خوددار خالد نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے

کپوارہ// ترہگام کا شاید ہی کوئی گھر ہو گا جوگزشتہ تین دہائیوں کے دوران کسی حادثے ،المیے یا اندوہناک واقعہ کا شکار نہ ہوا ہو۔بنہ پورہ ترہگام کے ملک خاندان کی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔ اس خاندان کا خالدنامی ایک نوجوان4روز قبل  فوج کی گولیوں کاشکار ہوکر جا ں بحق ہوا۔اس واقعہ نے پورے ترہگام کو صدمے سے دو چار کیا اور پورے ترہگام اور اس کے گرد و نواح کے لوگ اس سانحہ سے کا نپ اٹھے ہیں ۔خالدکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک خوددار نوجوان تھا ۔اپنے والد کا لاڈلا خالد کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی ہر ممکن کوشش میں تھا،اور اس نے ترہگام میں ہی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہی ایک دکان بھی کھولی تھی جہاں  سے وہ اپنا روزگار کما رہا تھا۔خالد کے والد عبدالغفار نے اپنی اہلیہ کوجوانی میں ہی کھو دیا ہے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے بچوں کی بہتر طور پرورش کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں ماں کی کمی کااحساس نہ ہو۔خالد کے والد کو موجودہ حالات میں ہروقت اپنے بچوں کی سخت فکر لگی رہتی تھی ۔خالد کے والد عبدالغفار نے بتایا کہ 12جولائی کووہ اپنے گھر میں تھااور خالد معمول کے مطابق دکان پر تھاکہ اس دوران اچانک گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھر سے باہر آیا تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ گولیاں کہاں چل رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ گماں بھی نہ تھا کہ ان گولیوں نے ان کے بیٹے کو اپنا شکار بنایا ہے۔عبدالغفار نے بتایا کہ جب وہ خالد کے دکان کے پاس پہنچاتو انہوں نے اپنے بیٹے کو خون میں لت پت پایا۔خالد کی بہن بھائی کی موت کے غم سے نڈھال ہے اور وہ اُن راہوں کو تکتی ہے جہاں سے خالد گزرتا تھا۔خالد کے رشتہ دار بتاتے ہیں کہ وہ ایک باصلاحیت نوجوان تھا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا اُسے شوق تھا لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے اپنا روزگار بھی کما رہا تھا اور اس کیلئے اُس نے دکانداری کا پیشہ بھی اختیار کیا تھا تاکہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ خالد کی جدائی سے اس کا پورا خاندان غمزدہ ہے۔