خواتین کا عالمی دن| جموں کشمیر خواتین کمیشن کے بغیر

سرینگر // آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، لیکن جموں وکشمیر ایک ایسا واحد خطہ ہے جہاں خواتین کیلئے قائم ریاستی کمیشن دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد بند کر دیا گیا ۔قومی خاندانی بہبود اور محکمہ صحت کی سروے رپورٹ کے مطابق جموں وکشمیر میں سال-21 2020کے دوران خواتین کے تئیں تشدد کے معاملات میں 7 فیصد اضافہ درج کیا گیااور خواتین حقوق کمیشن کی عدم موجودگی میں صنف نازک کے مسائل کا نپٹارا نہیں ہوسکا ۔قومی فیملی ہیلتھ سروے(NFHS) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر سمیت ملک کی 11ریاستوں میں 70فیصد خواتین، ان پر کئے جانے والے تشدد کے ازالہ کیلئے کوئی مدد نہیں لے رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں83.9فیصد خواتین کسی بھی طرح کی زیادتیوں کے بارے میں سامنے نہیں آرہی ہیں۔یہ شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔اب جو خواتین ان پر کی جارہی زیادتوں کے معاملات سامنے لاتی ہیں انکی مجموعی شرح صرف 7.1بنتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گھریلو تشدد ایکٹ( DVA) مجریہ 2005 خواتین کے گھریلو حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ سروے نے جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 20-2019 میں 18 سے 49سال کی عمر کی 9.6 فیصد خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق 9.4% خواتین گھریلو تشدد کا شکار تھیں۔ شہری علاقوں کے مقابلے جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں میں گھریلو زیادتی اور جنسی ہراسانی زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔18 سے 49 سال کے درمیان تقریباً 11% دیہی خواتین گھریلو تشدد کا مشاہدہ کر رہی ہیں جب کہ شہری علاقوں میں 5.9% خواتین 2019-20 میں گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 18سے29 سال کی عمر کے گروپ کی 5% دیہی خواتین کو 18 سال کی عمر میں جبکہ 1.4% شہری خواتین کو 18 سال کی عمر میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اکتوبر 2017 میں، جموں و کشمیر کی حکومت نے خواتین کیلئے ہیلپ لائن نمبر (181) شروع کیا تھا تاکہ مصیبت کا سامنا کررہی خواتین کو چوبیس گھنٹے مدد فراہم کی جا سکے۔ ڈبلیو ایچ ایل 181 کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اپریل سے ستمبر 2020 کے درمیان کل 922 مقدمات درج کیے گئے ، جن میں گھریلو تشدد کے 619، پوکسو اور جنسی تشدد کے پانچ، سائبر کرائم اور فحش کالوں کے 47، اور دیگر اقسام کے تحت 251 کیسز شامل ہیں۔ اکتوبر 2017 سے دسمبر 2020 تک کل 3,376 کیسز رجسٹر کیے گئے۔ ہیلپ لائن شروع کرنے کے بعد پہلے تین مہینوں میں جموں و کشمیر میں 34 کیس درج کیے گئے۔ 2018 میں ہیلپ لائن نے 886 کیسز درج کیے۔تاہم، 2019 میں، 181 کے ساتھ رجسٹر ہونے والے کیسوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ 2019 میں کل 856 کیس رپورٹ ہوئے۔ ۔2020 میں، رجسٹرڈ کیسز کی کل تعداد 1,600 تھی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح COVID-19 وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے قومی لاک ڈاؤن نے خواتین کو اپنے گھروں کے اندر تشدد کی کارروائیوںسے زیادہ متاثر بنایا۔تین سال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جموں کے مقابلے میں، کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ کشمیر میں مجموعی طور پر 1,756 مقدمات درج کیے گئے ہیں، اس کے بعد جموں میں گھریلو تشدد کے 1,570 واقعات درج ہوئے۔ جموں کشمیر میں خواتین کمیشن بند کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں گذشتہ تین برسوں کے دوران جو بھی واقعات رونما ہوئے، ان میں سے ایک بھی کیس قومی کمیشن میں نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔ سرینگر زنانہ پولیس سٹیشن میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 20سے25 گھریلو جھگڑوں یا پھر خواتین کیخلاف تشدد کے معاملات کی شکایات درج کی جارہی ہیں۔۔خواتین کمیشن کی سابق سربراہ سپریم کورٹ ایڈوکیٹ وسندرا پاٹھک مسعودی کا کہنا ہے کہ کمیشن ختم ہونے کے بعد بھی انہیں ای میل اور فون کالز کے ذریعہ خواتین کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔انکا کہنا ہے کہ انہیں اوسطاً 5شکایات موصول ہوتی ہیں۔ مارچ 2020 سے گھریلو تشدد میں اضافے کے بعد خواتین کے کیسوں کی شنوائی صرف زنانہ پولیس تھانوں میں ہونے لگی ہے، جہاں سبھی خواتین نہیں جایا کرتی ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی کمیشن سے تھوڑی بہت راحت ملتی تھی، لیکن وہ راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔ 2020کے بعد خواتین کے خلاف تشدد کا کوئی بھی کیس قومی کمیشن برائے خواتین میں درج نہیں ہوسکا ہے۔ کمیشن کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ، جنوری 2016 اور فروری 2017 کے درمیان ریاستی خواتین کمیشن کو 220 کیس موصول ہوئے  تھے، جو 2015 کے دوران 142 تھے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں جہیز کی وجہ سے 9 اموات ہوئیں، خواتین کے ساتھ ان کے شوہروں یا رشتہ داروں کی جانب سے زیادتی کے 349 واقعات، خواتین پر تشدد کے 1,639 واقعات، اور خواتین پر ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی نیت سے حملوں کے 1,744 واقعات رونما ہوئے ۔ ماضی میں یہاں کام کررہے کمیشن میں سالانہ3ہزار سے زائد شکایتیں موصول ہوتی تھیں۔ وومن کمیشن کی سابق چیئرپرسن شمیمہ فردوس نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کی شنوائی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک یہاں اپنا کوئی کمیشن نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے مسائل بڑھ رہے ہیں لیکن اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا  ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے ، ان پر جنسی زیادتیاںاورگھریلو تشدد بھی ہو رہا ہے ۔نیشنل کمیشن فار وومن کی ایک ممبر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر کے بہت سے کیس سال2021میں گھریو جھگڑے ، جنسی زیادتیوں ، جہیز اور گھریلو تشدد کے درج کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن ان کیسوں کے نپٹارے کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور فوری طور پر ان کا حل بھی تلاش کرنے کیلئے جموں وکشمیر حکام کیساتھ رابطہ قائم کیا جاتا ہے ۔