خواتین کمیشن کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا

   سرینگر //گیسو تراشی معمہ سے متعلق پولیس تحقیقات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے ریاستی کمیشن نے کہا ہے کہ ابھی تک خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے روزانہ کی بنیادوں پر کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ہے ۔کمیشن کی چیئر پرسن نعیمہ احمد مہجور نے کہا کہ انہوں نے تشکیل شدہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو واضح ہدایت دی ہے کہ گیسو تراشی کے واقعات سے متعلق روزانہ بنیادوں پر کمیشن کو معلومات فراہم کی جائیں ،لیکن ابھی تک پولیس ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات کہاں پہنچی ؟ کمیشن اس حوالے سے لا علم ہے کیونکہ پولیس نے کوئی جانکاری فراہم نہیں کی ۔ نعیمہ احمد مہجور کا کہنا ہے ـ’مجھے نہیں معلوم کہ SIT کی تحقیقات کہاں پہنچی ، کیسے وہ تحقیقات کر رہی ہے اور وہ کہاں پرکام کر رہی ہے ‘۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پولیس کی جانب سے خصوصی تحقیقاتی ٹیموں کیلئے جو افسران مقرر کئے گئے ہیں ان میں سے بعض کمیشن کی ہدایات کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں ‘ ۔ چیئر پرسن کا کہنا تھا ’ گیسو تراشی کے واقعات روکنے اور اس معمہ کو حل کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ضروری ہیں ، تاکہ خواتین کو ذہنی دبائو سے باہر نکالا جاسکے ‘ ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی پولیس کی جانب سے تشکیل دئیے گئے خصوصی تحقیقاتی ٹیموں کو تحقیقات کے حوالے سے کمیشن کو مکمل جانکاری فراہم کرنی چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ متاثرین انہیں تعاون فراہم نہیں کر رہے تاہم میں نے ذاتی طور کئی متاثرین اور پولیس افسران کے ساتھ بات کی اور دونوں کے بیانات یکساں تھے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین پولیس کو تعاون فراہم کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن کیسوں میں پولیس کو متاثرین کی جانب سے تعاون حاصل ہورہا ہے پہلے اُن ہی کیسوں کو حل کرنا چاہئے اور ان کی تحقیقات کرنی چاہئے ۔ چیئرپرسن نے اُس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ گیسو تراشی کا معمہ پاگل پن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں یہ پاگل پن ہے تو پولیس کو ٹھوس شواہد کی بناء پر آگے آنا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گیسو تراشی کے واقعات کے پیچھے جرائم پیشہ عناصر کا ہاتھ کار فرما ہے تو پولیس کو اس حوالے سے بھی مکمل ثبوت کے ساتھ آگے آنا چاہئے ۔محکمہ صحت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نعیمہ احمد مہجور نے سوالیہ انداز میں کہا’کیوں صحت بورڈ تشکیل دینے میں ناکام رہے تاکہ کیمکلز کے استعمال کے حوالے سے حقا ئق کا پتہ چلا یا جاسکے ۔(کے ایس ایس)