خواب کہانی

پرویز یوسف

آج صبح سے ہی اظہر بہ ضد تھا کہ کب اُن کے گھر میں اُسی طرح کا ماحول ‘اُسی طرح کی خوشیاں پھر سے دستک دیں جو کبھی کبھار ان کے گھر میں پہلے دیکھنے کو ملتیں۔اظہر اور عاطفہ کی عمر میں صرف دوسال کا تفاوت تھا لیکن عاطفہ کی باتیں سن کر ہر ایک کو لگتا تھا کہ جیسے خدا نے اُسے بچپن سے ہی ایک ایسا دماغ عطا کیا تھا کہ وہ بارہ سالہ بچی بالکل بھی نہ لگتی بلکہ تیس سالہ تجربہ کار عورت لگتی تھی۔
’’تم کیو ں اس قدر احمقانہ باتیں کرتے رہتے ہو ‘ربِ کریم کا شکرکرنے والے ہی ہر آن اور ہر لمحہ خوش رہتے ہیں ۔دیدی میں کیسے اس رب کا شکرادا کروں۔ اُس رب نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ‘شکر تو نعمتوں کا کیا جاتا ہے لیکن ہماری زندگی تو رونے اور بسورنے میں گزر رہی ہے۔ ہم کیوں کر رب کا شکر ادا کریں ‘‘۔نعوذ باللہ تم توبہ کروایسی باتوں سے، ایک مسلمان کو ایسی باتیں شعبہ نہیں دیتی ۔
ماں نے ہانڈی چولہے پہ چڑھا کے اظہر اور عاطفہ کو کھانے کے لیے بلایا۔کھانا کھا کر اظہر اور عاطفہ ،عید، جو کہ نئے ہفتے میں آنے والی تھی، سے متعلق گفتگو کرنے لگے ۔’’کیا دیدی ہم اس بار بھی بنا گوشت کھائے اور نئے کپڑے پہنے کے بغیرہی عید منائیں گے ۔’’ارے نہیں پاگل، عاطفہ نے کرخت لہجے میں چھوٹے بھائی سے کہا ۔اس بار تمہارے سارے ارمان پورے ہونگے‘ مطلب میرے ہی ارمان کیوں دیدی۔ تمہارے بھی تو یہی ارمان ہونگے ۔کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ بڑوں کی خواہشات چھوٹوں سے زیادہ ہوتی ہیںلیکن وہ بیان کرنے سے کتراتی ہیں۔عاطفہ کا دل اپنے چھوٹے بھائی کی یہ باتیں سن کر اُسے گلے لگانے کا کو توچاہا‘ لیکن اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کو یہ سب محسوس نہ کرایا کہ اُس نے واقعی عاطفہ کے دل کا حال عیاں کیا ہے ۔
خیر دونوں شام تک کھیلتے کھیلتے سو گئے ۔صبح بیدار ہو کر عاطفہ اور اس کے بھائی نے جب اسکول کی راہ لینی چاہی تو اس بار بھی انہیں اپنے والد صاحب کی نصیحت یا د آئی ’’بُرا وقت کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو ٹل ہی جاتا ہے۔ اسی لئے بُرے وقت میں اس طرح کچھ نہ کیا جائے جس سے پھر ہمیشہ پچھتاوا ہوتاہے ۔‘‘۔اسکول سے گھر واپس آکر دونوں بچے ماں کیساتھ کچھ مدت رہ کر اپنے اسکول کا کام کرنے لگے ۔دوسرے دن صبح نیند سے بیدار ہو کر اظہر اس بات پر اڑا رہا کہ وہ اسکول نہیں جائے گا ۔آخر گھر پر کو ن سے ایسے کام رہ گئے ہیں جو تمہارا گھر میں رہنا بہت ضروری بن گیا ہے۔ ماں اب عید کو صرف دو دن رہ گئے ہیں ‘اب میں بھی باقی بچوں کی طرح گھر پر رہ کر نئے کپڑے لانے کے بارے میں اپنے
دوستوں سے جھوٹ بولوں گا۔مگر کیوں تمہیں اس طرح کا جھوٹ بولنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ ٹھیک ہے عاطفہ، بھائی کو گھر پر ہی رہنے دو اور تم اسکول جاؤ۔عاطفہ نے اسکول کی راہ لی اور ہر بار کی طرح اپنے وقت پر گھر واپس آکر بیٹھ گئی ۔اب عید کو دو دن ہی رہ گئے تھے اور عاطفہ اپنی ماں کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔ماں اس بار بھی ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں نا ‘لیکن اس بار اظہر بہت ضد کرے گا ‘ارے نہیںبیٹا اس بار محلے والے قربانی کریں گے نا تو گوشت ہمارے گھر ضرور آئے گا اور جب تک کھانے کا وقت ہوجائے تب تک میں ایک دو سالن تیار کروں گی ۔دو دن اتنی جلدی گزر گئے اور آج بھی ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی قطاریں بہہ رہی تھیں ۔عاطفہ میں جانتی ہوں ہر بچے کے پا س پہننے کے لیے نئے نئے کپڑے ہوں گے۔میں ہی تم دونوں بچوں کی گناہ گار ہوں ‘میں نہ تمہارے لیے نئے کپڑے لا سکی اور نا ہی کھانے کے لیے کچھ بندو بست کر سکی۔ماں آپ رو مت، اللہ نے کچھ بہتر رکھا ہو گا ۔عید کی نماز کے بعد اظہر کھیلنے میں مصروف اور عاطفہ اور اُس کی والدہ انتظار کرتے رہے کہ کب اُن کے گھر میں گوشت کا کوئی ٹکڑا آجائے اور وہ اُسے تیار کر کے عید منائیں۔لیکن کوئی بھی ان کے گھر کی طرف نہ آیا ۔
’’ماں مجھے کھانا دو بہت بھوک لگی ہے اور ہاں کتنے پکوان پکائے ہیں جلدی سے بتاؤ؟بیٹا وہ گوشت ہانڈی میں رکھا تھا جو ں ہی وہ نیچے اُتار نے گئی ہانڈی گر گئی ۔اسی لیے آج بھی میں نے آلو کی ہی سبزی بنائی ۔گوشت کل تک آئے گا گھر میں،پھر میں کئی طرح کے پکوان تیار کروں گی ۔جیسے تیسے اُس نے اپنے بیٹے کو سمجھا لیا لیکن وہ پوری رات کھڑکی کے پاس یہ سوچ رہی تھی کہ اگر قربانی کا گوشت نہ آیا تو میں اسے کیا جواب دوں گی ۔دوسرے دن صبح سے شام تک انتظار کرنے کے باوجود بھی ان کے گھر کی طرف ایک بھی شخص قربانی کا گوشت لے کر نہ آیا۔
’’ماں اب انتظار مت کرو،یہ بڑے لوگ، بڑے لوگوں میں ہی گوشت بانٹتے ہیں،تاکہ اُن کو واپس بھی پھر ملے،یہاں لانے سے کسی کو کچھ فائدہ نہ ہوگا،ہم تھوڑی ہی ان کو واپس گوشت دے سکیں گے‘‘۔ یہ سنتے سنتے ماں کے دل پہ تیغ چلی لیکن وہ کوئی جواب نہ دے سکی اور دل ہی دل میں یہی کہتی رہی کہ ہاں ہاں عاطفہ یہی سچ ہے ‘یہی سچ ہے ۔میں اب کسی بھی عید پہ انتظار نہیں کروں گی اور تو اور میں اب کہیں دور نکل جاؤں گی کیوں کہ شام کے کھانے پر اظہر مجھ سے گوشت کا سوال ضرور کرے گا ۔یہ کہتے کہتے ماں گھر سے ایسے بھاگی جیسے اُس کے پیچھے شیر لگا تھا ۔رکو رکو ماں، اس میں تمہاری غلطی تو نہیں ہ۔ ہاں ہاں بیٹا سب میری ہی غلطی ہے، غریب ہونا ہی سب سے بڑی غلطی ہے ۔۔۔۔۔یہ کہتے کہتے ماں کی آواز دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگی اور وہ جیسے دور جا کر حقیقت سے منہ موڑ رہی تھی، اتنے میں اظہر نے آواز دی اور میںنیند سے جاگ اُٹھی اور میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو ماں کہیںنہ تھی، شکر اللہ کا یہ صرف ایک خواب تھا ‘ورنہ میری جان تو اٹک کر رہ گئی تھی۔کیا ہوا دیدی کیوں اپنے آپ کے ساتھ ہی گفتگو کر رہی ہو۔کچھ نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔
���
محلہ قاضی حمام بارہمولہ،ریسرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
موبائل نمبر؛7006447322
[email protected]