خوراک کی تلاش کیلئے بستیوں کا رُخ

سرینگر //وادی میں اگرچہ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن رہائشی علاقوں کی طرف جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور جنگلی علاقوں میں لوگوں کی حرکات و سکنات بڑھ گئی ہیں جس سے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت میں خلل پڑا اور انہوں نے بستیوں کی طرف رخ کرنا شروع کیا۔محکمہ جنگلی حیات کے پاس دستیاب اعدادوشمار کے مطابق2021میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں 9افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 57شدید طور پر زخمی ہوئے۔ اس دوران گذشتہ 5  ماہ کے دوران قریب 60جنگلی جانوروں، جن میں تیندوے ، ریچھ ، جنگلی بلیاں شامل ہیں، کو پکڑ کر انہیں پنا ہ گاہوں میں چھوڑا گیا۔ جنگلی جانوروں کے حملوں میںجہاں ہلاکتیں ہوتی ہیں، وہیں جنگلی حیات کی زندگیوں کو بھی کافی خطرہ لاحق رہتا ہے ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ سالانہ جنگلی جانوروں کے حملوں میں 20لوگ اوسطاً، لقمہ اجل جبکہ 225لوگ زخمی ہو جاتے ہیں ۔  2017 میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں، 2019 میں 11 افراد اور 2020 میں5کی ہلاکت ہوئی ۔اسی طرح سال 2017 میں سب سے زیادہ 120 زخمی ہوئے، اس کے بعد 2018 میں 83،  2019 میں 85 اور 2020 میں 87  شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ کشمیر کے بڑے قصبوں پلوامہ، شوپیاں، گاندربل، بڈگام اور یہاں تک کہ سرینگر میں پچھلے پانچ برسوں میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان تصادم کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے ،تاہم جنگلی جانوروںکے بستیوں میں آنے کے واقعات بہت حد تک بڑھ گئے ہیں ۔متعدد علاقوں میں جنگلی جانوروں نے ادھم مچا دی اور گائو خانوں میں گھس کر بھیڑوں کی چیر پھاڑ کی۔ جنوبی کشمیر میں محکمہ وائلڈلائف کی جانب سے اننت ناگ، کولگام، شوپیان، ترال، ویری ناگ اور پہلگام میں گزشتہ چار مہینوں کے دوران 25 ریچھوں، 7 تیندوے، 8 سانپ اور 2 وائلڈ بلیاں زندہ پکڑیں گئیں۔ وائلڈ لائف وارڈن جنوبی کشمیر رئوف احمد زرگر نے بتایاکہ سردیوں کے ایام میں اس وقت جنگلات برف سے بھرے پڑے ہیں جنگلی جانورکھانے کی تلاش میں بستیوں کی طرف آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ ایک جنگلی بلیاں بھی بستوں میں ہیں جنہیں لوگ تیندوا سمجھ رہے ہیں۔ شمالی کشمیر ڈویژن کے وائلڈ لائف وارڈن محمد مقبول بابا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ حال ہی میں ہندوارہ اور لولاب میں کچھ جانوروں کو پکڑا گیا۔