خطہ پیر پنچال میں جنم اشٹمی کا تہوار جو ش و خروش سے منایاگیا

پونچھ+راجوری// کرشن جنم اشٹمی کا تہوار ملک بھر کی طرح سرحدی خطے پیر پنچال میں بھی روایتی جوش و خروش اور بھائی چارے کے ساتھ منایاگیا۔پونچھ میں سناتن دھرم سبھا پونچھ کی جانب سے اس سلسلہ میں پچھلے دس روز سے گیتا بھون میں کرشن کتھا کی جا رہی تھی جس میں بیرون ریاست سے تشریف لانے والے گیانی نے شری کرشن جی مہاراج کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ اتوار کے روز اس سلسلہ میں گیتا بھون پونچھ میں ایک تقریب منعقد ہوئی جو تین بجے تک جاری رہی۔ اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ راہل یادو،ایس ایس پی راجیو پانڈے کے علاوہ ایم ایل سی پردیپ شرما، ایم ایل اے پونچھ شاہ محمد تانترے، ایم ایل سی یشپال شرما ، سابق ڈپٹی چیئرمین قانون ساز کونسل جہانگیر احمد میرکے علاوہ بڑی تعداد میں تمام مذاہب کے پیروکار موجو دتھے ۔اس دوران ایک جلو س بھی برآمد کیا گیا جس میں شری کرشن کی زندگی کے مختلف گوشوں کو درشاتی جھانکیاں نکالی گئیں۔یہ جلوس قلعہ کے راستے سے بس اڈہ پہنچا اور اہاں سے ڈنگس رادھے شام مندر پہنچا اور اس کے بعد صدر بازار سے گزرتا ہوا دوبارہ گیتا بھون میں اختتام پذیر ہوا۔یہ سلسلہ سوموار کو بھی جاری رہا جس دوران رادھے شام مندر پونچھ میں بنڈھارے کا اہتمام کیا گیا جس میں بلا لحاظ مذہب و ملت لوگوں نے لنگر تناول کیا ۔سناتن دھرم سبھا کے صدرستیش ساسن نے کہا کہ جنم اشٹمی پر کرشن بھگوان کی جنم کی خوشی تمام ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، گیانا، سرینام، فجی اور پاکستان کی ہندو برادری میں منائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران لوگ اپنی حفاظت کی دعا کرتے ہیں اور بھجن کیرتن کر کے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے انتظامات کیلئے ضلع انتظامیہ کاشکریہ ادا کیا۔جنم اشٹمی کے تہوار کی مناسبت سے ضلع کے دیگر مقامات میں بھی جوش و خروش دیکھاگیا ۔وہیں ضلع راجوری میںبھی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ یہ تہوا ر منایاگیا اور مسلسل دوسرے روز بھی تقاریب منعقد ہوئیں ۔راجوری میں مختلف مقامات پر جھانکیاں نکالی گئیں جن میںبڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس دوران سندر بنی ، کوٹرنکہ ،راجوری قصبہ ،نوشہرہ اور دیگر جگہوں پر بھی جھانکیاں برآمد ہوئیں جہاں پہلے سے ہی پولیس کی طرف سے سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے ۔راجوری قصبہ میں جھانکی سناتن دھرم سبھا راجوری سے برآمد ہوکر مین بازار اور بس اڈہ سے ہوتے ہوئے واپس سناتن دھرم سبھا میں ہی اختتام پذیر ہوئی ۔ اسی طرح کی جھانکی شیو مندر جواہر نگر سے بھی برآمد ہوئی مین بازار سے واپس ہوکر اسی مندر میں اختتام کو پہنچی ۔تہوار کے دوران دونوں اضلاع میں بھائی چارے کی مثالیں نظرآئیں اور مسلم طبقہ نے اپنے ہندو بھائیوں کو مبارکباد پیش کی ۔