خواجہ الطاف حسین حالی ؔ

 خواجہ   الطاف حسین حالیؔ(۱۸۳۷۔۱۹۱۴ء)ؔ اورسرسیداحمد خانؔ انیسویںصدی کی وہ بلندترین ہستیاں ہیںجن میںگوناگوںصفات کمال حُسن وخوبی سے جمع ہوگئی تھیں۔ان دونوں نے عمر بھر ملک قوم ،علم وادب ،دین  و مذہب کی انمول خدمات انجام دیں۔سرسیدؔ سے ملاقات مولاناحالیؔ کی زندگی کانہایت اہم واقعہ ہے۔ یہ ملاقات۱۸۶۸ء؁ میںسائنٹفک سوسائٹی کے ایک جلسے میں شیفتہؔ نے کرائی تھی اوردونوں ایک دوسرے کے گرویدہ ہوگئے۔ مولانا حالیؔ علی گڑھ تحریک کے پہلے سے ہی حامی تھے لیکن ۱۸۸۰ء میںجب علی گڑھ آئے تویقین ہوگیاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے اقبال کاڈوبا ہواسورج پھرسے طلوع ہواتواسی سرزمین سے ہوگا۔ حالیؔ کی ایک نظم کے چند شعر ملاحظہ ہوں   ؎
یہ دارالعلوم سدّ راہِ آسیب ِنہاں ہوگا
اسی دارالشفا میںبخت ِپیر اپناجواں ہوگا
نہیںصورت اُبھرنے کی ہماری کوئی پستی سے 
اگرہوگا اسی گھر سے بلند اپنا نشاں ہوگا
یہ بیت العلم روزافزوں ترقی کاہے سرچشمہ
اسی چشمے سے دیکھوگے کہ اک دریا رواں ہوگا
مولاناحالیؔ راست گوانسان تھے۔ سرسیدؔ کے مذہبی عقائد سے انہوںنے ہمیشہ اختلاف کیا مگرسرسیدؔ کے جدید تعلیم کے منصوبے کی انہوںنے ہمیشہ بھرپور تائید کی اورہرممکن مددکی۔ مولانا کی تعلیم وتربیت خالص مشرقی اورروایتی اندازپرہوئی تھی۔،اس کے باوجود وہ بہت روشن خیال انسان تھے، البتہ انہوںنے برطانوی حکومت کی مکمل حمایت نہیںکی۔ انہوںنے اس حکومت کے ان اصلاحی اورترقیاتی اقدام کوضرورقابل ِتعریف گردانا جن کے بارے میں وہ محسوس کرتے تھے کہ یہ ہندوستانی سماج کی تبدیلی اورترقی کاباعث بنیںگے ، بایں ہمہ وہ برطانوی حکومت کے سامراجی کردارسے بھی مکمل طورپرآگاہ تھے اوراس کی مذمت کرتے تھے۔ حالیؔ کاخیال تھاکہ صنعت وحرفت کی تعلیم حاصل کرکے آزادپیشہ اورتجارت اختیار کرنے سے ہی تعلیم یافتہ افرادآزادانہ طورپر غوروفکر کرسکتے ہیں اوراس سے ان میںجذبۂ حریت پیداہوسکتاہے۔ برطانوی حکومت اپنے ساتھ چندبرکتیں بھی لائیں جن کی بدولت ہندوستان کے روایتی اورجامد سماج میں نئے تصورات وخیالات کے وسعت پذیر ہونے میںمددملی۔ جدیدکاری کاعمل شروع ہوااورریلوے وتاربرقی وغیرہ کے رواج نے رسل ورسائل کے مسائل کوکم کردیا۔جہاں عورتوں کوان کے حقوق سے محروم رکھا گیاتھا اورستی ودخترکشی جیسی ظالمانہ وغیرمہذب رسمیںرائج تھیں،وہاں انگریزوں نے معاشرے میں اصلاح کی غرض سے چند اصول وقانون وضع کئے اورموثراقدامات کئے۔حالیؔ نے جوہندوستانی معاشرے کی اصلاح وترقی کے خواہاں تھے،حکومت کے ان اقدامات کی فراخ دلی سے تعریف کی۔وہ اپنی نظم ’جشن جوبلی‘میں کہتے ہیں    ؎
اس عہد نے وہ خون بھرے ہاتھ کئے قطع
جوپھیرتے تھے بیٹیوں کے حلق پر خنجر
بیٹوں کی طرح چاہتے ہیں بیٹیوں کو اب
جولوگ روارکھتے تھے خوں ریزی دختر
ہندوؤں میں ستی کی رسم صدیوں سے رائج تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا جس ہندوعورت کا شوہر مرجاتا تو اس کی بیوہ بھی چتا پر لٹاکر زندہ جلائی جاتی ۔ حالیؔ ہندو ؤں کی ا س وحشیانہ رسم کے بارے میں فرماتے ہیں   ؎
دی اُس نے مٹا ہند سے یوں رسم سَتی کی
گویا وہ سَتی ہوگئی خود عہدِ کہن پر 
نابود کیا اس نے زمانے سے ٹھگی کو
اک قہر تھا اللہ کا جو نوعِ بشر پر
 اسی خیال کااظہاروہ ’’مسدس‘‘میںبھی کرتے ہیں   ؎
کھلی ہیں سفر اور تجارت کی راہیں
نہیں بند صنعت کی ،حرفت کی راہیں
جو روشن ہیں تحصیل حکمت کی راہیں
توہموار ہیں کسب دولت کی راہیں
نہ گھر میںغنیم اور دشمن کا کھٹکا
نہ باہر ہے قزاق ورہزن کا کھٹکا 
مہینوںکے کٹتے ہیں رستے پلوں میں 
گھروں سے سوا چین ہے منزلوں میں
ہراک گوشہ گلزار ہے جنگلوں میں
شب وروز ہے ایمنی قافلوں میں 
سفرجو کبھی تھا نمونہ سقرکا
وسیلہ ہے وہ اب سراسر ظفر کا
حالیؔ برطانوی حکومت سے پہلے کی حکومتوں کو مطلق العنان قراردیتے تھے اورکہتے تھے کہ ان حکومتوں کے تحت رعایا میںاپنی فلاح وبہبود کے کام کرنے کااحساس یاآزادی مفقودتھی:
’’برٹش گورنمنٹ کی حکومت سے پہلے ہندوستان میںہزاوں برس سے ڈسپاٹک گورنمنٹ یعنی شخصی حکومت چلی آتی تھی جس میںرعیت کی بھلائی اوربہبودی کاہرایک کام بادشاہ کے اختیار میںہوتاتھا ۔ رعیت جس طرح ملکی معاملات میںکچھ دخل نہ رکھتی تھی،اسی طرح قومی رفاہ وفلاح کے کاموں سے بھی اس کوکچھ سروکار نہ ہوتاتھا….. قوموں کی ہرقسم کی بھلائی یابرائی ہمیشہ سلطنت کے قبضے میںرہی اوروہ ہمیشہ اپنے تئیں سلطنت کے ہاتھ میں ایسا سمجھتے رہے جیسا مردہ غسّال کے قبضے میںہوتا ہے۔رفتہ رفتہ تمام رعایا بے حس وحرکت ہوگئی اور ایکٹوٹی یعنی عملی طاقت ان میں بالکل مفقود ہوگئی اوریہ خصلت ان کی اولادمیںنسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتی چلی آئی‘‘۔
اس سیاق وسباق میںحالیؔ کایہ بھی خیال تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے مسلمانوں میںجمودوتعطل پیداکردیا ہے ، اس باب میںفرماتے ہیں:
’’درحقیقت نہ مسلمان بالطبع کاہل اور سُست ہیں اورنہ اسلام نے ان کوایسا بنادیاہے ،بلکہ یہ تمام کاہلی اورسستی اوریہ عام وسکون و انجماد جوہمارے رگ وپے میںسما گیاہے، یہ وہ ترکہ ہے جو نہ صرف ہم کو بلکہ تمام ایشائی نسلوں کوان کے آباواجداد کی میراث میں پہنچاہے۔ایشیائی طرز حکومت جوایک طاقت کواعتدال سے بڑھانے والی اور اس کے سواتمام طاقتوں کوملیامیٹ کرنے والی ہے،اس نے ایشیا کی کسی قوم میں جان باقی نہیںچھوڑی…..‘‘
انیسویں صدی کے نصف اواخر اوربیسویں صدی کے اوائل کے اکثرمسلم دانشوروں میںیہ عام احساس پایا جاتا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کاتعلق حکمراںطبقے سے ہے اوریہ کہ وہ ایک زمانے میںحکمراں رہ چکے ہیں ۔یوں حالیؔ کے اندر بھی یہ احساس موجودتھا اسی لیے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میںحرکت وعمل کی قوت زائل ہوگئی ہے توان کے ذہن میں یہی سبب ہوتاہے کہ چوں کہ ہندی مسلمان کاتعلق حکمراں طبقے سے تھا،اس لئے وہ تجارت ،زراعت اوردستکاری کوعیب خیال کرتے تھے ۔لیکن اس کے برعکس دیگرمحکوم قوموں جن کوحکومت کی سرپرستی حاصل نہیںہوتی ان کی عملی قوت بالکل زائل نہیں ہوتی اور وہ صنعت وحرفت اورتجارت جیسے آزاد پیشوں کواختیار کرکے اپنی مدد آپ کرتے ہوئے ترقی کی راہ پرگامزن رہتی ہیں۔ 
حالیؔ نے اپنی نظم ’’تحفتہ الاخوان‘‘ کے آخری حصّے میںتقریباً اسی موضوع کااحاطہ کیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں میںرعایاکی اصلاح اورترقی کااگرکچھ کام ہوتا بھی تھا تو وہ حاکم ہی کرتا تھا اوررعایا رفاہِ عام اور قومی فلاح کاکام خود نہیںکرتی تھی لیکن برطانوی حکومت نہ صرف یہ کام خودکرتی ہے بلکہ اس نے رعایاکواس کی آزادی بھی دے رکھی ہے۔ اس لئے حالیؔ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہی وہ وقت ہے جس میںوہ اپنی اصلاح وترقی کاکام کرسکتے ہیں   ؎
وہ گئے دن جب کہ تھے مختارِ مطلق حکمراں 
قسمتوں کی قبضۂ قدرت میں تھی ان کے عنان 
ہاتھ میں غسّال کے مردہ ہو بے حس جس طرح
تھے جہاں بانوں کے ہاتھوں میں یونہی اہل جہاں
تھی نہ اہل ملک کو قومی مقاصد سے غرض 
تھا نہ قومیت کا قوموں میںکہیں باقی نشاں
حالیؔ مسلمانوں کویہ باورکرناچاہتے تھے کہ برطانوی حکومت میںرعایا کو جوآزادی نصیب ہوئی تھی ،اسے غنیمت جاننا چاہے اورمعاشرے کی اصلاح وترقی پرکمر بستہ ہونا چاہیے۔ دوسری ہم وطن قومیں دن بدن ترقی کررہی تھیں اورتمام عالم میںاصلاحی اورترقیاتی کام ہوررہے تھے۔ اس لئے اگرمسلمان اس میدان میںآگے نہ آئے توہمیشہ کے لئے پس ماندہ رہ جائیںگے۔ بہرحال حکومت کے اصلاحی اور ترقیاتی اقدام کوسراہنے کاجواز توحالیؔ کے پاس موجودتھا لیکن انھوںنے برطانوی حکومت میںحاصل مذہبی آزادی کی بھی بھرپور ستائش کی جس کاجوازشاید ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ مذہبی آزادی کے لئے برطانوی حکومت کی تعریف یوں کرتے ہیں   ؎
نہ بد خواہ ہے دین و ایمان کا کوئی
نہ دشمن حدیث اور قرآن کا کوئی 
نہ ناقص ہے ملت کے ارکاں کا کوئی
نہ مانع شریعت کے فرماں کا کوئی 
نمازیں پڑھو بے خطر معبدوں میں
اذانیں دھڑلے سے دو مسجدوں میں
برطانوی حکومت کی دی ہوئی محدود آزادی کوجس میں مذہبی آزادی کو مقام حاصل تھا ۔ حالیؔ حقیقی آزادی تصور کرتے تھے یااس زمانے میں ان کاتصور آزادی ہی محدودتھی۔ اقبالؔ نے سامراجی حکومت کی شاید اسی نوعیت کی سازش کوآزادی تصورکرنے کی ملّا کی کم فہمی پرتنقید کی تھی    ؎
مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
حالیؔ نے اس امرکااعتراف کیاہے کہ برطانوی حکومت میں رعایاکوجو آزادی حاصل تھی اس کاعلم ان کوسرسید ؔ کی تحریروںسے ہوا۔ ان کی نظر میں آزادی اس حکومت کی عظیم خصوصیات میںسے ایک تھی اورجب تک وہ اس حقیقت سے واقف نہیں ہوئے تھے۔ حکومت کی یہ خوبی ان کی نظر سے پوشیدہ تھی۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتاہے کہ حالیؔ کے ذہن ودل میں برطانوی حکومت کی عظمت کی دھاک سرسیدؔ مرحوم کی ’’آزاد‘‘ تحریروںنے بٹھائی تھی۔
حالیؔ نے انگریزی حکومت کی جزوی حمایت اور ستائش توضرور کی مگر مکمل طوراس حکومت کی حمایت کبھی نہیںکی۔ ایک مخصوص سیاسی،سماجی اورمعاشی نظام کاعلمبردار غالب حکمراں طبقہ عوام میں اپنے نظریے کی نشرواشاعت کی خاطر فکر اورروئے کومتاثرکرنے کے تمام ذرائع کااستعمال کرتاہے۔ اس غرض سے پریس، کتب،مدارس،مذہبی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کاستعمال کیاجاتارہاہے۔ انیسویں صدی میں، جوکہ نوآبادیات کے عروج کازمانہ تھا ، نوآبادیاتی دانشوروں نے بھی اس مظہرکوحق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نوآبادیات محض کسی ایک ملک کادوسرے ملک پرسیاسی اعتبارسے غلبہ حاصل کرنے کانام نہیںہے۔ بلکہ مفتوح اورزیرنگیں قوم کے ذہن پرغالب آنابھی اس نظام کی خصوصیت ہے۔گذشتہ دیسی حکومتوں کونااہل، سماجی اداروں کوفرسودہ اور عوام کو کاہل قراردینا نوآبادیاتی نظریاتی سازش کاایک بہت اہم حصہ تھا جس کامقصد نوآبادیاتی نظامِ حکومت اور اس کے متعلقات کوحق بجانب ثابت کرنا تھا۔ بہ استثنائے شبلیؔ ، کم وبیش یہی کام زیرمطالعہ دانشورانِ اُردونے بھی کیا۔ اس طرح یہ دانشوران نوآبادیاتی نظریے کے دامِ فریب میں پھنسے ہوئے تھے۔ I
مغرب سے استفادہ کرتے ہوئے حالیؔ اورمحمدحسین آزادؔ نے نظم کی صنف کو اردوزبان میں متعارف کرایا اورخودبہت سی مفید نظمیں لکھیں۔ سرسیدؔ کے ساتھ ساتھ حالیؔ بھی نیچر کابہت وظیفہ پڑھتے ہیں۔ رفقائے سرسیدؔ میں شبلیؔ واحدآدمی ہیں جوافکارمغرب سے مرعوب نہیںہوئے، لیکن حدیث کے مسئلے میں درایت کی انہوںنے جوتعریف فرمائی ہے اس میں موصوف نے بھی اقتضائے طبیعت (Nature) کے مطابق ہونے کوحدیث کی صحت کی شرط قراردیاہے۔
حالیؔ نے صرف فطرت پرستی پرنظمیں نہیں لکھیں بلکہ سماجی ناانصافی،عورت کے حقوق کی پامالی، قوم کی تعلیمی پسماندگی اوراخلاقی گراوٹ پربھی نظمیں تحریرکیں۔ حالیؔ کی ’مسدّس‘ کی تاثیر زمانے کے تغیروتبدّل اورسردوگرم کے باوجودآج بھی قائم ودائم ہے۔ سرسید ؔ کی فرمائش پرلکھی جانے والی اس نظم کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سرسیدؔ اسے اپنی نجات کاذریعہ سمجھتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ’’جب خداحشرمیںپوچھے گا کہ توکیالایاہے، تومیںکہوںگا کہ حالیؔ سے ’مسدّس‘ لکھواکرلایاہوں اورکچھ نہیں‘‘۔
اصلاحی اورفلاحی نقطۂ نظر سے یہ عظیم کارنامہ سرسیدؔ کی دوررس فکرکاآئینہ داربن گیاہے۔ حالیؔ نے اپنی نظموںکواپنے دورکے سماج کا عکاس بنادیا۔ وہ اپنی مثنویوں، نظموں ،شخصی مرثیوں اورشہرآشوب کے ذریعہ قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے وطنی،ملی،سماجی اورمعاشرتی مناظر کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں مظاہرۂ کائنات کے علاوہ انسان کے بنائے اصول و قوانین اورطرززندگی بھی موضوعات میں شامل ہیں۔ مزیدبرآں حالیؔ کی نظموں میںقدیم وجدیدکاامتزاج بھی ہے، انہوںنے نظم کوبیانیہ شاعری سے قریب کرکے قدیم اورجدید کے امتزاج کی کامیاب کوشش کی۔ 
حالیؔ کے بہت سے شعری اورادبی کارنامے ہیں۔ ان کی سوانح نگاری بھی اردومیںبڑی اہمیت رکھتی ہیں۔انھوںنے اردومیںباقاعدہ طورپرسوانح نگاری کاآغازکیا۔ حالیؔ نے تفصیلی طورپراپنے موضوع کی شخصیت ،زندگی اورکارناموںکاجائزہ لیا۔ انھوںنے اس بات کی کوشش کی کہ موضوع کی خوبیوں کے ساتھ خامیوںکوبھی جہاںتک ممکن ہوسکے بیان کریں۔ حالیؔ اپنی سوانح نگاری سے بھی قوم وملک کی خدمت کرناچاہتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ عظیم شخصیتوںکے کمالات اورنیک کاموںکوبیان کرکے لوگوںمیںایسے ہی کام کرنے کاجذبہ پیداکریں۔
رابطہ:  ریسرچ اسکالر،کشمیر یونیورسٹی،سرینگر