خواس سڑک خستہ حالی کاشکار

کوٹرنکہ//راجوری سے کوٹرنکہ و بدھل اور خواس کیلئے ایس آر ٹی سی بسیں بحال کرنے کی مانگ کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہاکہ سابق وزیرٹرانسپورٹ عبدالغنی کوہلی نے مغل روڈ و ضلع کی مختلف سڑکوں پرسرکاری بسیں شروع کرکے لوگوں کو راحت پہنچائی تھی لیکن ان کا قلمدان تبدیل ہونے کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور پھر نہ ہی خود وزیر موصوف نے اور نہ ہی حکومت نے اس جانب کوئی توجہ دی ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ کالاکوٹ میں وزیر موصوف نے یہ اعلان ضرور کیا تھاکہ جموں سے خواس  سرکاری بس سروس شروع کی جائے گی لیکن اس پر بھی عمل نہیںہوااورسابق وزیر ٹرانسپورٹ کے علاقے میں ڈرائیوروں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کررکھاہے ۔ان کاکہناہے کہ کوٹرنکہ۔خواس سڑک پرٹرانسپورٹ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو پانچ سے چھ گھنٹے کا سفر پیدل طے کرناپڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ خواس میں جس طرح سے ٹرانسپورٹ کا نظام خستہ حالی کاشکار ہے اسی طرح سے خواس کی سڑک بھی خراب تصویر پیش کررہی ہے جس کی تعمیر 1972 میں شروع ہوئی تھی جو45 سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی اور لوگ پیدل چلنے پر مجبور ہورہے ہیں۔مقامی لوگوںنے مانگ کی کہ سرکاری بس سروس شروع کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ نظام میںآسانی ہوسکے ۔اس سلسلے میں جب اے آرٹی او راجوری جگل شرماسے بات کی گئی تو ان کاکہناتھا کہ خواس ۔راجوری سڑک پر ’ٹو بائی ٹو ‘کی دو بسیں اور’ ٹو بائی تھری‘کی تین بسیں چلتی ہیں جس کے علاوہ کئی منی بسیں بھی اس سڑک پر چلتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ آبادی کو دیکھتے ہوئے کافی تعداد میں گاڑی دی ہوئی ہیں لیکن سب سے بڑامسئلہ سڑک خراب ہونے کا جس سے پریشانی آرہی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ بڈھال گلی کے مقام سڑک بہت ہی خراب ہے جہاںسے کئی مرتبہ گاڑیاں آگے نہیں جاسکتی ۔