خودکشی کے واقعات میں اضافہ لمحہ فکریہ

غازی عرفان خان۔ گاندربل
زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے اور انسان کو چاہیے اس کی قدر کرے۔کیونکہ آخر پر ہمیں اس کا حساب دینا ہے کہ ہم نے یہ نعمت کس طرح گزاری اور کہیں ہم نے اس کے ساتھ ظلم وزیادتی تو نہیں کی۔ ہر اس بات کا جواب ہوگا جو کچھ بھی ہم نے اس کے ساتھ کیا یا کریں گے۔پچھلے کچھ مہینوں سے وادی کشمیر میں خودکشی کے واقعات سُننے میں آئے ہیں،اور المیہ اس بات کا ہے کہ اکثر نوجوانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔یہ ایک سوالیہ نشاں ہے ، آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں!
کیا بے روزگاری اتنی ہے کہ ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی؟کیا منشیات کا اتنا رجحان ہے کہ اس دلدل سے باہر نکلنے کے راستے بھی نظر نہیں آ تے؟کیا ذہنی توازن اتنا بگڑچکا ہے کہ صحیح اور غلط میں کچھ فرق نظر نہیں آتا؟کیا ہماری تربیت میں کوئی کمی تو نہیں ؟اسی طرح کے بہت سارے سوالات معاشرے میں گردش کر رہے ہیں۔ماں باپ ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد کی تربیت صحیح ہو اور یہ اپنے ماں باپ کا نام روشن
کرے۔ لیکن کچھ بدبخت ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ اپنی زندگی کو تو ختم کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے والدین کی بھی کرتے ہیں۔
آئے روز کشمیر میں ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہیں۔ حال ہی میں وسطی ضلع کے گاندربل میں دوبچوں پر تیز دھار والے ہتھیار سے زخمی کر دیا گیا، اور اس کے بعد سرینگر اور اننت ناگ میں بھی ایسے ہی واقعات خبریں موصول ہوئی۔ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ ان پر حملہ ہوا ،سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کہاں کی اور جارہی ہیں۔ اس سے پہلے بڈگام اور سوپور میں بھی دلخراش واقعات پیش ہوئے بدقسمتی سے وہ زندگی کھو بیٹھے۔یہ تو حالیہ واقعات ہیں ورنہ پچھلے پانچ سالوں میں ایسے بہت سارے واقعات پیش آئے ہیں جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔ کہیں نہ کہیں ایسے واقعات میں منشیات کے بڑھتے رجحان کا اثر ضرور دیکھنے کو ملے گا۔ذہنی صحت کے لیے مخصوص ہسپتال کے لیکچرار ڈاکٹر جُنید نبی کہتے ہیں کہ’’ دوسروں کی نقالی میں بھی لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ ہم نے میڈیا سے بھی اپیل کی ہے کہ خودکشی کی خبروں کو بے احتیاطی کے ساتھ رپورٹ نہ کریں۔ اسے ہم ’کاپی کیٹ سوسائیڈ‘ کہتے ہیں‘۔‘ڈاکٹر جنید کہتے ہیں ماحول میں غیریقینی اور منشیات کی آسان دستیابی سے بھی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ۔چونکہ کشمیر میں بےروزگاری بھی عروج پر ہے، یہ بھی ایک وجہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ذہنی طور مفلوج ہوئے ہیں اور یہ تصور کر بیٹھے ہیں کہ ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہے اور اس وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
وہی دوسری طرف مہنگائی کا بحران یعنی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونا بھی ایک وجہ ہے۔لیکن اگر دیکھا جائے تو منشیات کا بڑھتا رجحان سب سے بڑی وجہ ہے۔
حکومت کے کرائم گزٹ برائے 2021 کے مطابق، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ سال 586خودکشی کے واقعات اور 2020 میں 472 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس خطے میں دیگر بھارتی ریاستوں کے مقابلے خودکشی کی شرح زیادہ ہے اور 2010 سے 2018 تک خودکشی کے ذریعے 2,612 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ کچھ مطالعات کا اندازہ ہے کہ 7 ملین کی مضبوط آبادی میں سے تقریباً 45فیصدکسی نہ کسی قسم کی ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی این جی او ایکشن ایڈ اور IMHANS کی طرف سے شائع ہونے والی 2016 کی ایک رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ ذہنی عارضے خاص طور پر کمزور گروہوں میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق جموں و کشمیر میں خودکشی کی شرح میں پچھلے کچھ سالوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں، ریاست میں فی 100,000 افراد میں خودکشی کی شرح 10.3 ہے، جو کہ قومی اوسط 10.2 سے زیادہ ہے۔ خطے میں خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، بہت سے ماہرین اس اضافے کی وجہ جاری تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صدمے اور تناؤ کو قرار دیتے ہیں۔لہٰذا حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر NGO’s کو بھی اس وقت کونسلنگ پروگراموں کا انعقاد کرنا ہوگا تاکہ ذہنی طور مفلوج اور ایسے قدم اٹھانے والے لوگوں کی بر وقت تربیت ہو۔
[email protected]