خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان! معاشروں کو سدھارے بغیر اسباب کا خاتمہ ناممکن

ندیم خان۔ بارہمولہ 
زندگی کو اپنے ارادے سے اور اپنے ہاتھوں ختم کرنا کتنا خوفناک ہے ! تشدد کی انتہائی سنگین شکل، بھیانک احساس اور تکلیف دہ عمل، خودکشی ہے کیا؟ کیفیت ہے وہ، جسے انسان خود اپنے اوپر طاری کر کے اپنے ہی ہاتھ سے اپنی جان لے لیتا ہے۔ کسی نے زہر کا پیالہ پیا تو کوئی پھندے سے لٹک گیا، کسی نے خود کو گولی ماری تو کوئی اپنی ہی لگائی آگ میں جل گیا۔ تاریخ بے نام ہی نہیں، نامور لوگوں سے بھی بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے زندگی کا قتل کیا۔ شاعر ثروت حسین نے کہا تھا۔
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
کہا جاتا ہے کہ خودکشی انتہائی بزدلانہ فعل ہے مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی جان لینا خاصا مشکل کام ہے اور یہ بہادر ہی کر سکتے ہیں۔ ذہنی بیماری (خودکشی ) کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے ،جس میں انسان خود کو بے بس اور بے یار و مددگار سمجھنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہتری کی کوئی امید باقی نہیں رہی، تو مایوسی میں وہ اپنی زندگی ختم کر لیتا ہے۔ جاپان میں خودکشی کو ایک مقدس اور بہادرانہ فعل سمجھا جاتا ہے اور لوگ ذرا ذرا سی بات پر ہتک عزت، کاروبار میں نقصان اور عشق میں ناکامی پر اپنی جان ضائع کر دیتے ہیں۔ آخر کیا اسباب ہیں کہ انسان جینے کے ہاتھوں تنگ آکر ایسا کر لیتا ہے اور کون سے محرکات اْسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ غیر فطرتی طریقے سے موت کو گلے لگا دیتا ہے۔ نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔طلبہ اور نوجوانوں میں منفی خیالات اور رجحانات کا نمودار پانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً ہمارے تعلیمی اور سماجی نظام میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ کوئی ایسی بات یا فکر ہے جو ہماری نوجوان نسل کو خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ خودکشی کی خبروں خاص طور پر نوجوان نسل کی جانوں کے اتلاف کی خبریں ذہن و دل کو آئے دن ملول کر رہی ہیں۔ نوجوان نسل ہمارے ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خودکشی کی بے شمار وجوہات میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خوداعتمادی کا فقدان، غربت، عشق و محبت میں ناکامی بےروزگاری وغیرہ شامل ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے زیادہ تشویش کا پہلو تعلیمی دباؤ کی وجہ سے رونما ہونے والی اموات (خودکشیاں) ہیں۔ ریسرچ میگزین لینسٹ (Lancet) کے مطابق ہمارے ملک کے نوجوانوں کی موت کا دوسرا بڑا سبب خودکشی ہے۔ لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں طبی نفسیات کے پروفیسر وکرم پاٹل کے مطابق ساری دنیا کے مقابلے میں ہندوستان میں پڑھے لکھے اور امیر نوجوانوں میں خود کشی کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔ لینسٹ کے مطابق جنوبی ہندوستان میں خودکشی کا رجحان سارے ملک کے مقابلے میں بہت تیزی سے سرایت کرتا جارہا ہے۔ جنوبی ہندوستان کے خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے پندرہ تا تیس برس کے نوجوانوں میں خودکشی کا پریشان کن رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مغربی ممالک میں خودکشی کا رجحان زیادہ تر عمر رسیدہ بزرگ افراد، غریب اور کم تعلیم یافتہ شہریوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کے برخلاف ہندوستان میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر امیر اور اعلی تعلیم یافتہ گھرانوں کے نوجوان پائے گئے ہیں۔ یہ بات ماہرین نفسیات کے لئے الجھن، بے چینی اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کئی بچے والدین اور اساتذہ کی جانب سے لادے گئے تعلیمی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کر بیٹھتے ہیں۔ دنیا میں ہر انسان کم از کم ایک بار ڈپریشن کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ یہ منفی رجحانات ذیل میں پیش کردہ شکلوں یا پھر کسی اور صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ بعض موقعوں پر ڈپریشن اتنی شدت اختیار کر جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل پانا لوگوں کے لئے سخت مشکل کام ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ناامیدی کا شکار نوجوان مسائل سے نجات پانے کے لئے اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔ ہر خودکشی کے پیچھے کوئی وجہ اور کوئی قاتل خواہ والدین کی صورت، اساتذہ، خاندان یا معاشرے کے کسی فرد کی شکل میں یا پھر معاشرتی، معاشی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی پالسیوں کی شکل میں ضرور چھپا ہوا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ہر سال تقریباًدس لاکھ افراد خودکشی کر لیتے ہیں، یوں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ ہر تین سیکنڈ بعد ایک شخص خودکشی کی ناکام کوشش کرتا ہے، خودکشی کے ہر کیس میں کم سے کم 20 بار جان لینے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے جب کہ خودکشی کی کوشش میں ہر چالیس افراد میں سے ایک کی موت ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں خودکشی سے اموات کی تعداد جنگوں اور قتل کی مجموعی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔ دنیا میں ہلاکت کی تیرہویں بڑی وجہ خودکشی کو قرار دیا جاتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں نوعمر(ٹین ایجز ) میں موت کی پہلی وجہ خودکشی بن چکی ہے، یہاں ہر چھ میں سے ایک لڑکی خودکشی کرتی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں دس لاکھ کی آبادی میں 25 افراد جب کہ افریقا میں دس لاکھ میں نو افراد خودکشی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں سے ایک تہائی کا تعلق کم آمدن والے طبقے سے ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں خودکشی کی بلند ترین شرح کے حوالے سے سرفہرست جنوبی کوریا ہے۔ تاہم جاپان میں خودکشی کی شرح برطانیہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ جاپان میں اوسطاً یومیہ 58 افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں خود کشی کئی صدیوں سے معاشرتی وقار کے ساتھ کی جاتی رہی ہے، تاہم اب اس رویے میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ قدیمی عسکری رویے کے مطابق کسی بھی ناکامی کی صورت میں خودکشی سے مرنا وقار کی ایک علامت ہے۔ جاپان میں1998 سے لے کر 2011 کے درمیان ہر سال 30 ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کا ارتکاب کیا تھا۔ تاہم گزشتہ تیرہ برسوں سے خودکشی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق جاپان میں خودکشی کی بڑی وجہ ڈپریشن اور تنہائی ہے۔
بھارت میں سالانہ اوسطاً ایک لاکھ 35 ہزار افراد کی خودکشی رپورٹ کی گئی ہے، 60 ہزار کسان اپنی جان لے چکے بھارت میں خودکشی کے حوالے سے اعداد وشمار مختلف ہیں، تاہم اوسطاً ایک لاکھ 35 ہزار افراد سالانہ خودکشی کرتے ہیں۔ عالمی ادارئہ صحت 2012 کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خودکشی کا تناسب ایک لاکھ مردوں میں 25 عشاریہ 8 جب کہ خواتین میں ایک لاکھ میں 16 عشاریہ 4 ہے۔1987سے2007 کے عرصے کے دوران خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2011 میں 135585، 2012 میں 135445، 2013 میں 134799، 2014 میں 131661، 2015 میں 133623، 2016 میں 132342، لوگوں نے خودکشی کی۔ یاد رہے کہ بھارت دماغی صحت کے شعبے میں بنگلہ دیش سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔
موجودہ طرز زندگی میں اسکولوں، کھیل کود کے میدانوں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بچوں پر یہ مسلسل دباؤ رہتا ہے کہ وہ بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ گھر واپس آ کر بھی انہیں ڈھیروں ہوم ورک کرنا ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں بچوں پر جسمانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہیں۔ کسی بھی خاندان میں والدین کے درمیان مسلسل ہونے والے جھگڑوں یا طلاق کا بچوں پر انتہائی بْرا اثر پڑتا ہے۔ امریکی تحقیق کے مطابق ٹوٹے خاندانوں کے بچوں کو ڈپریشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ بچوں کی جسمانی نشو ونما میں کھیل کود کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ بچوں میں ذہنی بیماریوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ کم کھیل کود سے بچوں میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے۔ امریکی طبی جریدے کے مطابق وہ بچے جو دن میں پانچ گھنٹے سے زیادہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کھیلتے ہیں یا ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، ان کے ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بچے بازار سے ملنے والی میٹھی چیزوں کے عاشق ہوتے ہیں، مثلاً ٹافیاں، کیک، مٹھائیاں، اور کاربونیٹڈ ڈرنکس وغیرہ۔ ان میں چینی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق چینی کی زیادہ مقدار ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے اور یہ دماغ کی نشوونما سے متعلق ہارمونز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن بین الاقوامی سطح پر خودکشی سے بچاؤ کا شعور اجاگر کرنے، سماجی، معاشی اور ذہنی صحت کے مسائل پرقابو پانے کیلئے ہر سال دنیا بھر میں 10 ستمبر کو ’خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن ’منایا جاتا ہے۔ خودکشی سے بچاؤ کی عالمی تنظیم یہ دن عالمی ادارہ صحت اور دماغی صحت کی عالمی فیڈریشن کے تعاون سے مناتی ہے۔ 2004 میں ہونے والی خود کشیوں کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا کہ 2024 تک دنیا بھر میں سالانہ خودکشیوں کی تعداد پندرہ لاکھ تک جا پہنچے گی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے پہلی مرتبہ خودکشی سے بچاؤ کی پالیسی کی منظوری 1990میں دی گئی۔ خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن پہلی بار دس ستمبر 2003 کو قرار دیا گیا،2011 میں 40 ممالک میں اس دن کو سرکاری سطح پر منایا گیا۔ اسی طرح ذہنی بیماریوں اور دبائو کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کے تدارک اور ان کے بارے میں عوام میں آگاہی پھیلانے کی غرض سے ہر سال 10 اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک نایاب اور انمول تحفہ ہے یہ نعمت ایک بار ہی ملتی ہے جس کی قدر کرنی چاہیے۔ قران میں واضح ہے کہ’’تم خود اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘۔
رابطہ/ 6005293688