خواتین اور لڑکیوں پر پڑنے والے منفی اثرات | عدالت عالیہ کا سو موٹو نوٹس ، گھریلو تشدد معاملات کو ترجیحی دینے کی ہدایات

جموں//جموں کشمیر ہائی کورٹ نے جموں کشمیر اور لداخ یو ٹیز کی تمام عدالتوں کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ گھریلو تشدد سے متعلق معاملات کو کلیدی اہمیت دیں اور ان معاملات پر سماجی دوری کو یقینی بنانے سے متعلق جاری کئے گئے سرکیولروں کے تناظر میں عمل کریں ۔ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس جسٹس گیتا متل اور جسٹس رجنیش اوسوال پر مشتمل ایک کورم نے اپنی اپنی رہائش گاہوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک معاملے کی شنوائی کرتے ہوئے کووڈ 19 وباء کی وجہ سے لاگو کئے گئے لاک ڈاؤن سے خواتین اور لڑکیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا سو موٹو نوٹس لیا ۔ عدالت نے کہا کہ عالمی سطح پر اس وباء سے سماجی اور اقتصادی منظر نامے پر پڑنے والے منفی اثرات سے خواتین اور لڑکیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔ ہائی کورٹ نے سیکریٹری سماجی بہبود محکمہ جموں و کشمیر اور لداخ یو ٹیز حکومتوں اور ممبر سیکرٹری جے کے ایس ایل ایس اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے خواتین پر پڑنے والے اثرات کے تعلق سے کئے جا رہے اقدامات سے متعلق ایک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات دیں ۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے مختلف ممالک کی طرف سے کئے جا رہے اقدامات کا جائیزہ لینے کی ہدایات دیں تا کہ ان دو یو ٹیز میں بھی گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کے مسائل کو کم کرنے کیلئے لازمی اقدامات اٹھائے جا سکیں ۔ عدالت نے ہدایت دی کہ کئے جا رہے اقدامات اور دیگر پہلوؤں سے متعلق ایک رپورٹ اگلی تاریخ سے پہلے پیش کی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازیں سیکرٹری جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو تشدد سے متعلق ایسے تمام معاملات کی فہرست تیار کریں جو التوا میں پڑے ہیں ۔ جموں اینڈ کشمیر لیگل سروسز اتھارٹیوں کے سیکرٹری اس حوالے سے پولیس اور پیرا لیگل رضا کاروں کی مدد بھی طلب کر سکتے ہیں ۔