خزاں کی پرچھائیاں!

مصلحتکے پیش نظر نام اور مقام کو مخفی رکھنا ہی دور اندیشی ہے، مبادا کہ شرمساری کے باعث کوئی اپنے آپ کو مجرم محسوس کرتا رہے اور کسی کے زخم ہرے ہونے لگیں۔ہوا یوں کہ ایک بار صحافی برادری نے فیصلہ کیا کہ پاگل خانے کا ایک چکر لگایا جائے اور پاگلوں کی زندگی ،حرکات و سکنات کے علاوہ اُن سے کیا جانے والے سلوک کامشاہدہ کرکے ایک رپورٹ یا ایک فوٹو فیچر تیار کرکے جرائد میں شائع کرلی جائے۔چیز کچھ نئے ڈھنگ کی بھی ہوگی اور روز مرہ کے کام سے ہٹ کر ایک متنوع موضوع بھی ہوگا ۔ ایک مقررہ دن پر ہم پاگل خانے میںاپنے پیشہ وارانہ سامان سے لیس ہوکر پہنچ گئے ،چونکہ ایک روز قبل ہی انچارج ڈاکٹر صاحب سے اجازت حاصل کرلی گئی تھی ،اس لئے داخلے میں کوئی دِقت پیش نہیں آئی ۔لاچاری ،بے بسی اور بے کسی کے اس طرح کے ماحول میں آتے ہی ایک عجیب سا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے خزاں کی پرچھائیں منڈ لانے لگتی ہیں ۔ ایک انسانی ہمدردی عود کر آتی ہے اور ایک درد سا جاگتا ہے ۔
کچھ دیر تک انچارج ڈاکٹر صاحب اور متعلقہ عملے کے لوگ ہمارے ساتھ رہے اور ہمیں مریضوں کو بہم پہنچائیے جارہے مختلف انتظامات اور سہولیا ت کے بارے میں جانکاری فراہم کرتے رہے ۔بعدازاں ہم نے اُن سے آزادانہ طور شفا خانے کاایک چکر لگانے کی خواہش ظاہر کی جس کو انہوں نے بظاہر خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرلیا مگر صاف لگتا تھا کہ وہ ہمیں اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتے تھے ۔ویسے ہسپتال کا عملہ اس بات پر مطمئن تھا کہ انہوں نے خطرناک قسم کے پاگل پہلے ہی چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں میں بند کرلئے تھے ۔ہماری ٹیم لگ بھگ آٹھ صحافیوں اور فوٹو گرافروں پر مشتمل تھی ۔اجازت ملتے ہی ہم مختلف اطراف میں پھیل گئے ۔تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر گھوم گھام کر میں کشادہ کوری ڈور میں پہنچا جس کی بائیں طرف کئی کوٹھریاں بنی ہوئی تھیں جن میں سلاخوں والے دروازے لگے تھے ۔ کوٹھریاں پاگلوں سے بھری ہوئی تھیں، جن میں سے کچھ اونگھ رہے تھے ، کچھ سو رہے تھے ، کچھ بے تحاشہ ہنس رہے تھے ،کچھ واہی تباہی بک رہے تھے ،کچھ رو رہے تھے ۔ایک پاگل جج بنا مقدمات کا فیصلہ سنا رہا تھا ، عجیب عالم تھا ۔ہنسی بھی آرہی تھی اور افسوس بھی ہورہا تھا ۔ویسے ذاتی طور میں انسانی سماج کے اس طبقے کی حالت زار دیکھ کر ہمیشہ دُکھی ہوجاتا ہوں۔کیا پتہ اُن پاگلوں میں کون اپنے گھر میں کس حیثیت کا مالک رہا ہوگا ۔ کوئی بال بچوں والا باپ بھی رہا ہوگا ، کوئی دادا ،نانا بھی ہوگا اور کوئی چاہا جانے والا پتی اور کوئی چوٹ کھایا ہوا عاشق بھی رہا ہوگا ۔ضروری نہیں یہ سارے کے سارے نچلے طبقوں سے تعلق رکھتے ہوں گے، جہاں ماحول کی کثافت اور نشیلی پدارتھ استعمال کرنے کی پاداش میں اکثر لوگوں کا دماغی سنتولن بگڑ جاتا ہے ،اُس پر غریبی کی مار سو الگ ۔میں انہی خیالوں میں کھویا جب ایک نکڑکی کو ٹھری کے سامنے سے گذر رہا تھا تو میرے کانوں میں نہایت شائستہ الفاظ میں سلام کے الفاظ گونجے۔میں نے نظریں آواز کی جانب اٹھائیں تو میری بائیں طرف والی کو ٹھری کے مکین کو میں نے دروازے کی سلاخیں تھامے دیکھا جو میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے قریب آنے کو کہا ۔میں دروازے سے ہٹ کر کھڑا ہوگیا تووہ نہایت شستہ انگریزی زبان میں مجھ سے کہنے لگا ۔
’’جناب! آپ ڈریئے مت ،میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا ۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ صحافی ہیں۔یہاں اکثر لوگ کبھی محض تماشہ بین اور کبھی خیراتی اداروں سے وابستہ لوگ آتے رہتے ہیں مگر میری بات وہ سنتے نہیں ہیں ۔کوئی سنتا بھی ہے تو پاگل کی بکواس سمجھ کر ہنسی میں ٹال دیتا ہے ۔کیا آپ میری بات توجہ کے ساتھ سننا پسند کریں گے ۔میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا ۔اگر بڑے ڈاکٹر کا کوئی گرگا اسی دوران آگیا تو میرے ہاتھ سے یہ موقع بھی نکل جائے گا ۔جب آپ میری بات سنیں گے ،مجھے یقین ہے کہ آپ میری مدد ضرور کریں گے مگر اپنی بات بتانے سے قبل یہ گزارش ضرور کروں گا کہ آپ بھی میری باتوں کو پاگل کی بڑ نہ کہئے گا ۔‘‘
میں نے اُس کو یقین دلایا کہ کوئی آبھی جائے تب بھی میں اُس کی بات ضرور سنوں گا ، وہ بلا روک ٹوک بتائے جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے ۔
تشفی کے دوبول سنتے ہی اُس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے موٹے موٹے قطرے بہنے لگے ۔میں نے پیار سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا ۔وہ کہنے لگا ۔۔۔’’آپ مجھے دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے پاس لے جاکر یا مشین پر بٹھاکر میری جانچ کروایئے،میں بھلا چنگا ہوں ،میں پاگل نہیں ہوں بلکہ مجھے پاگل بنایاگیا ہے ۔میں پڑھا لکھا ہوں ،صاحب ِ ثروت ہوں ،دنیا کے کسی بھی موضوع پر تبادلہ ٔ خیال کرسکتا ہوں ،میرا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے ۔ آپ مجھ سے کوئی بھی سوال کرکے اپنی تشفی کرسکتے ہیں۔میں ایک سازش کے تحت یہاں لایا گیا ہوں۔‘‘
’’مجھے بھی آپ ہر لحاظ سے تندرست لگتے ہیں پھر یہاں آنے کی کیا وجہ بنی اور کون آپ کو یہاں لایا؟ ۔‘‘میں نے پوچھا’’دراصل ہماری آبائی دولت ،زمین جائیداد کے دو حصے ہونے تھے ،چونکہ میں اپنے باپ کی واحد اولا ہوں ،مجھے ایک حصہ ملتا تھا اور میرے چار چچیرے بھائیوں کو دوسرا حصہ ملتا تھا ۔میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے ،حتیٰ کہ میں ابھی غیر شادی شدہ ہوں ،اس لئے قتل کرنے کے بجائے اُنہیں یہ طریقہ آسان لگا اور وہ مجھے یہاں سچ مچ کا پاگل بناکر گھٹ گھٹ کر مارنا چاہتے ہیں تاکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،اور وہ میری جائیداد آرام سے ہڑپ کرسکیں ،میرے چچیرے بھائیوں نے ڈاکٹر کے ساتھ ساز باز کی ہوئی ہے ،اس لئے میری بات کو کوئی اعتبار نہیں کرتا ۔مجھے اکثر بے ہوشی کے انجکشن دئے جاتے ہیں۔‘‘
اُس نے اور بھی کئی باتیں بتائیں جو مجھے حرف بہ حرف سچ لگیں ۔مجھے اُس میں یا اُس کی باتوں میں ذرا سا بھی پاگل پن نہیں لگا ۔میں نے دل ہی دل میں اُس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اُس کو بھی یقین دلایا۔دولت ،زمین جائیداد یا صاحبِ ثروت ہونا بُرا نہیں ہے، البتہ بُری وہ لالچ ہے جس میں لوگ اندھے ہوجاتے ہیں اور اندھیروں کی باتیں سوچتے ہیں۔میں نے اس بارے میں کیا کیا، وہ ایک لمبی داستان ہے ،مختصر یہ کہ وہ جوڈیشل پولیس کی حفاظت میں باعزت پاگل خانے سے خارج کیا گیا ۔ڈاکٹر اور اُس کے چچیرے بھائیوں پر حد لگتی تھی مگر اُس بھلے مانس نے سب کو معاف کیا ۔اُس نے اپنی زمین جائیداد اونے پونے فروخت کرکے ایک دوسرے شہر میں اپنے رہنے کا انتظام کیا ۔وہ بال بچوں والا ہوگیا ہے ۔آج ہم دونوں گہرے دوست ہیں ،وہ میری دوستی سے زیادہ میرا احسان مانتا ہے ۔میری خوشی اُس وقت دوبالا ہوجاتی ہے ،جب میں سوچتا ہوںکہ میں نے ایک بھلے مانس کو بے گناہی میں گھٹ گھٹ کر مرنے اور اپنی وراثت سے ہاتھ دھونے سے بچالیا    ؎   
  خوشبو نکل کے آتی ہے مٹی کی کوکھ سے 
کھلتے نہیں ہیں پھول کبھی آسمان پر  
پرویز مانوسؔ
……………………
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر-190001،کشمیر،
  موبائل نمبر:-9419475995 
