خشک موسم کے بیچ 22 فروری کو بارشیں متوقع

سری نگر//وادی کشمیر میں گرچہ موسم خشک ہے اور دن میں دھوپ بھی کھلی رہتی ہے تاہم شبانہ درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے درج ہو رہا ہے۔
 
ادھر محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 22 فروری کو برف و باراں متوقع ہے
 
انہوں نے کہا کہ وادی میں 21 فروری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے تاہم اس کے بعد موسم کروٹ بدل سکتا ہے۔
 
وادی میں شبانہ درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے درج ہو رہا ہے۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سری نگر میں 18 دسمبر کو رواں موسم کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم دجہ حرارت منفی7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی4.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حررات 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے قصبہ دارس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے ک م درجہ حرارت منفی18.0
 
ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں منفی14.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
دریں اثنا وای میںں ہفتے کے روز بھی موسم صبح سے ہی خشک رہا اور دن بھی دھوپ بھی چھائی رہی جس سے لوگوں کو لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
 
وادی میں خشک موسم کے ساتھ ہی جہاں دیہی علاقوں میں کسانوں نے اپنے اپنے میوہ باغوں اور کھیت کھلیانوں میں کام شروع کیا ہے وہیں شہر میں بھی مختلف تعمیراتی کام شروع ہوگئے ہیں۔
 
وادی میں بیس روزہ چلہ خورد کا دور اقتدار اختتام پذیر ہونے والا ہے تاہم امسال اس نے بھی چالیس سالہ چلہ کلان کی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا۔