خصوصی پوزیشن کی بحالی ہمارا حق بھیک مانگنا نہیں:ڈاکٹر فاروق

جموں//نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کا الحاق عارضی تھا، جسے مستقل یا ختم کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔مینڈھر میں عوامی جسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1947میں ساری ریاستیں ہندوستان میں مدغم ہوئیں البتہ جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست ہے جو ضم نہیںہوئی بلکہ ایک مشروط الحاق کیا اور اس الحاق کی بنا پر دفعہ370اور 35اے کا قیام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دفعہ370عارضی تھا میں اُنہیں یہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دفعہ اس لئے عارضی تھی کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرانا مطلوب تھا اور اس کے بعد ہی اس دفعہ کو ختم یا مستقل کیا جانا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دفعہ آج تک عارضی ہی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے بھی پارلیمنٹ میں بحیثیت وزیرا عظم اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اگر جموں وکشمیر کے لوگ ہندوستان سے الگ ہونے کا انتخاب کریں گے ، ہمیں اس کا دکھ ہوگا لیکن ہمیں انہیں روکیں گے نہیں۔انہوںنے کہا کہ الیکشنوں میں جیت حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں اور ہندئوں کو آپ میں لڑایا جارہا ہے۔ عوام کو ان سازشوں کا توڑ کرنا ہوگا کیونکہ اس رجحان سے وطن ٹوٹ جائے گا اور ہم ایسا بالکل بھی نہیں چاہئیں گے کیونکہ اس ملک کی آزادی اور سالمیت کیلئے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بے بہا قربانیاں پیش کیں ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور دوستانہ تعلقات خطے میں امن و امان کی واحد ضمانت ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ہے کہ جواہر لعل نہرو سے لیکر منموہن سنگھ اور لال بہادر شاستری سے لیکر واجپائی تک سارے وزرائے اعظم نے امن مذاکرات کئے یہاں تک موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی لاہور جاکر اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے گھر گئے تو اب بات چیت کرنے میں کیاحرج ہے؟۔ مینڈھر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ہم لوگ بھی اسی صورت میں عزت اور امن و سکون کیساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ دفعہ370اور35اے کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اپنے حقوق کیلئے لڑنا ہمارا کام ہے، اس کیلئے ثابت قدم رہنا ہوگاکیونکہ اس جدوجہد میں بہت سارے مشکلات اور چیلنجوں سے گزرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ ہم اپنے حق کیلئے لڑ رہے ہیں۔