خراب ہوا کا معیار فالج کے خطرے کو بڑھاتا ہے:ڈاک

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر//فالج کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر (ڈ ا ک) نے اتوار کو کہا کہ فضائی آلودگی سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ڈاک صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ ’خراب ہوا کا معیار آپ کے فالج کے امکانات کو بڑھاتا ہے‘۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ نیورولوجی جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کے لیے صرف 5 دن کی مختصر نمائش سے انسان میں فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ لیکن نئے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں تک کہ مختصر مدت کی نمائش زیادہ خطرے کا باعث بنتی ہے۔اس تحقیق میں اسکیمک اسٹروک کے 18 ملین سے زیادہ کیسز کا تجزیہ کیا گیا جو دماغ میں خون کی نالی کو بلاک کرنے والے خون جمنے کی وجہ سے فالج کی سب سے عام قسم ہے۔محققین نے مختلف آلودگیوں اور ذرات کے مختلف سائز کو دیکھا۔ڈاک صدر نے کہا کہ’فضائی آلودگی کی اعلی سطح بھی فالج سے موت کے زیادہ خطرے سے منسلک ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چند سالوں سے گاڑیوں، تعمیرات، اینٹوں بھٹوں، سیمنٹ اور دیگر کارخانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہوا کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے جو آلودگی کا اخراج کرتے ہیں اور ہوا کو نمایاں طور پر آلودہ کرتے ہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ وادی کشمیر میں کئی سالوں سے فالج کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ صرف بوڑھے ہی نہیں، ہم نوجوانوں میں فالج کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ہائی کولیسٹرول فالج کے لیے اہم خطرے والے عوامل بنے ہوئے ہیں، کشمیر میں بہت سے لوگ ان میں سے کسی بھی خطرے کے عوامل کے ساتھ فالج کے ساتھ ہسپتالوں میں آتے ہیں اور فضائی آلودگی ایک عنصر ہو سکتی ہے‘‘۔