خواص روڈ پروجیکٹ،5دہائیوں سے منصوبہ نا مکمل

راجوری//راجوری ضلع کی خواص تحصیل کے لوگوں نے 2 فروری کو ’راجوری چلو آندولن‘ کی کال دی تاکہ پانچ دہائیوں کے باوجود سڑک کے منصوبے کو مکمل نہ کرنے کے سلسلہ میں انتظامیہ سے اپنا احتجاج درج کروا سکیں ۔اس دور افتادہ تحصیل کے مختلف دیہات کے لوگ پیر کے روز تحصیل ہیڈ کوارٹر میں جمع ہوکر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں خواتین سمیت تحصیل کے مختلف دیہات کے لوگوں نے شرکت کی۔اجلاسکے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقامی قائدین بشمول گوردیو سنگھ ٹھاکر اور دیگر نے کہا کہ کوٹرنکہ سے خواص تک سڑک اولین اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ پوری تحصیل خواص کو کوٹرنکہ سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر اور راجوری ضلع کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے اعتبار سے مذکورہ سڑ ک انتہائی اہمیت کی حامل ہونے کے باوجود بھی انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سڑک کی تعمیر کا کام1972 میں شروع کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ایک مناسب سڑک بننا باقی ہے اور اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ  پانچ دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے سڑک کے مناسب رابطے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سڑک کیلئے سنٹرل روڈ فنڈ کے تحت برسوں پہلے نئے منصوبے کی منظوری دی گئی تھی اور اس پر کام شروع کیا گیا تھا لیکن یہ کام سست رفتاری سے کیا گیا اور اب یہ کام لٹکا ہوا ہے۔لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ پر کام اب تقریباً رک چکا ہے اور کچھ خدشات ہیں کہ یہ منصوبہ منسوخ ہونے والا ہے کیونکہ اس پروجیکٹ پر ہونے والا کام اپنے تسلسل کیلئے کچھ معیارات پر پورا نہیں اتر سکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’اس سڑک کی تعمیر میں تاخیر کا باعث بننے والی تمام غلطیوں کا ارتکاب سرکاری محکموں نے کیا ہے لیکن ضلع کی اس دور افتادہ تحصیل کے ایک عام آدمی کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔انہوں نے 2 فروری کو ’راجوری چلو آندولن‘کی کال دی اور کہا کہ اس علاقے میں ہر عمر کے ہزاروں لوگ تحصیل ہیڈ کوارٹر پر جمع ہوں گے اور ضلع ہیڈ کوارٹر کی طرف مارچ کریں گے جہاں ایک غیر معینہ دھرنا شروع کیا جائے گا۔