خواتین سے متعلق دقیانوسی تصورات کو چیلنج ندائے حق

اسد مرزا

ہم اکثر اشتہاری مہمات میں خواتین کو نازیبا اور غیر ضروری، یا پھر جنسی شکل میںشامل کرنے کے اوپر قصور وار کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگرچہ اشتہارات کی دنیا سماج کی عکاسی بھی کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ان تصورات کو فروغ بھی دیتی ہے جو کہ بالخصوص خواتین اور دیگر چند گروہوں کو ان کی نسل، جلد کی رنگت، سماجی حیثیت اور ظاہری جسمانی شکل کی بنیاد پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں، لیکن دراصل زیادہ تر ایسی مہمات کے لیے اشتہاری کمپنیاں نہیں بلکہ کارپوریٹ دنیا بھی ذمہ دار ہے جو کہ ان تمام گروپوں سے متعلق منفی خیالات کو فروغ دے کر اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتی ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔

اس کے علاوہ، ہم بہت سے سماجی اعداد وشمار پر ہندوستان کی خراب کارکردگی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ ہندوستان شاید ایشیا کا واحد ملک ہے جس میں اشتہارات کے ذریعے خواتین کی غیر اخلاقی نمائندگی کا قانون موجود ہے۔ہندوستان میں حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً اس مسئلے پر پالیسی کی سطح پر مداخلتیں درحقیقت ترقی پسند رہی ہیں۔ خواتین کی غیر مہذب نمائندگی (ممنوعیت) ایکٹ 1986 میں منظور کیا گیا تھا اور 2012 اور 2018 میں اس میں مزید ترمیم کی گئی تھی۔اس کے علاوہ ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز کونسل آف انڈیا (ASCI)، براڈکاسٹنگ کمپلینٹس کونسل آف انڈیا (BCCI) اور سب سے بڑے ریاستی براڈکاسٹر دوردرشن کے پاس اشتہار دینے والوں کے لیے صنعت کے خود ریگولیٹری اداروں کے علاوہ اپنا ایک صنعتی کوڈ بھی ہے۔ تاہم،زیادہ تر اشتہاراتی مہمیں ان اصولوں کی تردید کرتی نظر آتی ہیں۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم خواتین پر اعتراضات اور دیگر پسماندہ گروہوں کے ساتھ ان کی نسل، جلد کی رنگت، سماجی حیثیت اور جسمانی ظاہری شکل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں یا ہم اس مسئلے کو غلط زاویے سے دیکھ رہے ہیں؟

اس بے ضابطگی کو تسلیم کرتے ہوئے اور براہ راستطریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے UN Women نے 2017 میں Unstereotype Alliance کے عنوان سے ایک نیا اقدام شروع کیا تھا، جس میں SDG-5 کے مختلف مقاصد جن کا مقصد صنفی مسائل اور خواتین سے متعلق سرگرمیوں کو مضبوط کرنا تھا، انہیں خاص طور پر اشتہارات اور مارکیٹنگ کے پلیٹ فارمز کے ذریعے Unstereotype Allianceحاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

Unstereotype Alliance کا مقصد اشتہاری صنعت، اس کے لیڈروں اور فیصلہ سازوں اور تخلیقی ٹیموں سے خطاب کرتا ہے تاکہ اشتہارات میں خواتین مخالف دقیانوسی تصورات کو ختم کیا جا سکے۔ اس اقدام کو دنیا بھر کے صنعت کاروں اور کارپوریٹس کی طرف سے مطلوبہ حمایت حاصل ہوئی اور اس کے نتیجے میں اس کے آغاز کے پانچ سالوں کے اندر اسے 12 رکن ممالک بشمول امریکہ، برطانیہ اور بھارت سمیت پانچ براعظموں میں 45 فیصد متاثر کن ترقی کے ساتھ حمایت حاصل ہے۔ صنعت کی رکنیت میں، بین الاقوامی اور قومی اشتہاری اداروں کی حمایت کے علاوہ۔

Unstereotype Alliance جیسے اتحاد ہمیں عالمی سطح پر صنفی مساوات کو فروغ دینے اور دونوں جنسوں سے وابستہ دقیانوسی تصورات کو توڑنے کا موقع فراہم کراتے ہیں۔ ایک طرح سےUnstereotype Alliance ہمیں مختلف ممالک میں اشتہارات میں صنفی نمائندگی کا منظم طریقے سے مطالعہ اور تجزیہ کرنے کا موقع فراہم کراتا ہے۔ عالمی سطح پر، تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دنیا بھر میں صارفین تیزی سے ان دقیانوسی تصورات کا جواب دے رہے ہیں اور انہیں مسترد کر رہے ہیں، جو اشتہاری صنعت کے ذریعے فراہم کیے جاتے رہے ہیں اور وہ اب اشتہارات میں خواتین کی متوازن اور نمائندہ تصویر کشی کے لیے مثبت انداز میں جواب دے رہے ہیں۔

ہندوستان جیسے ملک سمیت خواتین کو عام طور پر روایتی کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ،جیسے گھر سنبھالنا، استانی، نرس وغیرہ جو کہ روایتی طور پر ان صنف کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، جیسے کہ کھانا پکانا، گھر کی صفائی کرنا اور خاندان کی دیکھ بھال کے علاوہ روایتی بیوٹی پروڈکٹس کے اشتہاروں میں انہیں زیادہ تر منفی انداز یا پتلے جسم اور خوبصورتی کا ماڈل بناکر پیش کیا جاتا ہے۔

2020 میں اشتہارات، مارکیٹنگ اور میڈیا کی دنیا سے متعلق صنعت کی بڑی کمپنیوں کے ایک سرکردہ پلیٹ فارم exchange4media.com کے ایک مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ اشتہاری صنعت میں مردوں کو دکھائے جانے والے 25% اشتہارات کے مقابلے میں صرف 8% اشتہارات ہیں جن میں خواتین کو نمایاں کردار میں دکھایاجاتا ہے۔

تاہم، یہ بات خوش آئند ہے کہ کئی ہندوستانی کمپنیوں نے اس مفروضے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور ماضی میں خواتین پر مبنی اشتہاراتی مہمیں شروع بھی کی تھیں۔ کئی برانڈز جیسے تنشک، راگا، ٹائٹن، ایئرٹیل، ہیویلز، ٹاٹا چائے یا ڈالڈا، جن میں سے کچھ ہندوستان میں غیر دقیانوسی Unstereotype Alliance چمپئن بھی ہیں۔جیسے کہ ہندوستان یونی لیور لمیٹڈ، جنھوں نے کہ دقیانوسی سانچے کو توڑنے اور ایک نئے نظریہ کے ساتھ ایک نئی مہم شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہندوستان میںUnstereotype Alliance لڑکیوں کی تعلیم، صنفی برابری، غذائیت، مہارت اور بااختیار بنانے اور حفظان صحت کے انتظام کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ ان تمام اقدامات کو خواتین کے روایتی کرداروں کو توڑنے کی کوشش کی جانب ایک مثبت قدم ماننا چاہیے۔ اس کے علاوہ، خواتین کی تعلیم کے مثبت نتائج، خواتین کی ملازمت، صنفی رکاوٹ کو توڑتے ہوئے خواتین، انجینئرنگ جیسے روایتی طور پر مرد کے لیے محفوظ شعبوں میں شامل ہونے کے علاوہ کارپوریٹ دنیا میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر اپنی کامیابیوں پر توجہ دلاسکتی ہیں۔

تاہم اگر ہندوستان میں اپنے ہدف کے سامعین تک پہنچنے کے لیے Unstereotype Alliance مقامی یا علاقائی زبانوں میں کلیدی پیغامات کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ مرکوز کرے بجائے انگریزی زبان کے اشتہارات تو اس مہم کی افادیت، اہمیت، اور اس کے اثرات دیرپا ثابت ہوسکتے ہیں۔

Unstereotype Alliance کو فروغ دینا ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک اضافی بونس ہوگا اس لحاظ سے کہ ہندوستانی اشتہاری صنعت اور مشتہرین، دونوں روایتی دقیانوسی تصورات کی نفی کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ماضی میں کئی اشتہاری مہمات شروع کی گئی ہیں، جن کو ہدف کے سامعین اور صنعت دونوں کی طرف سے مثبت طور پر پذیرائی ملی ہے۔

لہٰذا موجودہ منظر نامے میں ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ شاید لہجے اور ترسیل کو درست کرنے کے لئے تھوڑا سا دباؤ ہے۔ اگرچہ تحقیق ہندوستانی اشتہاری مہموں میں خواتین کی تصویر کشی کے بارے میں منفی نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر بھی، تھوڑی سی حساسیت کے ساتھ اور محرکات فراہم کراکر ہندوستان میںUnstereotype Alliance کے ذریعے حیرت انگیز نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر اشتہاری ادارے پہلے سے ہی ہندوستانی اشتہارات میں لہجہ درست کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت ہند کے ساتھ بھی اس کی مختلف وزارتوں جیسے وزارت تعلیم، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت اور اقلیتی امور کی وزارت کے ذریعے ایک مشترکہ کوشش شروع کی جا سکتی ہے۔ انہیں وزیر اعظم کی مہم کو فروغ دینے کے لیے نشانہ بنایا جا سکتا ہے جیسے کہ’’ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ ‘‘ مہم۔

مزید برآں Unstereotype Alliance کے حق میں کام کرنے والا ایک اور مثبت عنصر یہ ہے کہ فی الوقت، ہندوستانی اشتہاری فرموں کی زیادہ تر سی ای او یا ایم ڈیز کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے اور یقینی طور پر وہ ان دقیانوسی تصورات کے خلاف لڑائی میں Unstereotype Alliance میں شامل ہوکر سماج میں بہت بڑی تبدیلی لانے کا کام کرسکتی ہیں۔

(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کیلئے: www.asadmirza.in)
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی آراء ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)