خودکشی کےاسباب و علل

آج کل ہمارے معاشرے میں خودکشی کرنے کا رحجان روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے۔یہ رحجان فیشن بن چکا ہے۔گھر والے کسی نوعمر کو معمولی سا ڈانٹ دے تو وہ خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس برائی کے مرتکب زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں ہو رہے ہیں۔کوئی بھی کام جس کو اللہ رب العزت نے حرام قرار دیا ہو ،وہ اس بنا پر  حلال نہیں ہو سکتا کہ لوگ اس کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خود کو  کسی بھی طریقے پرہلاک کرنا جرم ہے، گناہ ہے اور اس کی سزا جہنم کی آگ ہے۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’ اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے‘‘ گویا اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ خودکشی نہ کرو اس کے بعد بھی جو اس برائی کا مرتکب ہوگا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیچھے بہت سارے محرکات  ہوسکتے ہیں۔ ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔بعض نوجوان روزگار کے سبب تنگ اور شدید پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔اس ذہنی الجھن کو وہ برداشت نہیں کر پاتے اور تنگ آکر زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔اللہ رب العزت نے چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک، معمولی کیڑے سے لے کر سمندر کے بڑے بڑے جانوروں تک کے لیے رزق کا انتظام کر رکھا ہے۔جس اللہ رب العزت نے جانوروں کے لیے روٹی کا انتظام رکھا ہے وہ انسان کو بھی کھلاتا پلاتا ہے۔انسان کو اللہ رب العزت کی ذات مبارک پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ حقیقی معنوں میں وہی رزاق ہے۔اللہ رب العزت کی ذات مبارک پر بھروسہ رکھنے سے خود کشی کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔انسان کو قناعت پسند اور اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔اگر انسان بڑے بڑے محلوں میں رہنے کا خواب دیکھنے کے بجائے معمولی گھر کو ترجیح دے، فضول خرچی  کرنے سے باز رہے تو بہت ساری پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔عمدہ غذاؤں ، فیشنی لباس ،رہنے سہنے میں ظاہر داری کے بجائے سادہ طرز زندگی اختیار کرلینے سے بہت سارے مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں۔خود کشی کی دوسری بڑی وجہ عشق مجازی میں مبتلا ہوجانے کے بعد من پسند شادی نہ ہونا بھی ہے۔بعض اوقات عاشق و معشوق کا ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے کے باعث یا پھر گھر والوں کے انکار کے سبب نوجوان نسل تنگ آکر زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔انسان فانی ہے اور فانی چیزوں سے اتنا ہی حُب رکھنا چاہیے جتنا جائز ہے۔اللہ رب العزت کے محبت میں خود کو رنگ لینا عشق مجازی کی تباہ کاریوں سے بچاتا ہے۔عشق مجازی میں مبتلا ہونا فیشن بن گیا ہے۔ چونکہ ہر طرف عریانی ، بے پردگی ،فحاشی عام ہوگئی ہے، اس لیے اِس برائی سے بچنا مشکل ہے۔فلم بینی ہو یا عشقیہ ناولوں کا مطالعہ انسان پکا ارادہ کرلے اور ان چیزوں سے دور رہے تو عشق مجازی سے ہی نہیں بہت ساری پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ خود کشی کے پیچھے تیسری بڑی وجہ نشہ ہے۔آج کل نوجوان مختلف قسم کے نشے کرتے ہیں۔سگریٹ سے لے کر چرس ،افیون ،کوکین ، برون شکر اور مختلف قسم کی ادویات اور گولیوں کا استعمال نشے کے بطور کیا جاتا ہے۔جب نشہ پختہ ہوجاتا ہے اور اس کی شدت بڑھ جاتی ہے تو اس تڑپ اور شدت کو دور کرنے کے لیے چوری اور دیگر برائیوں میں ملوث ہوجانا عام بات ہے۔بعض دوستوں کی دیکھا دیکھی اور اپنے جذبے کی تسکین کے لیے زہر کو آب حیات سمجھ کر پی رہے ہوتے ہیں تو کچھ غلط صحبت میں پڑھ کر نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔جب اس کا حصول مشکل یا ناممکن ہوجاتا ہے تو نوجوان مختلف ذہنی الجھنوں کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے اور آخر کار خودکشی کر بیٹھتا ہے۔ایسے میں والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ ریکھ کریں۔بچہ کس صحبت میں ہے، کیا کر رہا ہے ،ان سب باتوں پر والدین کو دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔والدین کی کوتاہی ، غیر ذمہ داری اور غفلت کے نتیجے میں بہت بڑا خمیازہ اولاد کے کھوجانےکی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
خودکشی کا چوتھا بڑا سبب پریشانی، مایوسی اور ناامیدی ہے ۔لگاتار مایوس رہنے سے ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی دماغ مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے۔مایوس انسان شیطان کے بہکاؤے میں آکر خود کشی کا قدم یہ سوچ کر اٹھاتا ہے کہ مایوسی سے نجات مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ناامیدی کفر ہے۔ اللہ کی رحمت سے ہرگز ناامید نہیں ہونا چاہیے۔انسان کی زندگی میں تادیر نہ خوشی رہتی ہے نہ پریشانی۔دن رات کی طرح انسانی زندگی میں خوشیوں کی روشنی بھی آتی ہے اور غموں کا اندھیرا بھی۔ایسے میں انسان کو اللہ رب العزت سے رجوع کرنا چاہیے، وہی مشکل کشا ہے اور سارے غموں ، پریشانیوں، دکھوں کا مداوا کرنے والا ہے۔اللہ رب العزت سے قربت اور دین کی راہ پر چلنے کے علاوہ مایوسی کا بہترین علاج ورزش ہے۔اس سے انسانی دماغ تروتازہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف لگ جاتا ہے۔ورزش سے وہ اس مخصوص پریشانی اور مایوسی کی کیفیت کے بارے میں سوچنا ترک کر لیتا ہے۔دوستوں سے گپ شپ اور سیر و تفریح سے بھی مایوسی اور ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ان وجوہات کے علاوہ گھریلو تنازعات اور جھگڑوں سے تنگ آکر بعض لوگ خودکشی کا جرم کر بیٹھتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کاندھوں پر قرض کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتے۔بعض ناکامی کو برداشت نہیں کرپاتے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔گویا ذہنی الجھن کسی قسم کی بھی ہو بعض جذباتی اور غصیلے لوگ برداشت نہیں کر پاتے اور خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھاتے ہیں۔
خودکشی جرم ہے اور اس کا عذاب خطرناک ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے کہ جو پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ نار دوزخ میں ہمیشہ گرتا رہے گا اور جو شخص زہر کھا کر خودکشی کرے گا وہ نار دوزخ میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا۔جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کی تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اس سے اپنے آپ کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا۔ حدیث شریف کے مطابق خودکشی کرنے والے کے لیے جہنم کا شدید عذاب ہے جس سے اس کا بچنا محال ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم غزوہ حنین میں حاضر ہوئے تو اللہ کے محبوبﷺ نے ایک شخص کے بارے میں جو کہ اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا کہ یہ دوزخی ہے۔پھر جب ہم قتال میں مشغول ہوئے تو وہ شخص بہت شدت سے لڑا اور اسے زخم لگ گیا۔کسی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺجس کے بارے میں آپ ﷺ نے  پہلے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے اس نے آج شدید قتال کیا اور مرگیا۔تو نبی اکرمﷺ  نے فرمایا کہ وہ جہنم میں گیا۔قریب تھا کہ بعض لوگ شک میں پڑجاتے کہ کسی نے کہا کہ وہ مرا نہیں تھا بلکہ اسے شدید زخم لگا تھا اور جب رات ہوئی تو اس نے اس زخم کی تکلیف پر صبر نہ کیا اور خودکشی کرلی۔ خدا نخواستہ اگر کسی کو خود کشی کرنے کے خیال اور وسوسے آتے ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ عذاب کی طرف دھیان کرکے شیطان کے وار کو ناکام بنائے۔کسی بھی پریشانی کا سامنا کیوں نہ ہو، حالات کیسے ہی مخالف اور ابتر کیوں نہ ہوں،خدا کے بندوں کو چاہیے کہ وہ صابر اور شاکر بن کر پریشان حالی کا سامنا مردانہ وار کریں۔دنیا کی تکلیف انسان برداشت کر سکتا ہے آخرت کی تکالیف اور سزا  کو برداشت کرنا  انسان کے بس سے باہر ہے۔اللہ رب العزت اپنے بندوں کو مختلف قسم کی پریشانیوں اور مسائل میں مبتلا کرکے ان کی آزمائش کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ یہ بردباری اور تحمل سے میری بندگی بجالاتے ہیں یا بے صبری کا مظاہرہ کرکے میری رحمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔آزمائش کے دوران جس نے صبر کیا اس نے فلاح پائی جس نے بے صبری کا مظاہرہ کیا ،واویلا مچائی،ناشکری کی اور زندگی سے بیزار ہوکر خودکشی کی اس نے اپنا خسارہ کیا اور امتحان میں بری طرح ناکام رہا۔اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کو اذیت سے گزارنا کسی طور جائز نہیں۔نوجوان نسل کو چاہیے کہ صبر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کی برائیوں سے دور رہے ،اپنی جان پر احسان اور والدین کے خوابوں کا مان رکھے۔علماء کو اہم کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔
رابطہ:8493981240