہے افضل
 شان ہے  تیری  کامل و اکمل
 ذات ہے تیری خیر مجسم صلی اللہ علیہ وسلم
…….
نمود  سحر  ہو   یا  شب  کی  ہو  آمد
مبارک  مناظر  دکھاتا   ہے  رمضاں
بڑھا  کر  بصیرت،  عزیمت  ہماری
 گناہوں  سے  ہم کو  بچاتا  ہے رمضاں
دل  وجاں  سے رمضاں کی  راہیں  سجاو
کہ  پیغام  جنت  سُناتا   ہے  رمضاں
(ماہ رمضان کی برکتیں)
  انوار  جس  میں  پنہاں  وہ  رات  آرہی  ہے
  اللہ  جس  پہ  نازاں   وہ  رات  آرہی    ہے
  وہ جس کے  راستوں  کو  تکتے تھے  شاہ خوباں
  جو  شان  ماہ  رمضاں  وہ  رات  آرہی  ہے
۔۔۔۔
(لیلتہ القدر)
میری  اَماں  مری  سانسوں  میں ترے  نغمے  ہیں
سچ  تو  یہ  ہے کہ مرے  لفظوں کی  لطافت  تّو ہے
میری   اَماں  تجھے  دیکھوں   تو  جہاں کو  پاوں
دل کی راحت  میرے  چہرے کی بشاشت  تُو  ہے
 میری  ا َماں  مرا  ہر  کام ہے  تجھ  سے آساں 
میری  دولت ، میری  عزت  میری شہرت  تُو  ہے
۔۔۔۔۔
(ماں کے حضور نذ رانہ ء عقیدت)
ان نظموں کا اختصاصی پہلو یہ ہے کہ یہ مقّدس جذبوں کے ساتھ مکالمہ کرتی ہیں اور بالخصوص نظم’’ ماں کے حضور نذرانہ ء عقیدت‘‘تو دل کے تاروں پہ مضراب کا کام کرتی ہے۔ماں کی بے لوث محبت اور اس کی دعائیں بگڑتے ہوئے کاموں کو بنادیتی ہیں۔لطافت،بشاشت اور شہرت ایسے خوش کن مدارج ہیں جو واقعی ماں کی نیک دعاوں کے ذریعے ایک شخص کو نصیب ہوسکتے ہیں۔
خورشید احمد بسملؔ کی غزلیہ شاعری بھی زماں ومکاں کی حد بندیوں کو پھلانگتی ہوئی ہمہ گیریت اور آفاقیت کی حامل معلوم ہوتی ہے۔ان کی غزلوں میں اگرچہ سبھی نہیں لیکن بیشتر اشعار دردل پہ دستک دیتے ہیں۔ان اشعار میں شاعر کا تجربہ اور مشاہدہ ہی نہیں بلکہ غیر اخلاقی اور غیر انسانی حالات ومعاملات پر طنز ورمز کی گہری کاٹ بھی نظر آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ خورشید احمد بسملؔ نے نہ صرف زندگی کی تلخیوں کو دیکھا اور سُنا ہے بلکہ بذات خود ان تلخیوں کو جھیلا بھی ہے ۔ان کا شاعرانہ لب و لہجہ صوفیانہ معلوم ہوتا ہے ۔چنانچہ ان کے پاس خوب سے خوب تر کی جستجو میں سر گرم عمل رہنے والا دل ودماغ موجود ہے۔پروفیسر ظہورالدّین ان کی شاعری کے بارے میں ایک جگ یوں رقم طراز ہیں:
’’زندگی کے گہرے شعور نے بسملؔ کو بہت سے ایسے حقائق تک پہنچادیا ہے جن تک انسان زندگی کی بھٹی میں تپنے کے بعد ہی پہنچ پاتا ہے ۔زندگی کے یہ ٹھوس حقائق ایسے نہیں ہیں کہ ان تک کسی نے پہلی بار رسائی حاصل کی ہو لیکن اسکےلہجے میں جو صوفیانہ انجذاب پیدا ہوگیا ہے وہ بیانیہ ہوتے ہوئے بھی متاثر کرتا ہے۔اس انجذاب کو تفکر کی آنچ نے اگر دوآتشہ نہیں تو کم ازکم آتش زیر پا کی کیفیت سے ضرور آشنا کردیا ہے‘‘
 تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر جو بات یا فکر وفلسفہ بیان کیا جاتا ہے اس میں جان ہوتی ہے اور وہ غور وتدبر کا باعث بنتا ہے۔حیات و+کائنات کی ان صداقتوں سے بھلا کسے انکار ہوسکتا ہے جن کی طرف خورشید احمد بسمل ؔ نے اپنی غزلیہ شاعری میں بلیغ اشارے کیے ہیں۔مثلاً    ؎
میثاق  ازل مجھ  کو  کچھ  ایسے  نبھا نا ہے
آندھی میں مجھے جیسے  اک  دیپ  جلانا  ہے
ادراک  ہی بے بس تھا ،کچھ  بھی نہ سمجھ   پایا
آنے کا ہے کیا مطلب کیوں لوٹ کے  جانا ہے
احباب  کی  قبروں کو  کیا  دیکھنے  آئے  ہو
مٹی کے  کھلونے  تھے  مٹی  ہی  ٹھکا نا ہے
۔۔۔۔
گرد  راہ  بن  کے  فضاوں  میں  بکھر  جاوں  گا
اور  اک  دن  میں  سمندر  میں  اُتر  جاوں  گا
۔۔۔۔
  دیوار  کی  قید  میں  محفوظ  تھا  بہت 
  کھڑی کھلی تو  مجھ پہ  کوئی وار  کرگیا
  ۔۔۔۔
یہ  زرد  چہرا،یہ  سُرخ  آنسو، تیری  وفا کی نشانیاں ہیں
یہ  شعر ونغمہ  یہ گیت  میرے ،تیری  جفا  کی کہانیاں ہیں
۔۔۔۔
  گرد  راہ  بن کے  فضاوں میں بکھر جاوں گا
   اور اک  دن میں سمندر  میں  اُتر  جاوں گا
  ہے  مجھے  سرحد  ادراک  سے  آگے   جانا
  کون کہتا  ہے کہ موت  آئے گی  مرجاوں گا
۔۔۔۔۔
  کیا  بتلائیں اس بستی میں  کتنے ہیں  دیوانے لوگ
  راتوں رات بدل جاتے ہیں جانے اور پہچانے لوگ
 رشتے ناتے کچّے دھاگے  ان پہ  کچھ  وشواس نہیں
  ہم نے سارے دیکھ لیے ہیں اپنے اور بیگانے لوگ
۔۔۔۔۔
دروازوں کو  بند  نہ سمجھ
لوگ چھپے اندر رہتے ہیں
بسملؔ    اپنی   خیر   مناو
شہر میں اب اجگر رہتے  ہیں
  ہے آب وگل کا جہان فانی ،یہاں کی ہر شے ہے آنی جانی
   سفر ہے سُویء عروج جس کا ابھی وہ سُوئے زوال ہوگا
  سڑک یہ ساری نہیں ہے اپنی یہاں تو اوروں کو بھی ہے چلنا 
 تمہاری  گاڑی کدھر چلی  ہے  جگہ  جگہ پر سوال  ہوگا
۔۔۔۔۔
  نہیں ان سے  مجھ کو کوئی گلہ ،جنہیں خیر وشر کا نہیں پتہ
  جنہیں ہوش مندی کا زعم ہے انہیں دُور ہی سے ملا کرو
  کہاں رُکنا ہے کہاں چلنا ہے ،بڑا الجھا ہوا یہ سوال ہے
  تمہیں سچّی بات کہے چلوں ،کہ  تلاش حق میں رہا کرو
   میرے بچّو سُن لو یہ غور سے ،ملیں جب بُزرگوں کی محفلیں
  ذرا چشم عبرت سے کام لو،انھیں  گوش دل سے سُنا کرو
۔۔۔
یہ خورشید احمد بسملؔ کی وہ غزلیہ شاعری ہے جس میں اخلاقی اور روحانی تربیت کا درس تو ہے ہی فکر واحساس اور مشاہدات و تجربات حیات کے دھنک رنگ بھی نظر آتے ہیں ۔اب اگر ہم ان کی نظمیہ شاعری کے حصار میں داخل ہوں تو وہاں بھی وہی موضوعاتی بُوقلمونی کے ساتھ صوفیانہ رنگ وآہنگ دکھائی دے گا۔ان کی بہت سی نظمیں بڑی رس دار ہیں ۔ماحول ومعاشرے میں وقوع پذیر مایوس کُن حالات وواقعات میں وہ امن و سلامتی اور خیر خواہی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔اس ضمن میں نظم’’ہند نامہ‘‘سیگریٹ نوشی‘‘ترانہء توحید‘‘اور ’’نغمہء اتحاد‘‘بطور خاص پیش کی جاسکتی ہیں۔ان نظموں سے ماخوذ کچھ شعری ٹکڑے ملاحظہ کیجیے:
   پھول بکھرے  ہوئے مسلی ہوئی کلیاں دیکھوں
   گُلشن  ہند  کی  روتی  ہوئی  چڑیاں  دیکھوں
  راہ گیروں کے  تڑپتے ہوئے  لاشے  دیکھوں
  رات  دن خوں میں نہائی ہوئی گلیاں  دیکھوں
  ہائے اُس  دیس میں چلتی  ہوئی چھریاں دیکھوں
۔۔۔۔
(ہند نامہ)
  سیگریٹ  نوشوں کا بستی میں نام بُرا ہوتا ہے
  سب کہتے ہیں سیگریٹ نوشی کام بُرا ہوتا ہے
  سیگریٹ نوش کے منھ کی بدبُو ،بدبُو پھیلائے
 بیوی اس سے بھاگنا چاہے بچّہ پاس نہ آئے
۔۔۔۔
(سگریٹ نوشی)
توحید کے مرکز پر اللہ  نے بلایا ہے
  سینوں کو کیا روشن،ذہنوں کو سجایا ہے
 توحید کے مرکز پر اللہ نے بُلایا ہے
 قرآن کو سیکھیں گے قرآن سکھائیں گے
ہم راہ ھدیٰ ساری دنیا کو دکھائیں گے
 ظلمت کو زمانے سے ہم نے ہی مٹایا ہے
 توحید  کے  مرکز پر  اللہ نے  بلایا ہے
۔۔۔
  (ترانہ ء توحید)
  گوجر،کشمیری ،پہاڑی  اتحاد
  زند ہ   باد جی،  زند ہ   باد 
  اس نعرے میں شان  ہماری
عزت،عظمت،جان ہماری
  اللہ    رکھے  شاد  آباد
 گوجر،کشمیری،پہاڑی اتحاد
  مل  کے  رہنا  حکم  قرآنی
لڑ  نا بھرنا کام شیطانی
( نغمہ ٔ اتحاد)
۔۔۔۔
خورشید احمد بسملؔ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انھوں نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کا ترانہ لکھا ہے جو یونیورسٹی میں مخصوص پروگرامو ں کے موقعے پر موثروشریںانداز میں گایا اور دکھایا جاتا ہے ۔ اس ترانے کی باضابطہ ایک ایسی ویڈیو تیار کی گئی ہے جو یونیورسٹی کے پورے ماحول اور تدریسی وانتظامیہ عملے کی سر گرمیوں کی خوب صورت جھلکیوں پر مشتمل ہے ۔گویا خورشید احمد بسملؔ نے یہ ترانہ لکھ کر اپنے آپ کو زندہ جاوید کردیا ہے ، ظاہر ہے جب تک بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی قائم رہے گی خورشید احمد بسملؔ کو لوگ یاد کرتے رہیں گے۔اس ترانے کے یہ دو بند ملاحظہ فرمائیے    ؎
دانش گہہ بابا کا اک طُرفہ نظارہ ہے
اس نور کے مرکز کا ہر ذرہ  ستارہ ہے
  رحمت کی فضا دیکھوں  جس سمت نظر جائے
دنیا بھی سنور جائے عقبیٰ بھی سنور جائے
یہ باغ ِارم کس نے دھرتی پہ اتارا ہے
دانش گہہ ء بابا کا اک طُرفہ نظارہ ہے
مزدور بھی ہم اس کے معمار بھی ہم اس کے
اللہ کے کرم سے ہیں سالار بھی ہم اس کے
  اس کا تو ہر ذرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
  دانش گہہ ء بابا کا اک طُرفہ  نظارہ ہے
۔۔۔۔
بہرحال خورشید احمد بسملؔ کا شعری سفر جاری ہے ’’ابرنیساں‘‘ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ج۔ آج کا شاعر وادیب سوشل میڈیا کی اسکرین پہ نظر آتا ہے ۔وہ اپنی ادبی وشعری کاوشوں کو فیسبُک ،واٹس ایپ اور یُو ٹیوب کے ذریعے شعر وادب کے شائقین تک پہنچانے اور ان کے بارے میں قارئین کی رائے کا خواہش مند رہتا ہے۔خورشید احمد بسملؔ مسلسل شاعری کررہے ہیں اور ان کی یہ شعوری کوشش رہتی ہے کہ آسان زبان میں سچی اور اچھی باتوں کی ترسیل شاعری کے ذریعے کی جائے ۔اس کے لئے ان کا شعری ڈکشن قابل دا د اور لائق تقلید ہے ۔مجھے امید ہے وہ اردو شاعری سے اپنا رشتہ تادم آخر برقرار رکھیں گے۔انہیں اس بات کا احساس ہے کہ شاعری ،ریاضت چاہتی ہے،لطافت ونزاکت چاہتی ہے کیونکہ بقول شاعر    ؎
   شاعری کھیل نہیں  جسے کوئی  بچہ کھیلے
   ہم نے پچپن برس اس فن میں ہیں پاپڑ بیلے
………………….
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر شعبہء اردو باباغلام
 شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
(جموں وکشمیر)
فون نمبر9419336120