خطہ پیر پنچال میں مظلوم روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں احتجاجی جلوس برآمد ،ہزاروں لوگوں کی شرکت

……… مینڈھر ………
جا وید اقبال
مینڈھر//برما کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر مینڈھر میں لوگوں نے بعد نما ز جمعہ احتجاج کیا ۔اس موقعہ پر علماء و مقررین نے کہاکہ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے لیکن افسوس ہے کہ عالمی بر ادری خامو ش ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ گو تم بد ھ کے نام نہا د پیرو کار بر ما میں بے گناہ اور نہتے مسلما نو ں کے ساتھ جو بہیما نہ سلوک کر رہے ہیں ،وہ نہ صرف مو جو دہ دور میں ناقابل قبول ہے بلکہ بد ھ مذ ہب میں بھی اس کی کوئی گنجا ئش نہیں ۔ان کاکہناتھاکہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ اپنے اپ کو  مذ ہب اور انسانی حقوق کی علمبر دارکہنے والی قومیں بھی  کیو ں خا مو ش ہیں اور اس ظلم اور بربریت کے خلاف زبا نیں کیو ں نہ کھولی جارہی ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ دنیا میں آنے والے ہر انسان کی قیمت اور اہمیت یکساں ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذ ہب، طبقہ یا ملک سے ہو اورکسی ایک مذ ہب یا ملک سے تعلق رکھنے والے انسان پر کسی دوسرے کوکوئی فضیلت حا صل نہیں ، مگر یہ انتہائی افسو س ناک بات ہے کہ مذہب اور انسانی حقوق کے پاسبان ہو نے کا دعویٰ کر نے والی قومیں مذ ہب اور قوم کی بنیا د پر انسانی جا نو ں کی اہمیت دے رہی ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ جب ان کے مذہب یا ہم وطن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پو ری دنیا کو سر پر اُ ٹھا لیتے ہیں مگر جب معاملہ کسی دوسری قوم یا مذ ہب کا ہو تو ہز اروں لو گ قتل ہو جائیں یا پو رے کاپورا ملک تباہ و بر با د ہوجا ئے، ان کے کا نو ں میں جو ں تک نہیں رینگتی ۔ انہو ں نے کہا کہ عالمی بر ادی میں مسلما نو ں کے تئیں جو رویہ اختیار کیاگیا ہے، وہ قابل مذ مت ہے اور اس سے دنیا کے امن کو خطرہ لا حق ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ بدھ مذہب کے ما ننے والے مسلمانو ں پر ظلم ڈھارہے ہیں جس سے خطر ناک نتا ئج سامنے آسکتے ہیں اور اس کا اثر دنیا کے دوسرے ملکو ں پر بھی پڑ سکتا ہے ۔انہو ں نے عالمی بر ادی کو دوہرامعیا ر تر ک کر کے بر می حکومت پر روہنگیا مسلما نو ں کے خلاف ہو نے والے ظلم و ستم پر روک لگانے کی اپیل کی  ۔اس موقعہ پر امام و خطیب جا معہ مسجد مینڈھر مو لا نامحمد سلطان نقشبندی، مو لا نا محمد یو نس ، ما سٹر شبیر خان،عبدالمجید چوہد ری، حا جی محمد رشید، سابق نا ئب تحصیلدار کبیر حسین، مو لو ی محمدبشیر، مو لوی محمد رشید،محمدا عظم فانی، حا فظ عبدالغفور اور حق نوازنے بھی خطاب کیا۔
……… سرنکوٹ ………
بختیار حسین
سرنکوٹ// بعد نماز جمعہ سرنکوٹ میں بھی لوگوں نے برمی مسلمانوں کے حق میں احتجاج کیا اور اس دوران ایک ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروںافراد شریک تھے ۔اس دوران مقررین نے کہاکہ یہ بربریت و ظلم کی انتہاہے کہ معصوم بچوں کا قتل کیاجارہاہے اورحاملہ خواتین کے پیٹ چاک کرکے انہیں نذر آتش کردیاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ بستیاں کی بستیاں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردی گئی ہیںاور املاک بھی تباہ کردی گئی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ مسلمان ممالک بے غیرت بنے ہوئے ہیں اور اس قدر ظلم و بربریت پر انہوںنے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ان حالات میں برما کا دورہ نہیں کرناچاہئے اور اگر وہ وہاں گئے تو انہیں برمی حکومت کو قتل عام روکنے کی ہدایت دیناچاہئے تھی ۔انہوںنے کہاکہ مسلم ممالک کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہوںنے برما کے ان متاثرین کیلئے امداد بھی دی ہے ۔ احتجاج میں برمی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مسلمان ممالک پر زور دیاگیاکہ وہ اس نسل کشی کے خلاف متحد ہوجائیںاور برمی حکومت کو سخت جواب دیاجائے ۔
……… تھنہ منڈی ………
طارق شال
تھنہ منڈی//برما( میانمار)  میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جاری ظالمانہ اور وحشیانہ عمل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بعد نماز جمعہ فرزندان توحید کا جلوس احاطہ جامع مسجد سے نکل کر مین بازار سے ہوتا ہوا غزالی چوک میں اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران تمام کاروبار اور سڑک پر چلنے والا ٹریفک بند رہا۔مظاہرین نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے مظالم کوننگی جارحیت و بربریت قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس پر عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ عمل ہے ۔امام و خطیب مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی مفتی عبدالرحیم ضیائی قاسمی نے کہا کہ عالمی برادری اور حقوق انسانی کی تمام بین الاقوامی تنظیمیں بلا تاخیر انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے آگے آئیں۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ صرف زبانی مذمت کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ فوری سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر کے میا نمار حکومت کو اپنے اس وحشیانہ و سفا کانہ رویے کی تبدیلی پر مجبور کرے اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں اسکے خلاف فوجی کارروائی اوراقتصادی و معاشی پابندیاں عائد کی جائیں۔انہوںنے کہاکہ برمی مسلمانوںکے مسائل کو مذہب کی عینک سے نہیں بلکہ انسانی حقوق کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ریاست رخائن کے باشندے کسمپرسی کے عالم میں ہیں اور در بدر بھٹکنے پر مجبورہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں سے 7 ہزار لوگ قتل کر دئے گئے اور عصمت دری کے بعد 1500عورتیں لا پتہ ہیںجبکہ 3 لاکھ 40 ہزار لوگ بے گھر اور 1 لاکھ 90 ہزار لوگ سرحدی علاقوں میں بے یارومددگار زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے انسانیت سوز مظالم کے خلاف پوری عالمی برادری کو یک زبان ہوکربرما کی خاتون رہنما آنگ سانگ سوچی کو روہنگیا کے مسائل کے حل کیلئے مجبور کرناچاہئے اوراس قتل عام کے اصل ذمہ دار بدھ مذہبی رہنما آشن وراٹھو کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔دریں اثناء امام جامع مسجد غوث نگر تھنہ منڈی مفتی نصیر الدین نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کے قتل عام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور فرزندان توحید سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھ کر ان طاقتوں کے خلاف جم کر احتجاج کریں ۔وہیںپلا نگڑعلاقے میں بھی احتجاجی جلوس نکالا گیا جسکی سربراہی مولوی ندیم احمد، بشا رت حسین اور عرفان چوہدری کر رہے تھے۔
……… راجوری ………
منیرخان 
راجوری//برمی مسلمانوں پر حکومت اوربلوائیوںکی جارہی زیادتیوں کے خلاف بعد نماز جمعہ راجوری میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ اس دوران خطاب کرتے ہوئے مقامی علماء نے کہاکہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کے آشیانے نذرآتش کرنے کے ساتھ انہیںبے گھرکیاجارہاہے اوریہ ظلم زیادتی کی داستان مسلم ممالک کونظرنہیں آرہی اورنہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر کچھ بول رہی ہیں ۔ انہوں نے بین الاقوامی طاقتوں پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ برماکے مسلمانوں پرہورہے ظلم کاسدباب کرنے کے لئے آگے آئیں تاکہ معصوم بچوں اورمردوزن پرہورہے مظالم کا سلسلہ رک سکے ۔انہوںنے کہاکہ عرب اور دیگر مسلم ممالک برمامیں اقلیتی مسلم طبقہ پرہورہے ظلم کانوٹس لیتے ہوئے برماحکومت کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کریں۔ان کاکہناتھاکہ برما حکومت مسلمانوں پرہورہے ظلم کوبندکرے نہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے ۔نماز جمعہ کے بعد قصبہ کی تمام مساجد سے جلوس کی شکل میںلوگوں نے گوجرمنڈی کارخ کیا اور وہاں پہنچ کرائمہ کرام نے جلوس سے خطاب بھی کیا۔ علماء کرام نے وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ برمی حکومت پردباو بنائے تاکہ مسلمانوں کاقتل عام بندہوسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر دیگر ممالک اس ظلم کانوٹس نہیں لیںگے تو اس کے منفی نتائج ان پر بھی پڑ سکتے ہیں ۔
……… بدھل ………
نیوز ڈیسک
بدھل //بدھل میں نماز جمعہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ پولیس تھانہ کے پاس جمع ہوئے اور انہوںنے میانمار حکومت کی کڑی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایسے مظالم ڈھائے جارہے ہیں جن کو دیکھ کر انسانیت شرماجاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ مسلم ممالک کو میانمار حکومت کے خلاف متحد ہوکر کارروائی کرنی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے انہوںنے چپ سادھ رکھی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ صرف ترکی اور ایران نے کھل کر برما کی فوجی حکومت کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم پر احتجاج کیا جس کی بنا پر حکومت بنگلہ دیش نے برمی پناہ گزینوں کے لئے اپنی سرحدیں کھول دیں ۔انہوںنے کہاکہ دیگر ممالک کی طرف سے اب تک کوئی روعمل نہیں آیااور مذمتی بیانات سے اکتفاکیاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کا روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام میں برابر کا حصہ ہے اور دراصل اسرائیل ہی برما کی حکومت کو مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ہتھیار اور دوسرا ضروری ساز و سامان فراہم کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ سب کچھ نوبل انعام لینے والی خاتون رہنما کی قیادت میں ہورہاہے اور اس پر اقوام متحدہ بھی خاموش ہے ۔انہوںنے کہاکہ برمی مسلمانوں کو کہیں بھی چین نہیںاور جموں میں بھی ان کے خلاف ایک مخصوص سیاسی جماعت سرگرم ہوگئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ دیاجائے اور انہیں قتل کرنے کیلئے نہ چھوڑاجائے ۔احتجاج اور ریلی میں بدھل یونائٹیڈ فرنٹ کے چیئر مین فاروق انقلابی ،مولانا محمد شبیر،مفتی نثار حسین ،منظور قاضی، بشارت راتھر ،وقار لون ، شبیر ٹھکر، فضل ریحان ،شکیل بیگ، ماسٹر امین،  گلشیر خان، محمدا عجاز بٹ، مولانا آصف ، شہزاد احمدو دیگر ان بھی موجو دتھے۔
……… منجاکوٹ ………
پرویز خان 
منجاکوٹ//برمی مسلمانوں کے حق میں منجاکوٹ میں بھی بعد نماز جمعہ احتجاجی ریلی نکالی گئی جو پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئی ۔ یہ ریلی فاروق خان اور مولوی گلزار کی قیادت میں نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرکے برمی مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کی ۔ اس موقعہ پر فاروق خان اور مولوی گلزار نے کہاکہ برمی حکومت اور وہاں کے بلوائی مسلمانوں کو تہہ تیغ کررہے ہیں اور انہیں مولی گاجر کی طرح کاٹاجارہاہے ۔ ان کاکہناتھاکہ اس طرح سے قتل عام پر عالمی برادری کو آنکھیں بندنہیں رکھنی چاہئیں اور انہیں حکومت برما پر دبائو بناکر اس قتل و بربریت پر روک لگانی چاہئے ۔احتجاج کی وجہ سے لگ بھگ دوگھنٹے تک جموں پونچھ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی۔
……… منڈی ………
عشرت بٹ
منڈی//بر ما میں مسلمان پر حکومت کی جانب سے ہو رہے مظالم کے خلاف منڈی تحصیل کے مختلف مقامات پر شدید احتجاج کیا گیا۔ اس سلسلہ میں تحصیل صدر مقام منڈی میں نماز جمعہ کے بعد امام جمعہ و جماعت مرکزی جامعہ مسجد منڈی مولانا سید امین شاہ ،امام جمعہ و جماعت جامعہ مسجد اعلیٰ پیر سید شاہد بخاری و امام جمعہ و جماعت جامعہ مسجد المصطفیٰ منڈی سید اقرار زیدی کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی۔ مقررین نے برما میں ہو رہے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر برما کے مسلمانوں پر یہ مظالم ہوتے رہے تو اس کے سخت نتائج سامنے آئیں گے۔انہوںنے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ برما کی حکومت پر دبائوبنائے تاکہ یہ بربریت رک سکے اوراگر برمی حکومت مسلم کش اقدام پر روک نہیں لگاتی تو اس کے ساتھ تعلقات ختم کئے جائیں ۔