خواتین کارباریوں کا ایک ہی چھت کے نیچے ملن صنف نازک کو با اختیار بنانے کی ’پریاس‘کی پہل:ثناء گیلانی

 بلال فرقانی

 

سرینگر//سرینگر کے براڈ وے سنیما کمپلکس میں پر یاس( کوشش) کی جانب سے خواتین کارباریوں کیلئے ایک نمائش و خرید و فروخت کی تقریب منعقد ہوئی،جس میںخواتین کو معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ گولڈن ہال میں منعقدہ اس نمائش میں قریب50خواتین کارباریوں نے اپنے اسٹال نصب کئے تھے،جس میں گھریلوں طور پر تیار کردہ اشیاء کو نمائش میں رکھا گیا تھا۔خواتین خریداروں کی ایک بڑی تعداد دن بھر خریداری کرتی رہیں۔2دنوں تک جاری رہنے والی اس نمائش میں کشمیری ملبوسات سے لیکر دست کاری،کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر زیبائش و آرائش اور خشک سبزیوں،دالوں اور مشروبات سے لیکر دوسری اشیاء کو دستیاب رکھا گیا تھا۔

 

پروگرام کی آرگنائزر ثناء جاوید گیلانی نے بتایا کہ اس نمائش کا مقصد ایک کوشش تھیںاور اس کوشش میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوئیں۔ ثناء جاوید گیلانی نے بتایا کہ گزشتہ30برسوں کے دوران جموں کشمیر بالخصوص وادی کی خواتین کافی تنائو میں رہیں اور اس تنائو سے انہیں باہر نکلنے کیلئے با اختیار بنانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کاوشیں’پریاس‘ کی طرح جاری رہے گی۔ نمائش کے دوران نامیاتی موم بتیوں کی خریداری پر جمع ہونے والی رقم کو آوارہ جانوروں کی بہبودی کیلئے خرچ کرنے کیلئے مخصوص رکھا گیا تھا۔ نمائش میں اسٹال نصب کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں اچھا ردعمل حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ انکی گھریلوں کمپنی’رسانی‘ کے نام پر خشک سبزیاں،آنچار،شہد اور دیگر اشیاء تیار کرتی ہیں،جو خالص اور اعلیٰ درجے کا ہے۔راولپورہ سرینگر سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے بتایا کہ وادی میں خشک سبزیوں کا استعمال سردیوں میں کافی ہوتا ہیں اور اس سوچ کو ملحوظ نظر رکھ کر انہوں نے خشک سبزیوں او اس طرح کی دیگر کشمیری روایتی سبزیوں کو بازار میں اتارنے کا من بنا لیا۔کھانے پینے کی اشیاء کا ایک اسٹال نصب کرنے والی خاتون نے بتایا کہ وہ ’ارنابس ایٹری‘ کے برانڈ پر گھر کے کچن میں ہی لذیذ،صاف و پاک اور اعلیٰ معیار کا کھانا تیار کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا کام انکی اپنی دیکھ ریکھ میں ہوتا ہے۔مذکورہ خاتون کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو بھی اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا چاہیے۔