خصوصی حیثیت کی سیاست

 ایک سال سے زیادہ عرصہ بعد کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں نے حرکت میں آکر میٹنگوں اور بیان بازیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔عوامی حلقے اور بیشتر مبصرین و تجزیہ نگار مین اسٹریم سیاسی لیڈران اور پارٹیوں کی ان تازہ نپی تلی سرگرمیوں پر شبہات کا اظہار کررہے ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ وہ اُس خصوصی حیثیت کی بحالی چاہتی ہیں جس کو بچانے میں مذکورہ پارٹیاں بری طرح ناکام ر ہی ہیں۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ کشمیر کی علاقائی پارٹیوں نے گذشتہ سات دہائیوں میں خصوصی پوزیشن کی حفاظت اور اس کے استحکام کے نام پر ہی اپنی سیاسی دکان چلائی ہے لیکن جب وہ خصوصی حیثیت اب قصۂ پارینہ بن گئی ہے تو مذکورہ پارٹیوں نے اب اس کی بحالی کے نام پر اپنی دکان سر نو شروع کر رکھی ہے۔
 پانچ اگست2019 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے سابق ریاست جموںکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور ریاستی درجے کو ختم کرکے خطے کو مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔تب سے کشمیر کے اندر تنائو اور کشیدگی کا ماحول قائم ہے اور عوامی حلقے سنگین پابندیوں کی بدولت گھٹن کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ہزاروں مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ مین اسٹریم لیڈران اور کارکنان کو بھی جیلوں کی ہوا کھلائی گئی تاہم فی الوقت سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے بغیر ہر مین اسٹریم لیڈر ’آزاد‘ اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ان میں سے کچھ ایک نے سیاست سے دستبرداری میں ہی عافیت سمجھی ہے اور کچھ نے نئی دلی کو  ناراض نہ کرنے کو اپنی سیاست کا اُوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ 
مرکزی سرکار نے اس بات کی وضاحت پہلے ہی کر رکھی ہے کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ ’’مناسب وقت پر‘‘ بحال کیا جائے گا تاہم خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے پارلیمانی سطح کی قانون سازی درکار ہے اور مبصرین کے مطابق وہ ناممکن کی حد تک مشکل ہے کیونکہ جموں کشمیر کو بھارت کے ساتھ مکمل طور ضم ہونے سے ملکی سطح کاہر سیاسی لیڈر اور پارٹی ’قومی مفاد ‘ کے پیش نظر مطمئن ہے۔اس لئے تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر کل بھارتیہ جنتا پارٹی کی جگہ کانگریس بھی نئی دلی کی زمام حکومت سنبھالے گی تب بھی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے امکانات انتہائی قلیل ،بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مین اسٹریم سیاسی لیڈران و کارکنان کی رہائی کے بعد اُنہیں جن سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ،بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اُن کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو بھارت نواز سیاست کی طرف مائل کیا جائے۔نئی دلی چاہتی ہے کہ کشمیری عوام ’آزادی‘ کو بھول کر ملکی آئین کی حدود میں آنے والاکوئی بھی مطالبہ کریں۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکز آج نہیں تو کل جموں کشمیر کا ریاستی درجہ لوٹائے گا لیکن اس سے قبل مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں لوگ ریاستی درجے کے حصول پر بھی جشن مناکر سب کچھ بھول جائیں۔در اصل مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے ذریعے خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجے کی بحالی کی باتیں کرکر کے یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے جیسے سبھی کشمیری لوگوں کو بس اسی چیز کی طلب ہے اور یہی اُن کی منزل مقصود ہے۔ایسا کرکے اُس مطالبے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے کشمیر پربھارت کی حکمرانی خطرے میں پڑتی ہے۔
 آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں تومحض ریاستی درجے کی بحالی پر بھی مطمئن ہیں، جس کا ایک ثبوت حال ہی میں نیشنل کانفرنس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا انڈین ایکسپریس میں شائع ایک مضمون بھی ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں اپنے الیکشن لڑنے کو خصوصی پوزیشن پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے محض ریاستی درجے کی بحالی سے مشروط کردیا تھا ۔ لیکن عمر عبد اللہ کو اپنی پارٹی کے اندر بھی آغا روح اللہ مہدی کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہیں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اس قدر شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا کہ انہوں نے دوسرے دن سے ہی خصوصی پوزیشن کے حصول کا راگ الاپنا شروع کیا۔حالانکہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی گذشتہ ایک سال کے زیادہ عرصہ سے محدود ہے اور سائبر پولیس کی طرف سے سوشل میڈیا کی نگرانی بھی سخت کی گئی ہے تاکہ بقول حکام سوشل میڈیا پر ’’ پاکستان کی حمایت یافتہ بھارت دشمن سرگرمیوں کا قلع قمع‘‘ کیا جاسکے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ساری بندشوں کے باوجود لوگ اپنے جذبات کے اظہار سے باز نہیں آرہے ہیں اور عمر عبد اللہ نے بھی اُسی عوامی اظہار کے رد عمل میں بعد ازاں خصوصی پوزیشن کو لیکر اپنے مؤقف کی ضاحت کی کوشش کی۔
سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں سیاست دان ہمیشہ موقعے کی تلاش میں رہتا ہے اور کامیاب سیاست دان اُسی کو قرار دیا جاتا ہے جو موقعے کا فائدہ اٹھاسکے۔با الفاظ دیگر کشمیر کے مین اسٹریم سیاست دانوں نے جونہی محسوس کیا کہ مزاحمتی سیاست کو بزور ہی سہی، خاموش کیا گیا ہے تو اُنہوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کچھ ایسے انداز میں کیا جس سے وہ عوامی حلقے کے ہر خیمے کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔اسی جذبے  کے تحت ’’گپکار ڈکلیریشن‘‘ کا بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا ۔
 گپکار اعلامیہ میں چھ سیاسی پارٹیوں نیشنل کانفرنس،پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی،پیپلز کانفرنس،کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسیسٹ)،عوامی نیشنل کانفرنس اور پردیش کانگریس نے جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کیلئے ایک ساتھ کھڑا رہنے کا اعلان کیا ،لیکن مبصرین کے مطابق علاقائی پارٹیوں کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملانے کا کانگریس کا مقصد تو صرف حزب اختلاف کا رول نبھانا ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن سے متعلق آئین کی دفعہ370 کو کھو کھلا بنانے کی حد تک ترامیم میں کانگریس کا کتنا ہاتھ رہاہے۔
’اٹانومی‘ کی وکیل نیشنل کانفرنس ’سیلف رول‘ کے حامیوں ،یہاں تک کہ ’قابل حصول وطنیت‘ کے مصنف کو بھی ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی پر کاربند ہے تاکہ بقول اُس کے ’عزت و آبرو‘ کی بحالی کو ممکن بنایا جاسکے۔ان سبھی پارٹیوں نے’ ’ہمارے بغیرہمارے متعلق کچھ نہیں‘‘ کی اصطلا ح ایجاد کرکے بظاہر کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم سے ایڈریس کرنے کی سعی کی ہے ۔اس سے بے شک جموں کشمیر کی سیاست کو ایک نیا موڑ مل سکتا ہے تاہم اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ یہ سیاسی لیڈران گپکار اعلامیہ پر کس طرح عمل پیرا ہونگی ورنہ خواب بیچنے کا سیاست دانوں کا کاروبار کافی پرانا ہے اور تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ کس طرح رائے شماری کے نعرے کو لیکر بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم کھڑا کیا گیا لیکن بعد میںلیلائے اقتدار سے بغلگیر ہونے کے بعد کیسے ’راے شماری‘ کی اصطلاح سے دامن چھڑایا گیا۔