خواتین کیخلاف جرائم میں قانون سازی کا رول نہ ہونے کے برابر

سرینگر//جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے سے متعلق اگرچہ ریاستی قانون میں حال ہی میں ترمیم کرتے ہوئے غیر ضمانتی جرائم قرار دیکر5برس تک کی سزائیں متعین کی گئی ہیں تاہم حقوق نسواں کارکنوں کا ماننا ہے کہ قوانین تشکیل دینے یا قراردادوں کی منظوری سے صنف نازک کے حقوق اور انکی حیثیت کی ارتقاء کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔خواتین لیڈروں کا کہنا ہے کہ اصل میں زمینی سطح پر قوانین کو نافذ العمل بنانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کے خلاف وادی میں جرائم کے گراف میں اضافہ سے جہاںبھیانک تصویر سامنے آرہی ہے،وہیں ریاست کی دیگر جگہیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ صنف نازک کے خلاف گھروں کے اندر اور باہرگھریلو تشدد،جنسی زیادتیاں،اغوا کاری،ہراساں کرنے اور ان پر فقرے کسنے کے رجحان میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر انتظامیہ نے ریاستی قوانین میں2ترامیم کیں۔ریاست نے یہ ترامیم جرم’’ جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے‘‘ کی وضاحت کیلئے پیش کی گئیں،جبکہ یہ قدم15اکتوبر2018کو ریاستی ہائی کورٹ کی اس ہدایت کے پس منظر میں اٹھایا گیا،جس میں عدالت عالیہ نے ریاست کو’’جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے‘‘ کے تصور کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ قوانین میں ترامیم کر کے جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے‘‘ کو غیر ضمانتی جرم قرار دیا گیا،جس میں3سال سے کم کی سزا نہیں ہوگی اور اس میں5برس تک کی توسیع کی جاسکتی ہے۔
اس ترمیم میں تاہم مسلح دستے(فوج و فورسز) نہیں آئیں گے کیونکہ انہیں پہلے ہی افسپا کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے جو بل پیش کیا گیا اس میں کہا گیا’’ یہ بل(جنسی جرم) ریاستی رنبیر پینل کوڑ میں ترمیم ہے جہاں مخصوص جرم میں تحت دفعہ 354 E کا اندراج کیا جاتا ہے تاکہ جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے کیلئے جرم کو شامل کیا جائے۔ دفعہ354E کے تحت کسی بھی قاتون سے کسی بھی طرح کی مراعات یا درخواست کے عوض جسمانی و غیر جسمانی طور پر جنسی خواہشات کا مطالبہ شامل ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انسداد بدعنوانی قانون میں بھی ترمیم کی گئی۔بل میں کہا گیا’’بدعملی اور جنسی خواہشات کی تکمیل کے مطالبے کی اصطلاح میں ترمیم دفعہ5کے معنی کے تحت بدعملی کا تعین بھی کرے گی۔‘‘ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ریاست میں2قوانین میں ترمیم جنسی عمل کیلئے مجبور کرنے والے مجرموں ( سرکاری  اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو یا سرکاری خدمتگا ہو) سے علیحدہ علیحدہ  نپٹے گی۔انکا کہنا تھا کہ اگر کوئی سرکاری افسر اپنے ماتحت عملے کو جنسی طور پر استحصال کرتا ہے تو اسکی سزا اب دوسری ہوگی۔ ذرائع کے مطابق خواتین پولیس تھانہ رام باغ میں تقریباً ہر دن گھریلوتشدد اور ہراساں کرنے کی 5شکایتیں اوسطاً روزانہ موصول ہوتی ہیں۔ خواتین کمیشن کی سابق چیرپرسن شمیمہ فردوس کا  ماننا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے وادی میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گھر سے باہر نکلتے ہی نوجوان لڑکیوں کیلئے انہیں ہراساں کرنے اور ان کو فقرے بازی کا نشانہ بنانا ان کیلئے پریشان کن بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نے اب سماجی بیماری کی طرح معاشرے میں جڑیں مضبوط کی ہیں۔ا
یک اعلیٰ انتظامی افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ یہ اپنی نوعیت میں پہلا واقعہ ہے کہ جب اس طرح کے قانون میں ترمیم کی گئی،اور جنسی استحصال کو انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت لایا گیا۔ انصار النساء کی چیئر پرسن ڈاکٹر مبینہ رمضان،جنہیں حال ہی میں میرواعظ عمر فاروق کے ہمراہ دنیا کے500بااثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے،نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور انکی حیثیت کی بحالی محض قوانین بنانے اور قراردادوں کو منظور کرنے سے نہیں ہوگی،بلکہ اس سے مسائل مزید الجھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت سماج کے ایک نا قابل تنسیخ حصہ(خواتین) کوغیر متوازی محرومیت اور جمود کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بہت کچھ کا تو مطالبہ کرتی ہے تاہم جب صورتحال سے سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے مخالف ہوتے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی کے وومنز اسٹیڈی سینٹر شعبے کی سربراہ پروفیسر روشن آرا کا کہنا ہے کہ بنت حوا کے مسائل اور سماج میں انکے وجود کو سرکار اور اس کی ایجنسیوں کے کندھوں پر نہیں ڈالا جاسکتا،بلکہ یہ ہر ایک با ضمیر معاشرے کی ذمہ داری ہے،کہ ان خرافات کا خاتمہ کریں،جبکہ خواتین کو از خود ان محازوں پر کام کرنا ہوگا۔