خطہ چناب میں اے 35 کے دفاع میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے

 بانہال

محمد تسکین 
بانہال // ضلع رام بن کے بانہال ، کھڑی اور رامسو میں آج 35 اے کے دفاع میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی اور احتجاجی مظاہرے اور سمینارمنعقد کئے گئے۔ ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری ادارے ، سکول اور کالج دوسرے روز بھی بند رہے اور مقامی ٹرانسپورٹروں کی وجہ سے سڑکیں دوسرے روز بھی سنسان رہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے اس کیس کی شنوائی جنوری تک موخر کرنے کیلئے نیشنل کانفرنس نے عدالت عالیہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ مزاحمتی قیادت کی دوروزہ ہڑتال کی کال کے دوسرے روز ضلع رام بن کے بیشتر علاقوں میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور سپریم کورٹ کی طرف سے 35 اے کی شنوائی کو موخر کرنے کے اعلان کے باوجود بھی لوگوں نے مکمل ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ کھڑی تحصیل کے طول وعرض میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے اور مقامی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔سول سوسائٹی بانہال سمیت تمام مذہبی ، سماجی جماعتوں کے علاوہ ٹریڈریس فیڈریشنوں بانہال اور کھڑی کے کارکنوں اور لیڈروں نے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں بڑھ چڑھکر حصہ لیا اور 35 اے کو ہٹانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مرکزی سرکار کو منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ لوگوں نے بانہال ، کھڑی ، رامسو، مہو منگت ،باوا، کاونہ ، منڈکباس وغیرہ میں پرامن احتجاجی مظاہرے کئے اور 35 اے کے حق میں نعرے بلند کئے ۔مکمل ہڑتال کی وجہ سب ڈویژن بانہال ، کھڑی اور رامسو میں دکانیں ، کاروباری ادراے اور سکول و کالج بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب رہا۔ جمعہ کو ہڑتال سے معمولات کی زندگی دوسرے روز بھی اثر انداز رہی اور تمام سڑکیں دوسرے روز بھی ہو کا عالم پیش کر رہی تھیں اور مقامی ٹریفک مکمل طور سے سڑکوں سے غائب رہا ۔ نماز جمعہ سے پہلے اور بعد میں مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں کھڑی آڑپنچلہ ، بواہ ، ترنہ ترگام وغیرہ شامل ہیں ، باوہ میں گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کئے اور ناچلانہ۔ مہو سڑک کو کئی گھنٹوں تک احتجاجی طور بند کیا ۔ ادھر نیشنل کانفرنس لیڈر سجاد شاہین نے سپریم کورٹ کی طرف سے 35 اے کی شنوائی کو موخر کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت عالیہ لوگوں کی خواہشات کو مد نظر رکھ کر وہی فیصلہ لینا ہوگا جو ریاستی عوام کی خواہشات اور احساسات کے عین مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی دفعات کے ساتھ ایسی کسی بھی قسم کی چھیڑخانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو ریاست کی سا  لمیت اور خودمختیاری کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ بانہال ، کھڑی اور رامسو میں امن و امان کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضلع پولیس نے پولیس اور فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی تھی اور کسی بھی علاقے سے کسی بھی ناخوشگوار واقع کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ 

ڈوڈہ

آئین ہند کی دفعہ35-Aکے تحت ریاست جموں کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کو ختم کرانے کے لئے کی جانے والی سازشوں کے خلاف ریاست گیر احتجاج کے سلسلہ میں چناب ویلی کے دیگر حصوں کی طرح ضلع ڈوڈہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی اس دوران تمام تعلیمی ادارے ،دکانیں، کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں پر مسافر ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب رہا جس کی وجہ سے قصبہ جات اور رابطہ سڑکوں پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اسی دوران آج نماز جمعہ کے موقعہ پر قصبہ و دیہا توں کی مساجد میں ائمہ مساجد نے دفعہ35-Aکی اہمیت اور آئینی تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو نا قابل برداشت قرار دیا ۔ضلع ڈوڈہ کے اہم قصبہ جات گندو ،کاہرہ ،ٹھاٹھری بھدرواہ صدر مقام ڈوڈہ کے علاوہ مضافاتی علاقوںپر انوں،بھالہ، سیری، پریم نگر، کاستی گڑھ،کراڑہ،بٹیاس ،ملک پورہ میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہی تاہم عدالت عظمیٰ میں مذکورہ دفعہ کے حوالہ سے مقدمہ کی سماعت ماہ جنوری 2019کے لئے مواخر ہونے کی خبروں سے بعد نماز جمعہ ہونے والے احتجاجی پروگرام بھی منسوخ ہوئے جائنٹ سوسائٹی نے ریاست گیر احتجاج میں ڈوڈہ خطہ کے عوام کی شرکت پر تاجربرادری طلباء،وکلاء،پہاڑی مزدوروں کا شکریہ ادا کیا ہے دریں اثناء ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن ڈوڈہ کی طرف دو روزہ ہڑتال کے پیش نظر ضلع بھر کے عدالتوں میں بھی کام کاج ٹھپ رہا اور بنکوں و دیگر سرکاری دفاتر میں بھی حاضری و لوگوں کا آنا جانا برائے انجام رہا۔

 گول۔سنگلدان

زاہد بشیر
سنگلدان //آج سب ڈویژن گول کے کئی جگہوں پر  35Aدفعہ کو ہٹائے جانے کے خلاف آج احتجاجی مظاہرے ہوئے اور اس دوران بازار بھی بند رہے ۔ سنگلدان ، داڑم ،مہاکنڈ اورٹھٹھارکہ میں آج دکانیں بند رہیں اور لوگوں نے اس کے علاوہ دوسری کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے کئے اور اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ دفعہ ریاست کی شناخت ہے اور اگر کسی نے بھی اس کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو آگ لگ سکتی ہے اور اس کے خلاف ہر اُس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جو اس دفعہ کے خلاف ہے اور یہ ریاستی عوام کی ایک شناخت اور تحفظ ہے جو ہمیں پورے ملک میں الگ پہچان دیتا ہے ۔ پورے دن بازار بند رہا ہے بازار میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی ہر سازش کو ہر صورت میں ناکام بنا دیا جائے گا ۔ریاست کی عوام سیاسی سطح سے اوپر اُٹھ کر اس قانون کی جان دے کر حفاظت کریں گے اور ان عناصر اور طاقتوں کومنہ توڑ جواب دیں گے جو اس مکروہ سازش کے پیچھے ہیں اور اُن کے ناپاک منصوبوں کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن اور دفعہ 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے گا۔ کچھ فرقہ پرست طاقتیں اور عناصر ان دفعات کو ہٹاکر اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کر کے یہاں کی عوام کو ان فوائد سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو یہ دفعہ انہیں فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 35A کی منسوخی سے پوری ریاست میں فسادات اور بد امنی پھیل جائے گی ۔ مقررین نے  متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ  ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے کیوں کہ اس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔

مہور 

زاہد ملک
ریاسی //جمعہ کے روز مہور میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دفعہ  35A اور370کے دفاع کے میں ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا۔بیوپار منڈل کے ممبران ،تما م سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور نوجوانوں کی ایک اچھی تعداد نے اس احتجاج میں شرکت کی۔مظاہرین دفعہ35۔اے کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔بیوپار منڈل کا صدر عبد الصُبحان مظاہرین کی قیادت کر رہے تھے ، مظاہرین میںایوب ایان ، جاوید میر، ریاض منہاس، اشرف چیک و دیگران بھی شامل تھے۔

کشتواڑ 

اے آئی بٹ
کشتواڑ/ / دفعہ35-Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے خلاف ضلع میںدوسرے روز بھی مکمل بند احتجاج رہا ۔احتجاج  کے دو روز کی کال کو امام جامع مسجد کشتواڑ فاروق احمد کچلو ،جو کہ مسلم شوریٰ کمیٹی کشتواڑ کے چیئر مین بھی ہیںنے دی تھی۔ ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری ادارے ،پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند رہے اور پبلک و پرائیویٹ گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی معطل رہی ۔جبکہ نماز جمعہ کے موقعہ پر ائمہ مساجد اور دینی مبلغوں نے دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑچھاڑ کو ریاستی عوام کے مستقبل اور شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی خصوصی حیثیت والی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے سخت نتائج برآمد ہوں گے اور خاموشی سے طرح طرح کے ظلم سہنے والے لوگوں کو روکنا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے لوگوں کو 35 اے کے بارے میں مفصل جانکاری بھی دی۔ اس موقع پر مقررین نے ایسی کسی بھی کوشش سے مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جس سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی  چھیڑ چھاڑ یا سازش کی جائے۔ ضلع انتظامیہ نے علاقہ کے اندر اور بیرون میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔