خرافات کے دلدل میں دھنستا ہمارا نوجوان

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے آگے آسماں اور بھی ہیں
کسی ملک کے پاس بھلے ہی کتنے وسائل و ذخائر کیوں نہ ہوں لیکن قابل ،ذہین اور ہونہار نوجوانوں کو ہی کسی بھی ملک کا بہترین وسیلہ اور سرمایہ گردانہ جاتا ہے کیونکہ ملک کے نوجوان اگر قابل، ذہین اور اچھے ہونگے تب ہی وہ ملک میں موجود وسائل اور ذخائر کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں بصورت دیگر ان وسائل سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ باپ کے پاس بھلے ہی کتنی دولت ہو لیکن وہ اپنے نیک اور باکردار بچوں کو ہی اپنا سب سے بڑا سرمایہ مانتا ہے۔ نوجوانوں کو اگر ملک میں موجود وسائل کی چابی کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ نوجوان قوم کی لاٹھی اور سہارا ہوتے ہیں جن کی بدولت کوئی قوم کھڑی ہوتی ہے۔ قوم لڑکھڑاتی ہے تو نوجوان اس قوم کو سہارا دیتے ہیں لیکن خدانخواستہ اس نوجوان قوم میں کوئی خرابی یا کوئی بری لت پیدا ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قوم میں دیمک پیدا ہوگئی جو اس قوم کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا بنا دے گی اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ اگر بچوں سے غلطی ہو جائے تو بچپنا سمجھ کر ان کی غلطی معاف کی جا سکتی ہے، اگر کسی بزرگ سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو عمر کا لحاظ کرتے ہوئے نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اگر غلطی قوم کے نوجوان سے سر زد ہو جائے اور بار بار ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ قوم کی تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور قوم تباہی کی جانب گامزن ہے۔
موجودہ دور کے نوجوان پر رونا آتا ہے کہ یہ نوجوان نسل روز بہ روز مختلف جرائم میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل شراب نوشی، چرس، گانجا، افیون جیسی منشیات کی لت میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوان مردہ ضمیر ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر وہ نوجوان کہاں کھو گیا جسے اقبال نے شاہین کہا تھا؟ وہ نوجوان کہاں کھو گیا جس کا ضمیر زندہ تھا اور جو حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہوتا تھا؟ نوجوانوں کا احساس ذمہ داری کہاں گیا؟ کہاں کھو گیا وہ نوجوان جو بڑھاپے میں اپنے والدین اور بزرگوں کا سہارا ہوتا تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ نوجوان ایک ایسا مواد ہوتا ہے جس سے سماج کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر یہ مواد ہی ناقص اور کمزور ہو گا تو یقیناپورا معاشرہ ناقص ہو گا۔نوجوانوں کا منشیات سے پاک ہونا اچھے سماج کی نشانی ہے۔ نوجوانوں کا با کردار، با اخلاق اور با ضمیر ہونا نہایت ضروری ہے لیکن آج کل کا نوجوان بد کردار بنتا جا رہا ہے۔ قوم کا جو نوجوان عزتوں کی حفاظت کرتا تھا آج وہی نوجوان عزتوں کو تار تار کرتا ہے۔ کل تک جو نوجوان برائیوں کے خلاف صف آراء تھا آج قوم کا وہی نوجوان مختلف قسم کی برائیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ آئے دن ذرائع ابلاغ سے پتہ چلتا ہے کہ فلاں جگہ پر فلاں نوجوان کو منشیات کے کاروبار میں ملوث پایا گیا ۔اتنا ہی نہیں موجودہ نوجوان جنسی زیادتیوں میں ملوث پایا جاتا ہے۔آئے روز ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ اس سے بڑی اس قوم کے لئے شرم کی بات کیا ہو سکتی ہے ۔کل تک اولیاؤں کی سر زمین کہلائی جانے والی اس وادی ٔکشمیر میں جنسی زیادتی کے بارے میں سنتے تھے تو لوگ استغفار کرتے تھے ،آج اس قوم کی بچی اسی قوم کے نوجوان سے خوفزدہ ہے۔ کل تک اولیاؤں کی اس سر زمین پر منشیات کا نام لینا بھی جرم عظیم مانا جاتا تھا، آج یہی قوم منشیات کا شکار ہو چکی ہے۔
نوجوان سے یہ توقع تھی کہ قوم کی بیٹی اگر کہیں سے گزرے تو کسی نوجوان کو دیکھ کر اس کا سر فخر سے اونچا ہو کہ اسکا محافظ آگیا لیکن آجکل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔آج اگر قوم کی بیٹی کہیں سے گزرتی ہے تو نوجوان کو دیکھ کر اسے اپنی عزت کی پرواہ ہوتی ہے اور اس کا جسم کانپ جاتا ہے۔ 
 نوجوان اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جائے گا تو بہترین سماج کی تشکیل کیسے کی جا سکتی ہے۔ قوم کے نوجوان اگر باکردار، باحیا ،اور با صلاحیت ہونگے تو ایک صحت مند معاشرے کی امید کی جا سکتی ہے۔ آخر نوجوان کیوں کر بگڑ گیا ہے۔ یہ سب والدین اور اساتذہ کی غلط تربیت کا نتیجہ ہے۔ والدین جہاں بچوں کی مروجہ تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہاں اگر بچپن سے ان کی اخلاقی تعلیم پر بھی توجہ دیتے تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا۔ یہی حال آجکل کے اساتذہ کا بھی ہے۔ اساتذہ کرام جہاں کلاس میں چالیس منٹ مختلف مضامین کی تعلیم دیتے ہیں، وہاں اگر صرف پانچ منٹ نکال کر اخلاقیات پر صرف کرتے تو ہمارے سماج کی نوعیت کچھ اور ہوتی کیونکہ سماج آسماں سے بن کر نہیں آتا ہے بلکہ سماج کی شروعات اسکولوں سے ہوتی ہے۔ بقولِ شاعر
نئی دنیا بنانے نئے عنصر نہیں آتے
یہی مٹی بدلتی ہے یہی ذرے ابھرتے ہیں
نوجوان نسل اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار کر رہی ہے اور مغرب کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ اپنا رہن سہن اور اپنا پہناوا مغرب جیسا بنانے کی کوشش کرتی ہے اور اس پر ناز کرتی ہے لیکن نوجوان یہ بھول گیا ہے کہ مغرب سے سورج طلوع نہیں بلکہ غروب ہوتا ہے۔ مغرب کا طرزِ عمل کمال کی نہیں بلکہ زوالِ کی نشانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نوجوان اپنے اقدار سے روز بہ روز دور ہوتا جا رہا ہے ۔آج کا نوجوان والدین کے ساتھ وقت گزارنے اور کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کا عادی ہو گیا۔ آجکل کے نوجوان کو شاید خبر ہی نہیں کہ اگر انٹرنیٹ کے استعمال میں ذرا سی بھی چوک ہوئی تو انٹرنیٹ ہمارے لیے خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ انٹرنیٹ اگر اپنی دشمنی پر اتر آئے تو نہ صرف نوجوانوں کو بلکہ نسلوں تک کو برباد کر کے رکھ دے گا جبکہ کتابیں ہر صورت میں بہترین دوست ثابت ہوتی ہیں اور کبھی نقصان نہیں پہنچاتی ،الٹا ہمیں علم کے خزانے سے روشناس کراتی ہیں ۔
میں قوم کے نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ چلو آج عہد کر لیں کہ منشیات کے قریب نہیں جائیں گے نہ کسی کو جانے دیں گے۔چلو آج سے خود کو با حیا اور باکردار بنانے کی کوشش کریں گے ۔والدین اور بزرگوں کا احترام کریں گے۔ کتابوں کو اپنا دوست بنائیں گے اور خود کو اسلامی تعلیمات پر گامزن کریں گے۔ نوجوان چاہیں تو نہ صرف خود کو بلکہ پورے معاشرے کو بدل ڈالیں گے۔ قوم کے نوجوان اگر ان باتوں پر عمل پیرا ہو جائیں گے تو ہمیں بہترین سماج کی تشکیل سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
سبھی نوجوانوں کے بارے میں ہر گز ایسا نہیں کہا جا سکتا ہے وہ برائیوں میں مبتلا ہیں ۔اس قوم میں باحیا، باکردار، با اخلاق اور فرمانبردار نوجوان الحمدللہ موجود ہیں جن پر پوری قوم کو ناز ہے اور جو اس قوم کا اصل سرمایہ ہیں اور جن کی آنکھیں سڑک پر چلتے ہوئے جھکی رہتی ہیں۔اللہ کرے کہ اس قوم کے نوجوان پھر ایک بار حیا کا دامن تھام لیں تاکہ ہمارے معاشرے میں پھر ایک بار امن و سکوں اور خوش حالی کی بحالی ممکن ہو اور علامہ اقبال کا شاہین پھر سے بیدار ہو جائے اور اس قوم میں پھر سے بہار آجائے۔
پتہ۔اویل نورآباد
فون نمبر۔7006738436