خطہ پیر پنچال میںخراب موسمی صورتحال، تیز ہوائیں،طوفانی بارشیں زندگی مکمل طورپٹری سے اتر گئی

 راجوری وپونچھ میںسکول بند رہے، بیسیوں ڈھانچوں کو مکمل یا جزوی نقصان

سمت بھارگو+بختیار کاظمی +عشرت حسین بٹ+عظمیٰ یاسمین+جاوید اقبال+حسین محتشم+محمد بشارت+رمیش کیسر

راجوری+پونچھ//خطہ پیر پنچال کے جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں ہفتہ کے روز شدید بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے عام زندگی پٹری سے اتر گئی اور لوگوں نے آندھی کی وجہ سے ادھر ادھر اڑنے والی چیزوں سے خود کو بچانے کے لیے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق راجوری پونچھ کے کئی علاقوں میں طوفانی ہواؤں اور آندھی چلنے سے بھاری نقصان کی اطلاع ہے۔ خطہ پیر پنچال کے تمام پہاڑی علاقوں میں برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں بھاری بارشوں اور تیز رفتار ہواوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر چہ ان بارشوں سے فصلوں اور پھلوں کو بہت فائدہ ہوا ہے جبکہ پانی کی قلت بھی دور ہوئی ہے تاہم اطلاع ہے کہ تیز ہواؤں، آندھی اور طوفان کی وجہ سے بجلی کی ترسیلی لائنیں متاثر ہوئی ہیں جس سے متعدد علاقے بجلی کی سپلائی سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
راجوری
جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے بہت سے دوسرے حصوں کی طرح پیر پنجال کے علاقے کے لیے ان خراب موسمی حالات کی پیشین گوئی پہلے ہی کر دی گئی تھی۔سرکاری اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام کو کئی گھنٹوں کی ہلکی بارش کے بعد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات میں بارش کی شدت میں اضافہ ہوا اور دونوں اضلاع میں رات سے ہی موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔جڑواں اضلاع کے تمام حصوں میں ہفتہ کو دن بھر موسلا دھار بارش جاری رہی جس سے تقریباً تمام ندی نالوں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔بارش کے علاوہ تیز ہواؤں نے معمولات زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا اور ان تیز چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے کئی مقامات پر خوفناک مناظر دیکھنے میں آئے اور لوگوں نے ہواؤں کی وجہ سے ہوا میں اڑنے والی چیز سے خود کو بچانے کے لیے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔علاقوں میں ہفتے کی شام سے شروع ہونے والا آندھی جاری تھی کہ آخری اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مختلف علاقوں میں درجنوں درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے۔راجوری کے ساتھ ساتھ پونچھ میں، ندیوں کی سطح میں پانی کی سطح میں اضافے کے درمیان، جموں و کشمیر پولیس نے لوگوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی اور انہیں ندیوں سے دور رہنے کو کہا۔پبلک ایڈریس سسٹم کے ساتھ نصب پولیس کی گاڑیاں ندیوں کے قریب علاقوں میں گشت کرتی ہوئی اور اعلانات پکاتی ہوئی دیکھی گئیں۔راجوری ضلع کے علاقوں میں پولیس کی گاڑیوں کو اعلانات کرتے ہوئے سنا گیا”آپ سب سے گزارش ہے کہ دریا کے قریب نہ جائیں کیونکہ پانی کی سطح بڑھ گئی ہے اور تیز بارش ہونے سے اس میں مزید اضافہ متوقع ہے”۔پولیس نے اپنی ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے بھی دور رہیں جہاں پتھراؤ کا خطرہ ہے۔مختلف کچی آبادیوں جیسے نوشہرہ میں، پولیس ٹیم نے کسی بھی قسم کے جانی نقصان کو روکنے کے لیے لوگوں کو دریا کے کناروں سے دور منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی۔راجوری کے محمد قلندر نے کہا”طویل خشک موسم کے بعد دریا کے اجسام کافی حد تک سکڑ گئے تھے لیکن یہ ندیاں آج سیلابی حالت میں ہیں اور پانی کی سطح کئی گنا بڑھ چکی ہے” ۔انہوں نے کہا کہ شہر سے بہنے والی درہالی ندی میں طغیانی ہے جس سے خوفناک منظر پیدا ہو رہا ہے۔دریں اثنا، حکومتی انتظامیہ نے خراب موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے کے روز دونوںاضلاع کے تمام سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔راجوری اور پونچھ دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اس سلسلے میں احکامات جاری کیے جس میں بتایا گیا تھا کہ راجوری اور پونچھ ضلع کے تمام سکول خراب موسم اور شدید بارش کی وجہ سے ہفتہ کو بند رہیں گے۔
سرنکوٹ
بلاک بفلیاز کی پنچایت ماڑا وارڈ نمبر سات محلہ گنال کیری میں تیز آندھی کی زد میں آکر نذیر حسین ولد لعل حسین کا مکان پوری طرح تباہ ہو چکا جبکہ موسلادھار بارش کی وجہ سے فضل آباد میں بشیر احمد منہاس ولد سید اکبر دین کے مکان کے ساتھ تعمیر شدہ دیوار منہدم ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دیوار کے پچھلے ایک قبرستان کوبھی خطرہ لاحق ہے۔ ماڑا کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ نذیر حسین نہایت ہی غریب شخص تھا جس کوحال ہی میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت پہلی قسط ملی تھی جس کے بعد مکان کا کام شروع کیا تھا لیکن بدنصیبی سے ہفتہ کے روز تیز آندھی نے سب کچھ مٹی میں ملا دیا ۔
منڈی
نامساعد موسمی صورت حال اور موسلا دار بارش کی وجہ سے ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے دور دراز علاقوں میں چار رہائشی مکان جزوی طور پر تباہ ہو گئے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ شب منڈی کے کینوں علاقہ میں محمد عارف ولد محمد شفیع اور رفاقت خان ولد محمد عارف ساکنان کینوں کلانی کے رہائشی مکانوں پر نباڑ سکیم کے تحت تعمیر کی جا رہی سڑک سے کافی زیادہ بڑے پتھر کھسکے جنہوں نے دونوں رہائشی مکانوں سمیت ایک شیڈ کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دیا ہے۔ اس دوران اگر چہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ مکان مالکان کو کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ ادھر تحصیل کے سرحدی علاقہ ساوجیاں میں واقع اوڑی پورہ میں بھی شدید بارش کی وجہ سے بشیر احمد ڈار ولد محمدا ڈار اور منظور احمد ولد محمدا ڈار کے رہائشی مکانوں کی چھتیں ٹوٹ گئیں۔ اس حوالے سے چوکی افسر ساوجیاں سنیل ویردی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مسلسل شدید بارش کی وجہ سے ساوجیاں کے اوڑی پورہ علاقہ میں ایک رہائشی مکان تباہ ہوگیا جبکہ دوسرے مکان کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا ہ۔ان کا کہنا تھا کہ نقصانات کے حوالے سے انہوں نے رپوٹ بھی ددرج کی ہے۔ دریں اثنا پونچھ ضلع کے علاقہ بانڈی چچیاں میں قائم سرکاری ہائی سکول بانڈی چچیاں کے ہیڈ ماسٹر عارف علی میر نے جانکاری دیتے ہوئے کیا کہ بارشوں اور تیز رفتار آندھی کی وجہ سے گورنمنٹ ہائی سکول بانڈی چچیاں کی عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ شمسی توانائی کے پلانٹ شمسی پینل و آٹوموٹیو لباٹری کو شدید نقصان پہنچا۔
تھنہ منڈی
لوگوں نے بتایاکہ جمعہ اور سنیچر وار محکمہ موسمیات کی اہم پیشنگوئی کے مطابق ہونے والی شدید بارش کے دوران شدید آندھی اور تیز رفتار ہواؤں نے طوفان کی شکل اختیار کر لی جس سے اس علاقے میں متعدد جگہوں پر مکانوں کی چھتیں اور گاؤ خانے ہوا اپنے ساتھ اڑا کر لے گئی۔ طوفانی بارشوں اور تیز ہواوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا، بجلی کے کھمبے گر آنے اور ترسیلی لائنیں ٹوٹ جانے کی وجہ سے کئی علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوب گئے تاہم سب ڈویژن تھنہ منڈی میں بجلی کے فعال جونیئر انجینئر وقار ڈار اور لائن ایکٹر شبیر احمد خان کی مجموعی نگرانی میں پوری ٹیم بجلی بحال کرنے میں مصروف عمل ہے تا ہم اخری اطلاعات ملنے تک تھنہ منڈی ٹاؤن میں جزوی طور پر بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی۔ وہیں تھنہ منڈی کے زیریں علاقوں میں موسلادھار بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری رہا بارش اور برفباری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس دوران ندی نالوں میں طغیانی کے باعث علاقہ بھر کی سڑکوں پر ٹریفک کم دیکھی گئی۔ تاہم سیاحتی مقام دہرہ کی گلی کو بفلیاز سے جوڑنے والی مغل شاہرہ برف اور دھرم راج تعمیراتی ایجنسی کی عدم توجہی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ٹریفک کے لیے فی الحال بند ہے جس کی وجہ سے یہاں کے عوام اور دوسرے مسافروں کو مشکلات پیش آرہی ہیں ۔
مینڈھر
سب ڈویژن مینڈھر میں موسلادھار بارش اور طوفانی ہواؤں کے بعد کئی جگہوں پر پسیاں آنے اُور درخت گرنے کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکیں گاڑيوں کی آمد و رفت کیلئے بند ہو گئی ہیں جبکہ کئی علاقوں کی بجلی بھی تیز ہواؤں سے بند ہو گئی ہے۔ دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں نے ضلع اُور تحصیل انتظامیہ سے اپیل کی کہ بارشوں کی وجہ سے بند سڑکوں کو فوری طور گاڑيوں کی آمد و رفت کیلئے کھولا جائے تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات مل سکیں ۔
پونچھ
جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے میدانی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران تحصیل منڈی کے لورن، ساوجیاں،تحصیل سرنکوٹ اور تحصیل مینڈھر کے مختلف بالائی مقامات پر سنیچر کو بھی برف باری ہوئی اور میدانی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔تحصیل منڈی کے ترچھل علاقہ میں ایک نالے میں اچانک طغیانی کی وجہ سے ایک چھوٹی گاڑی نالے میں پھنس گئی جہاں لوگوں نے مشکلوں سے اپنی جان بچائی۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہاں سڑک تعمیر کی جا رہی ہے جس کا ملبہ نالے میں ڈالا جا رہا ہے اسی وجہ سے پانی جمع ہو گیا اور یہ طغیانی پیدا ہو گئی ۔انہوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام ایمانداری سے انجام نہیں دے رہے ہیں۔ضلع کے بیشتر مقامات پر اس دوران پہاڑی علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جب کہ بجلی اور پانی کی فراہمی جیسی ضروری خدمات میں کچھ مقامات پر خلل پڑ رہا ہے۔شہر خاص پونچھ میں بھی بارشوں کی وجہ سے تاجروں کی تجارت متاثر رہی۔
کوٹرنکہ
دو روز کی مسلسل بھاری بارش کی وجہ سے کوٹرنکہ بدھل میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی وہیں پنچایت حلقہ سموٹ زیریں ،تا بالا سموٹ درمن کو جانے والی پانچ کلو میٹر سڑک کی خستہ حالی کے باعث مقامی آبادی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ محکمہ پی ایم جی ایس وای کی جانب سے اس سڑک کی مرمت کے لیے کوی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔دیر رات ہوئی بھاری بارش کے دوران سڑک کی نالیاں اور حفاظتی باندھ نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کا سارا پانی پیر محلہ میں داخل ہوگیا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی ٰکو بتایا کہ یہ سڑک پہلے محکمہ تعمیرات عامہ کے پاس تھی ،اس سڑک پر کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی سڑک کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوا اور اب محکمہ پی ایم جی ایس وائی کو ٹرانسفر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کا سارا پانی پیر محلہ کے ساتھ ساتھ ہایر سکینڈری سکول و سموٹ بازار میں بھی داخل ہوگیا۔مکینوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے استدعاکی کہ موسم کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئےمحکمہ پی ایم جی ایس وائی ملازمین کو موقع پر بھیجا جائے اور اس سڑک کی حالت میں سدھار لایا جائے تا کہ لوگ گھر سے بے گھر نہ ہوں۔
نوشہرہ
نوشہرہ میں گزشتہ دو دنوں سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جبکہ جمعہ کی صبح دس بجے سے بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہے۔ہفتہ کی صبح سے بارش کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔ گھروں کی چھتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں، ہوا میں بیڈ شیٹ اڑ جانے سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آبی ذرائع اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔