خود فریبی میں ڈوبا محبوبہ کا سفینہ

سید الطاف بخاری ،جو سابق مخلوط حکومت میں وزیر خزانہ ، وزیر تعلیم اور وزیر تعمیرات رہ چکے ہیں، کو 19جنوری کے روز پی ڈی پی نے پارٹی سے بے دخل کرنے کا اعلان کردیا۔وجہ انتہائی مختصر الفاظ میںیہ بتائی گئی کہ وہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔بخاری صاحب نے فوری طور پر پارٹی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے اپنے لئے جیل سے آزادی کے مترادف قرار دیا۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر عبدالرحمان ویری نے دوسرے روز جن الزامات کا خلاصہ کیا،ان میں سب سے بڑا الزام ناگپور سے رابطہ تھا حالانکہ پی ڈی پی خود اس حکومت کی شراکت دار تھی جو ناگپور سے نظریاتی تعلق رکھتی ہے ۔بہرحال الطاف بخاری نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔لیکن جو لوگ سیاسی معاملات پر نظر رکھتے ہیں، وہ پہلے ہی درپردہ معاملات کو سمجھتے ہیںجانتے ہیں کہ پی ڈی پی میں الطاف بخاری کی حیثیت اور اہمیت ان کے اپنے مرتبے کی وجہ سے بلند اور برتر تھی اور ان کے بعد اب پارٹی میں محبوبہ مفتی کے علاوہ ایک مظفر حسین بیگ ہیںجسے سیاسی اعتبار سے وزن دار اور معتبر قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کی بھی کوئی عوامی ساکھ نہیں ۔الطاف بخاری سے پہلے عمران انصاری (سابق ایم ایل اے اور وزیر )حسیب درابو (سابق ایم ایل اے اور وزیر )بشارت بخاری (سابق ایم ایل اے اور وزیر )پیر محمد حسین (سابق ایم ایل اے اور وزیر )جاوید مصطفی میر (سابق ایم ایل اے اور وزیر )عابد انصاری (سابق ممبر اسمبلی )عباس وانی (سابق ممبر اسمبلی )سیف الدین بٹ (ایم ایل سی )یاسر ریشی (ایم ایل سی )اصغر علی ، محبوب اقبال،بشیر رونیال اور راجہ اعجاز علی پارٹی چھوڑ گئے یا پارٹی سے نکالے گئے۔مفتی محمدسعید مرحوم نے انہی ستونوں اور اینٹوں کو جوڑ جوڑ کرنیشنل کانفرنس کے مضبوط قلعے کے مد مقابل ایک سیاسی عمارت کھڑی کی تھی۔اب ستون گرچکے ہیں اور اینٹیں سرک رہی ہیں،اس لئے نیشنل کانفرنس خم ٹھونک کراعلان کررہی ہے کہ کوئی انتخابی گٹھ جوڑ نہیں ہوگا،ہم تن تنہاانتخاب لڑیں گے او ر مطلوبہ اکثریت حاصل کریں گے ۔ اس مایوس کن صورتحال میں پی ڈی پی صد ر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر وہی جامہ زیب تن کیا ہے جو انہوں نے 2014ء کے انتخاب سے پہلے کیا تھا اور جس کے بل بوتے پر انہوںنے پی ڈی پی کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی کا راستہ ہموار کیا تھا ۔ وہ عسکریت پسندوں کے حق میں بولنے لگی ہیں ۔ جاں بحق جنگجوئوں کے گھر جاکر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے جتن کررہی ہیں ۔ مرکز کی موجودہ بی جے پی سرکار پر کھلی تنقید کررہی ہیں۔ اس کی کشمیر پالیسی کوجارحانہ قرار دے رہی ہیں اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کی پرزور وکالت کررہی ہیں۔2014ء سے 2019ء تک ایک طویل عرصہ گزرا ہے اور اس عرصے میں ان کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت گزشتہ سال کے اختتام تک رہی ۔ ان کے والد وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے اور ان کے بعد وہ خود اس مخلوط حکومت کی وزیر اعلیٰ بن گئیں جوبھارتیہ جنتا پارٹی اور پی ڈی پی کے درمیان بات چیت کے بعد ایجنڈا آف الائنس پر اتفاق کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی ۔ ان کے والد نے اسے قطبین کا اتحاد قرار دیا تھا ۔اور انہیں قطبین کے اس اتحاد سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ بھول گئے تھے کہ خالق کائینات نے قطبین کے اتحاد کی کوئی صورت پیدا نہیں کی تو وہ کیسے کرسکتے ہیں ۔درحقیقت جسے قطبین کا اتحاد کہا گیا، وہ وقت کے تقاضوں ، چند ضرورتوں اور کچھ مجبوریوں کا اتحاد تھا ۔ایجنڈا آف الائنس میں ریاست کی خصوصی حیثیت، جسے ختم کرنے کا وعدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور کا حصہ تھا، کو التوا میں رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن کچھ ہی وقت کے بعد دفعہ 370اور دفعہ 35الف کو ختم کرنے کیلئے عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کردی گئیںاور یہ عرضیاں بی جے پی ارکان کی طرف سے ہی دائر کی گئیں ۔وزیر اعظم نے شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم کے جلسے میں مفتی محمد سعید سے کہا کہ انہیں مسئلہ کشمیر پر مشورے دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔مفتی صاحب کیلئے یہ ایک ایسی چوٹ تھی جسے وہ سہہ نہیں سکے اور اس کے بعد ان کی ہمت اور صحت دونوں جواب دے گئے۔ان کی وفات کے بعدپی ڈی پی کی قیادت ان کی دختر محبوبہ مفتی کے ہاتھوں میں آئی جنہیں اپنے والد کی مایوسیوں اور مجبوریوں کا پوری طرح احساس تھا ۔ان کے سامنے بی جے پی سے الگ ہونے کا راستہ موجود تھا لیکن ایک تو اقتدار ہاتھ سے چھوٹنے کا خدشہ تھا اور اقتدار جانے سے پی ڈی پی کے بکھر جانے کا بھی اندیشہ تھا۔انہوں نے محفوظ راستہ اختیار کرلیا لیکن یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ وہ مفتی محمد سعید نہیں کہ پارٹی لیڈران کے مختلف مزاجوں ،متضاد خواہشوں ، بلند و بالا امیدوںکو کامیابی کے ساتھ ایک میان میں رکھ سکیں ۔بہت جلد انہوں نے ایک کے بعد ایک غلطی ایسی کی کہ سینئر لیڈروں کو پارٹی پر ایک خاندان کی اجارہ داری کا احساس ہونے لگا ۔باا ثر افراد ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوششوں کا آغازکرنے لگے ۔ سازشیں شروع ہوئیں اور کھینچا تانی میں پارٹی کے اصل احداف اور مقاصد گم ہونے لگے ۔ایک طرف پارٹی کے اندر یہ صورتحال تھی اوردوسری طرف بھارتیہ جنتاپارٹی بھی حکومت کی بھاگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے اسی پارٹی کے اندر پھوٹ ڈالنے کی روادار تھی ۔محبوبہ جی نہ اندرونی حالات کو قابو میں کرسکیں اور نہ ہی بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرسکیں یہاں تک کہ ایک صبح انہیں معلوم ہوا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت سے الگ ہوچکی ہے اور وہ وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ انہیںقبل از وقت اس کا بالکل کوئی اندازہ نہیں ہوسکا تھا۔اس کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ سجاد غنی لون گورنر کے پاس حکومت بنانے کا دعویٰ لیکر جارہے ہیں تو الطاف بخاری نے ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت سے حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کا منصوبہ سوچا بھی اور اس کو روبہ عمل بھی لایا۔انہوں نے باغی گروپ کا ساتھ نہ دیکر اس کامنصوبہ بھی پورا نہیں ہونے دیااور اس کے بعد انہیں پی ڈی پی کا سب سے بڑا وفادار شمار کیا جارہا تھا ۔ پھر کیا ہوا کہ محبوبہ جی اور ان کے درمیان ایسی خلیج پیداہوئی کہ انہیں پارٹی سے بے دخل کرنے کی نوبت آگئی ۔ یہ وہ سوال ہے جس کا اس وقت کسی کے پاس جواب نہیں ۔ ایسا کچھ ضرور ہوا ہے جس سے عوام کو آگاہ کرنے میں دونوں کسی مصلحت کی وجہ سے احتراز کررہے ہیں ۔کو ئی ایسی بات ہے جو پردوں میں ہے لیکن بہت بڑی بات ہے ۔اگر ناگپور کا آشیرواد الطاف بخاری کو حاصل ہوتا تو وہ کب کے پی ڈی پی سے الگ ہوچکے ہوتے اور حکومت بھی بن چکی ہوتی کیونکہ بی جے پی حکومت بنانے میں دلچسپی رکھتی تھی ۔موجودہ صورتحال نے پی ڈی پی اور الطاف بخاری دونوں کو خسارے میں ڈال دیا ہے ۔اس صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ محبوبہ مفتی اس وقت جو کچھ کررہی ہیں ،اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ڈی پی کو ہر ایسے لیڈر سے صاف کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی مرحلے پران کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو۔ وہ مظفر بیگ کو خطرے کی گھنٹی نہیں سمجھتی ہیں ،اس لئے انہیں سرپرست اعلیٰ بنا کر پارٹی چھوڑنے سے روک دیا گیا ۔ انہیں غالباً اس بات کا مکمل یقین ہے کہ پہلے کی طرح عوام کے اندر جاکر وہ ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں ۔لیکن وہ یہ بات فراموش کررہی ہیں کہ 2014ء سے پہلے وہ اور انکی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ حکومت کی شراکت دار نہیں رہی تھی۔اب وہ لاکھ بی جے پی دی کی دھجیاں اڑادیں، جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں اگر ان کی جماعت کا کوئی لیڈر بھی بی جے پی کے بارے میں ہلکی سی بات بھی کہہ دیتا تو اسے دشمن تصور کیا جاتا تھا ۔آج ان کی حکومت کی کارکردگی کو تولا جائے گا جس نے سیلاب کے تحفظ کے پروجیکٹ کو بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا ۔ان تمام باتوں کو نظر انداز کرکے وہ جتنا زیادہ خود فریبیوں میں مبتلا ہوں گی اتنا ہی اسے نقصان ہوگا ۔ویسے خود فریبی کشمیر کے سیاست دانوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے۔ آج بھی جس طرح عمر عبداللہ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ڈی پی کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد نیشنل کانفرنس ہی ایک قوت باقی بچی ہے جو مطلوبہ اکثریت حاصل کرے گی ۔ کانگریس کو بھی یقین ہے کہ وہ کشمیر میں کم از کم اتنی نشستیں حاصل کرسکیں گی جتنی اسے حکومت بنانے کے لئے درکار ہوسکتی ہیں ۔پیپلز کانفرنس کو بھی اس کامیابی کا مکمل یقین ہے جس کی اسے ضرورت ہے ۔ تھرڈ فرنٹ کی بھی تیاریاں ہورہی ہیں ۔یہ سب اس لئے ہے کہ واحد مقصد اور مدعا اقتدار کا حصول ہے ۔ خصوصی حیثیت کا تحفظ اب قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔ کل ہی کی بات ہے کہ دفعہ 370اور 35اے کا تحفظ کرنے کیلئے مزاحمتی خیمے اور مین سٹریم کے ہم خیال ہونے کی باتیں ہورہی تھیں، اب سب بھول چکے ہیں ۔خود فریبیوں میں ڈوبے ہوئے سیاست داں زمینی حقائق کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ اقتدار کا سحر انگیز خواب ہے اور بلاشرکت غیرے مکمل اختیار کی حسرت ۔
  ماخوذ: ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر