خود کشی۔ بے بسی یا بے حسی؟ غور طلب

شوکت احمد ڈار ،شوپیان

خود کشی کی خبر سنتے ہی جہاں ایک طرف ہر حساس دل درد وغم کی کیفیات سے دو چار ہوتا ہے ۔وہی دوسری طرف ایک عام فہم انسان بھی خود کشی کے اسباب اور وجوہات پر غور وفکر کرنے خود کو نہیںروک پاتا ،اور ذہن ایک ہی نکتے پر آکر اٹک جاتا ہے ڈپریشن ۔ڈپریشن کے شکار افراد کثرت سے خودکشی جیسے قبیح فعل کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ڈپریشن مسلسل اداسی اور مایوسی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے ۔وقتاً فوقتاً ہم سبھی اداسی ،مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں ۔اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔لیکن طبی اعتبار سے اداسی اس وقت ڈپریشن بیماری کہلانے لگتی ہے ۔جب اداسی کا احساس دیرپا رہے اور ختم ہی نہ ہو۔اداسی کی شدت اتنی ہو کہ زندگی کی روز مرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگے ۔ایسے لوگ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کشی کر بیٹھتے ہیں ۔خود کشی کے واقعات ہمارے معاشرے میں کبھی نہ کھبی دیکھنے پڑتے ہیں ۔حال ہی میں سوپور میں ایک سترہ سالہ لڑکی نے دریائے جہلم میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیااور اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑے۔شوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کا رد عمل بہت ہی مختلف رہا ۔کچھ تو اوقاف کمیٹی،مذہبی رہنماؤں ،ارباب اقتدار اور کچھ تو ہمسائیوںاور ان کے رشتہ داروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔آخر اس دلدوز حادثے کا قصوروار کون ہے۔آخر وہ کونسے وجوہات تھے جس کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا ۔یہی سوال جب ان کے بیوہ ماں سے پوچھا گیا توانہوں نے اپنے دل کا حال ان الفاظ میں بیان کیا ۔کہ ہمارے گھر کے مالی حالات بہت ہی ابتر ہیں ۔میںمحنت مزدوری کر کے پچھلے تیرہ سال سے اپنے بچوں کی کفالت کرتی آئی ۔میرا ایک بیٹا جو اکثر بیمار ہی رہتا ہے ،علاج معالجہ کے لئے انہیں اکثر پیسوں کی ضرورت پڑتی ہیں ۔گھر کی یہ حالات دیکھ کر میری بیٹی ہمیشہ سوچتی رہتی ہےکہ آئے روز ہم کس طرح اپنی زندگی گذاریں گے۔اس سوچ وفکر نے ان کے دماغ میں ایک ذہنی تناؤ پیدا کیا ۔جس کی وجہ سے انہیںایک طویل عرصے سے علاج معالجہ جاری تھا ۔اس سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ حالات نے انہیں مجبورکیا اور وہ اس مقام پر کھڑی ہوئی، جہاں انہیں اپنی بے بسی کے سوا کچھ نظر نہیں آیا ۔ جب ان کے والدہ کو یہ سوال پوچھا گیا کسی نے آپ کو کبھی مدد نہیں کی تو یہ جواب ان میڈیا والوں کے لئے جواب دہ ہے جو وہاں کے اوقاف کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ ایک میڈیا والے نے یہاں تک کہہ دیا کہ مسجدوں کی تعمیر کی کیا ضرورت ہو اور آپ کی نمازے کس حال میں درست ہیں، ان کی باتوں سے یقیناً اسلام کے متعلق منفی اثرات پڑنے کا احتمال ہے ۔جب کہ بیوہ خود کہتی ہے ماہ رمضان اور غیر رمضان میں وقتاً فوقتاً لوگ مجھے مدد کرتے تھے۔ ہاں البتہ جس طریقے اس کی مدددرکار تھی، اس میںکوتاہی سرزد ہوئی ہوگی ۔اس سلسلے میں ہمارے مذہبی رہنماؤں اور اوقاف کمییٹوں سے ایسے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ ایسے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں نہ ابھرے کہ لوگ بے حس ہو چکے ہیں ا ور اس معاشرے میں ہر ایک فرد پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ سماج سدھار کاموں میںاپنی پیش قدمی دکھائیں۔ہر ایک گاؤںمیں ایک فعال بیت المال کی ضرورت ہے جو کہ ان جیسے واقعات کا واحدصد باب ہےاور ارباب اقتدار پر بھی یہ سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس حد تک سماج میں ان جیسے بے سہاروں کی امداد فراہم کرتے ہیں۔اس سترہ سالہ لڑکی نے ہماری لئے ایک واضح پیغام چھوڑاکہ اپنے ضمیروں کو بیدار کرو ،قبل اس سے کوئی اورخود کشی کربیٹھے ،پھر یہی سوال پیدا ہوگا کہ ان کی بے بسی تھی یا قوم کی بے حسی۔
[email protected]