خودکشی کے بڑھتے واقعات۔ ایک المیہ

انسان کا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ناک(قوت رائحہ) ،کان(قوت سامع) ،زبان(قوت گویا) ،آنکھ(قوت بصیرت) اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔اس زندگی جیسی انمول نعمت پرصرف اللہ کا اختیار ہے۔یہ زندگی ہمارے پاس بطور امانت ہے، وہ اپنی اس امانت کو کب اور کس وقت واپس لے،اِسکا علم اُسی رب کریم کو ہے ۔زندگی اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لئے ایک اساس/بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔اسلئے دین اسلام نے جسم وجان کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افراد معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ  زندگی کے کسی بھی موڑ پر خودکشی کے مرتکب نہ ہوں۔ ہمارا مذہب اسلام کسی انسانی بشر کو اپنی جان تلف کرنے کی اجازت نہیں دیتا  ہے۔
ََ’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہےاور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے‘‘۔اس حدیث کے ذریعےنبی کریمﷺ نے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور انکے حقوق کی تلقین کرنے کی تاکید کی ہے ۔ہمارے سرور کائناتﷺ نے خودکشی جیسے حرام و کبیدہ فعل کے مرتکب کو دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔ 
 خودکشی کا مطلب :
خود کو خالق خدا کے بغیر حکم کے ہلاک کرنا،باالفاظ دیگر اپنے آپکو جان بوجھ کر کسی مشکل سے تنگ آکر موت کے حوالے کرنا ۔خودکشی کا حکم گناہ کبیرہ اور حرام ہے ۔گناہ کبیرہ وہ ہے جس کے بارے میں کوئی وعید یا حد بیان کی گئی ہو۔
وجوہات :
جیسا کہ آپ سب ان واقعات سے باخبر ہونگے کہ موجودہ ایام وادی میں کس طرح سے خودکشی کے واقعات آئے دن ہمارے گوش گذار ہوتے رہتے ہیں ۔جسے پڑھ کر ہر خوانندہ کا دل تھم جاتا ہے ۔آخر اسکی اصل وجہ کیا ہے ؟۔کیوں لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں ؟۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے کہ اسکی مندرجہ ذیل وجوہات سامنے آئی ہیں۔ مثلا ًسب سے بڑی وجہ عوام الناس کی اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری،صبر و تحمل کی کمی،دنیاوی خواہشات اور اسکے وسائل کی کمی،گھریلوے جھگڑے،قرضوں کی نادائیگی،بیماریوں اور مصیبتوں سے تنگ آکر ہار ماننا،کاروبار و تجارت میں پریشانی،ذریعہ معاش کا نہ ہونا،اپنی پسندیدہ شادیوں کے مطالبات،امتحانات و ملازمات میں ناکامی و مہنگائی جیسے وجوہات سے لوگ تنگ آکر ذہنی پریشانی و دباؤ کا شکار ہو کر خودکشی جیسے اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر انسان ان مشکلات میں صبر کو اپنائے اور اللہ کی رحمت کا طلبگار رہے تو وہ اس گناہ کبیرہ اور عذاب جہنم سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں خودکشی کی ممانعت:
سورہ النساء میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:(ترجمہ)’’اور اپنے آپکو قتل نہ کرو یقینا اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔اور جو شخص یہ (نافرمانیاں)سرکشی اور ظلم سے کریگاتو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کرینگے اور یہ اللہ پر آسان ہے‘‘۔
حدیث پاکﷺ۔کی روشنی میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:ہم نے آپﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ "جس نے اپنے آپکو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہیگا۔اور جس نے زہر پی کر اپنے آپکو قتل کیا تو جہنم کی آگ میں زہر ہاتھ میں پکڑ کر اسے ہمیشہ پیتا رہیگا ،اور جس نے لوہے کے ہتھیار کے ساتھ اپنے آپکو قتل کیا تو وہ ہتھیار اسکے ہاتھ میں ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں مارتا رہیگا‘‘(صحیح بخاری،صحیح مسلم)
جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص زخمی تھا ،وہ زخم کو برداشت نہیں کر سکا،تو اس نے چھری لے کر اپنا ہاتھ کاٹ دیااور خون بہنے کی وجہ سے مر گیا تو اللہ نےارشاد فرمایا: میرے بندے نے اپنی جان کے ساتھ جلدی کی ہے ،میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔(صحیح بخاری،مسلم)
توآپﷺ نے بطور سزا( تاکہ لوگ اس اقدام سے دور رہیں اور دوسروں کواس اقدام سے روکیں)اُس خود کشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور دوسرے لوگوں کو اسے ادا کرنے کی صلح دی۔
اسلام میں موت کی تمنا کی دعا کرنا بھی حرام ہے تو خودکشی تو اسے کبیدہ امر ہے ۔اسکے برعکس آپ ﷺنے ان لوگوں کو خوش نصیب بتایا ہے جو اپنے لئے لمبی عمر کی دعا کرتے ہیں کیونکہ آپﷺ رجب کا چاند دیکھتے ہوئے یہ دعا کرتے تھے ۔’’اے اللہ!ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما  اور ہمیں رمضان کے مہینےتک پہنچا دے ‘(یعنی ہماری عمر لمبی کر دیجئے اور ہمیں رمضان تک زندہ رکھئے تاکہ آپکی اطاعت و فرمابرداری کروں اور رمضان کے انوار و برکات سے فائدہ اٹھا سکوں)  اور موت کی تمنا کرنے کو سخت منع فرمایا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا: اے لوگو! تم موت کی تمنا مت کرو ،اسلئے کہ آخرت کی ہولناکی بہت سخت ہے۔(شعب الایمان)
اسلام میں انسانی جان کی قدروقیمت:
یہ ایک مسلم حقیقیت ہے کہ اسلام سے پہلےپوری دینا کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انسانی جان کی قدروقیمت ایک کیڑے مکوڑے کی جان سے زیادہ نہیں تھی ۔رومیوں اور یونانیوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے، رومی کس طرح باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو قتل کرنے میں ذرا بھی جھُجھک نہیں کرتے تھے ۔شوہر اپنی بیوی کو کسی پالتو جانور کی طرح ذبح کرتا تھا اور یونان کے قانون میں اس بدترین گناہ کی کوئی سزا نہ تھی ۔لیکن اسلام نےانسان کو جامع اور مکمل نظام زندگی دی ہے ۔ہر ذی روح کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے ۔اسلئےانسان کو چاہیے وہ مصائب و آزمائشوںمیں صبر کرے کیونکہ جو انسان صبر سے کام لیتا ہے،اللہ اسکے درجات بلند کرکے اسکو دوگنا اجر دیتا ہے۔
 ہماری اسلامی تاریخ میں کتنے ایسے دل دہلانے والے واقعات ہیں۔ جن سے آج کے معاشرے کو سبق آموز ہونا چاہئے۔اپنے پیغمبران خدا کو دیکھئے، انہوں نےاللہ کو راضی رکھنے کے لئے کتنے مصائب وتکالیف برداشت کئے ۔کبھی کسی نے بھی مصائب پر اُف تک نہیں کیا۔حضرت ایواب ؑ جنکو اللہ نے بے شما ر مال و دولت عطا کیا ،پھر چالیس سال تک لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوئے لیکن اللہ سے کبھی شکوہ نہیں کیا بلکہ اسکو اپنا نصیب سمجھا۔یوسف ؑ کو اپنے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا ۔ابراہیم ؑ کو دھکتی ہوئی آگ میں ڈالا گیااور ہمارے نبی آخرالزماںؐ کی سیرت کا مطالعہ کر کے دیکھئے ،کس طرح  آپ ؐ  پرظلم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن اللہ سے کبھی شکوہ نہیں کیا۔شعیب ابو طالب کی گھاٹی میں ڈھائی سال رہنے کا صبر دیکھئے ،پیڑ کے پتے کھا کر زندگی گذاری،طائف کی وادی کا منظر یاد کیجئے، جب دین اسلام کی دعوت دینے گئے تو بدلے میں مشرکین نے آپکے پاؤں پراتنی ضربیں لگائیں کہ  کہ پیروںکی ایڑیوں سے بھی خون ٹپکنے لگا لیکن انہوں نے صبر کو اپنے دامن سے جانے نہ دیا ،بس لوگوں کے لئے ہدایت کی دعا مانگتے رہے۔
دورِ حاضرہ میں معاشرے میں اتنی سہولیات تو ہیں کہ انسان گھر بیٹھ کر نہیں تو دن بھرمحنت و مشقت کرکے اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔اللہ نے آپکو ایک تندرست جان دی، جسکی اہمیت ایک معذور سے پوچھئے،اللہ نے آپکو رہنے کے لئے گھر دیا ،جس کی اہمیت رات سڑک پرگزارنے والے لوگوں سے پوچھئے،اللہ نے آپکو پوشاک زیب تن کرایا جسکی اہمیت بدن پر پیوند لگا ہوا کپڑے پہننے والے سے پوچھئے ۔پھر بھی ان نوازشات کے باوجود خودکشی جیسا اقدام اٹھانا ایک احمقانہ فعل ہی تو ہے۔ اس سے دنیا اور آخرت دونوں خراب ہوتے ہیں۔ یہ قدم اپنے عز یز و اقارب کے لئے بھی ایک دلی صدمہ بن جاتا ہے۔اللہ نے زندگی کے بہت راستے بنائے ہیں اگر ایک بند کرتا ہے تودوسرا کھول دیتا ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایمان کی اتنی کمزور پرورش آ گئی ہے کہ انسان کو اللہ اور اسکی ذات پر کامل بھروسہ ہی نہیں رہا ہے ۔
آج معاشرے میں خودکشی جیسا نازیبا فعل بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس لئے لازمی ہے کہ اس سے بچنے کے لئے تدابیر کئے جائیں اور اس کے لئے وہ تمام طریقے و اسباب اپنا ئےجائیںجو کار آمد اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں ۔اسکے چند طریقہ کار یہ ہیں کہ سب سے پہلے لوگوں کے دلوں میں اللہ کا اور آخرت کے دن کا خوف پیدا کریں، قرآن و حدیث کے ذریعے سے وعیدوں و سزاؤں سےانہیں با خبر کریں،صبر و تحمل کے بارے میں قرآنی تعلیمات سے روشناس کریں۔انبیاء اکرام کو جن مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، ایسے حالات و واقعات عوام الناس تک پہنچائے جائیںاورہرمشکل معاملے میں اللہ سے صبر و جمیل کی توفیق مانگیں اور دعا کریں ۔یہی آخری اور اطمینان بخش فعل ہے۔
(ریسرچ اسکالر ۔علی گڈھ مسلم پونیورسٹی )
رابطہ۔ نادی ہل ،بارہمولہ 
فون نمبر۔۔73024161200
ای میل۔[email protected]
�������