خطہ پیر پنچال میں اے ٹی ایم نظام مفلوج

 خطہ پیر پنچال میں پچھلے ایک ہفتے سے بنکنگ کانظام درہم برہم ہے جس سے معمولات زندگی پر زبردست اثر پڑرہاہے ۔ راجوری پونچھ اضلاع میں اے ٹی ایم مشینیں رقومات سے خالی ہیں اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کو اشیائے ضروریہ اور دوائیاں خریدنے کیلئے بھی پیسوں کا بندوبست کرنے کی خاطردر در کی ٹھوکریں کھا کرکبھی ایک  اے ٹی ایم تو کبھی دوسرےاے ٹی ایم کے پاس کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں ۔خطے میں مالی مشکلات ایسے وقت میں دیکھنے کو مل رہی ہیں جب ملک کو ڈیجیٹل بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں اور بنکاری کے نظام کو جدید سے جدید تر بنایاجارہاہے ۔عوامی مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں تاہم اس بحران سے نکلنے کیلئے ابھی تک کسی بھی بنک کے حکام کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیاگیا اور سبھی بنکوں کا سہولیات کی فراہمی میں ایک جیسا حال ہے ۔ اگرکہیں کسی دن کسی اے ٹی ایم میں پیسے جمع بھی کئے جاتے ہیں تو انہیں حاصل کرنے کیلئے لوگوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں ۔ایسی ہی قطاریں بنکوں کے اندر بھی لگ رہی ہیںجو اس جدید دور میں ایک نئی بات ہے ۔ عوام کو درپیش شدید مشکلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی جارہی ہے۔خطہ میں پہلی مرتبہ ایسی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کی کیاوجوہات ہوسکتی ہیں؟ اس کے بارے میں کوئی ٹھوس دلیل سامنے نہیں آرہی ہے۔ حالانکہ یہ شاید ہی کہنے کی بات ہے کہ موجودہ دور میں ہر ایک شخص کا انحصار اے ٹی ایم پر ہے اور ہر کوئی ضرورت کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر اے ٹی ایم سے پیسے نکال لیتاہے ۔اے ٹی ایم کے بھروسہ لوگ گھر میں زیادہ پیسے جمع نہیں رکھتے اور بازار میںخریداری سے قبل روزانہ اے ٹی ایم جانا ایک طرح سے معمول بن چکاہے ۔اس طرح سے بنک کھاتے میں پیسے محفوظ رہتے ہیں اور رقومات جیب میں یا گھر میں رکھ کر اس کی چوری ہونے کا خطرہ بھی نہیں رہتا۔تاہم موجودہ بحران نے راجوری پونچھ کے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبورکردیاہے کہ اے ٹی ایم نظام پر مکمل بھروسہ نہیں کیاجاسکتا ۔اگرچہ بڑے شہروں میں نیٹ بنکنگ کا رجحان طوفانی رفتار سے بڑھتاجارہاہے لیکن راجوری پونچھ میں سبھی لوگ ڈیجیٹل یا نیٹ بنکنگ کا استعمال نہیں کرتے اور صارف سے لیکر دکاندار تک کا دار ومدار نقد لین دین پر ہی ہوتاہے اورایسے میں مشکلات تب بڑھ جاتی ہیں جب اے ٹی ایم نظام کام کرنا چھوڑ دے جس کا اس وقت لوگ مشاہدہ کررہے ہیں۔یہ مالی بحران ہے یاپھر کرنسی نوٹوں کی فراہمی میں مشکلات کاسامناہے ، اس کاجواب نہیں چاہئے بلکہ اس وقت لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اے ٹی ایم نظام کو فعال بنایاجاناچاہئے اورحکام کو خاموشی توڑ کر اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھاناچاہئے تاکہ کوئی نہ کوئی حل سامنے آسکے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوںکو دوائیوں اور ضروری اشیاء کی خریداری سے محروم نہ رکھاجائے اور فوری طور پر اس بحران سے نکلنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔