خدا ئیتِ نفس کاا نکار!

اﷲ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں تو قع ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘(البقرہ۲:۱۸۳)روزہ ہم سے قبل بھی باقی ا ُ متوں پر فرض کئے گئے تھے لہذا یہ کوئی بوجھ صرف اس اُمتِ محمدیہ ؐ پر ہی نہیں ڈالا گیا ہے کہ اس سے حکمِ الٰہی سے روگردانی کی جائے ۔ روزہ تعمیل ارشاد الہی میںتزکیہ نفس، تربیت جسم دونوں کا ایک بہترین دستور العمل ہے، اشخاص کو انفرادی اور امت کے اجتمائی ہر دو نقطئہ نظر سے روزے کی اصل غرض غایت تقویٰ کی نیو ڈالنا اور امت کو فرداًفرداً متقی بنانا ہے۔ تقویٰ ایک مستقل کیفیت کا نام ہے، جس طرح مضرغذائوں سے احتیاط رکھنے سے جسمانی صحت درست ہو جاتی ہے اسی طرح اس عالم میں تقویٰ اختیار کر لینے سے عالم أخرت کی لذتوں اور نعمتوںسے لطف اٹھانے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح پیدا ہوکر رہتی ہے۔ اسلام سب سے پہلے نفس انسانی کی اصلاح و تربیت کو اپنے سامنے اولین ہدف بناتا ہوا اس کی گہرائیوں میں اسلامی تعلیمات کی تخم ریزی کرتا ہے تاکہ نفس اور تربیت ایک دوسرے کا لازمہ بن جائیں۔ تمام انبیاء کرام ؑ کی تعلیمات اہل ِایمان کے گروہ کے گرد ’’نفس ا نسان‘ ‘کے تمام کاموں کا موضوع اور ان کی جملہ سرگرمیوں کا محور تھا۔ تمام الہامی مذاہب کی یہ فطرت رہی کہ انہوں نے اپنے تمام اصلاحی پروگراموں کا دارومدار نفس صالح پر رکھا اور مضبوط و مستحکم اخلاق کو ہی ہر تہذیب کے لیے دائمی ضمانت تصور کیا۔ شریف و پاکیزہ نفس ماحول کے شگافوں کی پیوند کاری اور فوگری کا فریضہ انجام دے گا۔ تصرف و استعمال میں باقاعدگی اور حسن، اور نظم حکومت کو جملہ برائیوں سے دور کرنے کی کوشش کو اپنی ذمہ داری تصور کرے گا۔اگر نفوس کی اصلاح پر توجہ نہ ہوگی تو یہ دنیا ظلمتوں اور تاریکیوں کی آماج گاہ بن جائے گی، انسانوں کے حال و مستقبل پر فتنوں کی حکمرانی ہوگی، طاقت ور کمزوروں کو دبائے گے۔ اسی وجہ سے نفس کی اصلاح، اس زندگی میں خیر کے غلبہ کا پہلا بنیادی ستون ہے۔ اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ یہ انسان کی پوری مدد کرتا ہے تاکہ وہ اپنی فطرت کو مضبوط و مستحکم بناسکے، اس کی شعاعوں کو اور تابناک و ضیاء بار بناسکے اور اس کی ہدایت و رہنمائی میں زندگی کا یہ طویل سفر طے کرسکے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’اور نفس انسانی اور اس کی ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا، پھر اس کی بدی کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی، یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا‘‘۔ (الشمس: ۷۔۱۰)  دوسری جگہ تزکیہ نفس کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا گیا کہ اصل میں کامیاب و کامران وہی شخص ہوگیا جو خبائثِ عقائد سے پاک ہوگیا۔ ارشاد فرمایا:ــــ’’فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کیـ۔‘‘ (الاعلیٰ:۱۴)غزالہ ابن عبیدؓ  سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کریں۔(مسند احمد۔۲۳۴۴۵)
یہی جہاد تمام قسم کے جہاد کی بنیاد بھی ہے کیوںکہ جو شخص اپنے اندر کے دشمن سے لڑنا جانتا ہو وہی میدان میں بھی تمام قسم کے سامان سے لیس بیرونی دشمن سے لڑسکتا ہے۔ قرآن کریم کے مطابق جہاد النفس کرنے والے کا ٹھکانہ جنت ہے ارشاد فرمایا گیا ہے:’اور نفس کو(حرام) خواہش سے روکنے والے کے لئے جنت اس کا ٹھکا نہ ہو گا ۔‘ (النازعات:۴۰)عمرابن عبد العزیزؒ کے نزدیک بھی سب سے بڑا اور بہترین جہاد ’جہادالقلب‘ ہی ہے حتٰی کہ آپؒ نے دشمنانِ اسلام کے خلاف کئیں محاز لڑے۔ ایک بار حسن البصریؒ سے پوچھا گیا کہ اے ابو سعد ! کونسا جہاد بہتر ہے؟ حسن البصریؒ نے جواباً فرمایا:’’تمہارا جہاد تمہاری شہوات کے خلاف ‘‘ (روضۃ المہبین:۴۷۸؍۱)۔حق کی معرفت اور اس کا دامن تھام لینا، اس کے مطالبات اور تقاضوں کی تکمیل یہی فضیلت و شرافت سے شیفتگی کہلاتی ہے اور آدمی کے انفرادی و اجتماعی برتائو میں ان دونوں خوبیوں کی رعایت ہی کمالِ حقیقی ہے او رزندگی کے تمام شعبوں میں ان کو غالب کرنے کی جدوجہد ہی حقیقی ساخت ہے۔ لیکن انسانوں کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو اپنی ہوائے نفس کی وجہ سے اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچ پاتی۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ جاتی ہے۔ اس طرح وہ نہایت پست منزلت میں گرجاتی ہے جس کو قرآن کریم نے ’’اسفل السافلین‘‘ یعنی نیچوں کے نیچے کہا ہے۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ ایسے انسانوں کو لوٹا دیتا ہے۔ نبی کریمؐ نے اس طرح کی بعض طبیعتوں کی طرف اشارہ کیا ہے فرمایا: ’’ابن آدم پیری کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور اس کی دو خصلتیں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتیں ،ایک تو حرص ہے دوسری امیدوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ‘‘۔ (مسلم)
 ایک اور حدیث میں یوں ارشاد فرمایا کہ: ’’اگر آدم کے بیٹے کو سونے کی ایک وادی دے دی جائے تو دوسری وادی کی خواہش کرنے لگے گا اور اگر دوسری وادی بھی عنایت کردی جائے تو تیسری کے لیے رال ٹپکائے گا۔ آدم کے بیٹے کا پیٹ نہیں بھرے گا مگر مٹی میں پہونچ کر اور جو اللہ کی طرف لوٹتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے‘‘۔ (بخاری)کون ہے جو اپنی بہترین ساخت پر قائم رہتا ہے اور دنیاوی رذالتوں سے اپنا دامن بچائے رہتا ہے۔ا س کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں واضح فرمایا ’’سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے‘‘۔ (التین:۳)
تقویٰ کے بارے میں حضرت شیخ سید عبدالقادرجیلانیؒ اپنی شہرہ آفاق میں یوں فرماتے ہیں:ـ’’صاحبو! روزے دار بن کر دن بھر بھوکا اور پیاسا رہنا اور رات کو حرام پر افطار کرنا تم کو کیا کار آمد ہوگا۔ دن کو تم روزے رکھتے ہو اور رات کو معصیتیں کرتے ہو۔ اے حرام خورو! تم دن میں تو اپنے نفسوں کو پانی پینے سے روکتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلمانوں کے خون سے افطار کرتے ہو۔ صاحب زادے! روزہ رکھ اور جب افطار کرے تو اپنی افطار میں سے کچھ فقرا ء کو بھی دیا کر، تنہا مت کھا۔‘‘(الفتح الربانی ،ص :۱۱۱) اے مسلمان! زرا غور فرما کہ آپؒ نے حلال کمائی حاصل کرنے پر کتنا زور دیا ہے۔ کیا ہم حلال طریقے سے کمانے پر اکتفا کرتے ہیں؟ تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میںلوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ رشوت لے کر مسلمانوں کا خون پیا جا رہا ہے، معصوموں کی جان لے کر، اُن کی بینائی کو چھین کر، اُن کے خون کی ندیاں بہا کر حکومت کی اعلیٰ کرسی کو گرنے نہیں دیا جاتا۔ کیا یہ مسلمان کے خون سے افطار کرنے کے مترادف نہیں؟۔ ہمیںسمندر کی ایک چھوٹی سی لہر پہ اتنا یقین ہے کہ یہ کروڈوں انسانوں کے خارج شدہ گندگی کو ایک سیکنڈ میں صاف کرنے کی طاقت رکھتی ہے مگر اﷲ تعالیٰ کی شان عظیمی کی طاقت کا اندازہ نہیں ، نہ اس کے کن فیکون ہونے کاہے۔اللہ رب العزت چاہیے تو کسی بھی انسان کے گناہوں کے انبار کودھو ڈالے، پہاڑ کے مانند کئے گئے گناہوں کو ہموار ذمین کردے۔ بس اُس کی شانِ رحیمی کو بندہ کا کوئی بھی کام پسند آجائے تو زندگی بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
 عالم ربانی شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف الفتح الربانی میںنفس کی صیح پہچان کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:ـ’’تجھ پر افسوس!جب یہ حریص کتا حیوان ہو کر شکاری کی تعلیم سے شکار کا اپنے مالک کے لئے محفوظ رکھنا سیکھ لیتا ہے اور اپنی حرص اور اپنی طبیعت کو ترک کر دیتا ہے اور یہ عقاب و باز وغیرہ پرند بھی تعلیم کی بدولت اپنی طبیعت کی مخالفت کرنے لگتا ہے اور ان شکار کئے ہوئے جانوروں کے کھا لینے کی عادت بدل ڈالتا ہے جن کو وہ اپنے نفس کے لئے شکار کرتا تھا۔ تو تیرا نفس انسان بن کر تعلیم کا زیادہ مستحق ہے کہ اپنی خوئے بد چھوڑ کر اپنے اعمال کو اپنے آقا کی نذر گزارنے کی اس کو تعلیم دے اور سمجھائے تاکہ وہ تیرا دین نہ کھائے، تجھ کو پارہ پارہ نہ کرے اور حق تعالیٰ کی ان امانتوں میں خیانت نہ کرے جو اس کی نگرانی میں دی گئی ہیں۔مومن کے نزدیک اس کا دین گویا اس کا خون اور گوشت ہے۔‘‘( الفتح الربانی، ص ۱۵۳تا ۱۵۴)نفس اور شیطان انسان کے دو بڑے دشمن ہے۔ان دونوں سے بچنے کی مکمل کوشش کرنی چاہئے جس نے ان دو دشمنوں سے بچا کر رکھا اس کو ہر قسم کی راحتیں دنیا اور آخرت میں نصیب ہوں گی۔اتباع ِنفس و خواہش ہی انسان کو اﷲسے دور کرتی ہے۔ سرور دوعالم ﷺ نے قیامت کی علامات میں سے شہوات کا اتباع اور خواہش نفس کی طرف میلان جیسے دو اہم خرافات کا پایا جانا بھی فرمایا ہے۔ نفس کو بے لگام چھوڈ دینا حیوانوں کا کام ہے انسانوں کا کام نہیں۔ 
رمضان کا مہینہ تو اسی فلسفے سے بھرا  پڑا ہے۔ روذوں کے دوران ہم صبح صادق سے لے کر غروب آٖفتاب تک کھانا و پینا ہی نہیں چھوڈ تے بلکہ نفسانی خواہش، بے ہودہ باتوں،برے خیالات،بری سماعت اور بد نگاہی سے بھی بچنے کی بے حدکوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور افطار کے موقع پر حلال کمائی سے خریدی گئی شئے ہی تناول کرتے ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کا مہینہ تزکیہ نفس حاصل کرنے کا ایک بہترین تربیتی کورس ہے جس کو آگے انسان کو باقی ۳۲۵دنوں یعنی گیارہ مہینوں کو اپنانے جانا ہے۔انسان کی پاکیزہ فطرت اور اس کی تقویت و استحکام کے سلسلے میں اسلام کا موقف سامنے آچکا ہے۔ اسلام شریر طبیعتوں کو متنبہ کرتا ہے۔ اُن کی بھاگ ڈور عقلِ سلیم کے حوالے کرتا ہے اور پاکیزہ فطرت کے سامنے اسے جھکنے اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اسی طرح اس مقصد کے لیے بھی انسان کو تیار کرتا ہے کہ گناہ کی چالوں اور شیطان کے وسوسوں سے نجات پاسکے کیونکہ یہ انسان کو بہکاتی رہتی ہیں۔ ایسے اس کی منزل سے بھٹکادیتی اور اس کے بلند مرتبے سے گرادیتی ہیں۔ الحاد کے بجائے ایمان پیدا کرنا، فسق و فجور کی جگہ تقویٰ و خداترسی کی روش اپنانا، خدا کے سلسلے میں پراگندہ فکری کے بجائے دینداروں کی وحدتِ فکر و عمل، یہ وہ مظاہر ہیں جو یہ بتلاتے ہیں کہ انسان اپنی فطرت سلیم پر باقی ہے۔ قرآن کریم نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے:’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے‘‘۔ (التین: ۴تا۶)
ایسی فطرت کے انسانوں کو الٹا پھیر کر نیچے کر دینا خدائی قانون ہدایت و گمراہی کے ماتحت ہے اور یہ قوانین سچے اور مبنی برحق و عدل ہیں۔ قرآن کریم اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے:  اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف نہ بتادے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے‘‘۔ (التوبہ: ۱۱۵)
اسلام جس چیز کی طرف سب سے پہلے انسان کو متوجہ کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کے ساتھ دوڑنا اور اس کی نہ ختم ہونے والی خواہشات کی پیروی، کبھی نفس کو مطمئن اور شکم سیر نہیں کرسکتی، اسے حق و راہ راست کبھی گوارا نہ ہوگا۔ نفس ہمیشہ چرنے چکنے اور حرص جوع البقر میں مبتلا رہتا ہے۔ اس لیے قرآن نے حرام کردہ خواہشات کی اتباع سے روک دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکادے گی‘‘۔ (القصص:۲۶)
دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا کہ ’’لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس، عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنادی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانہ ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے‘‘۔ (آلِ عمران:۱۴)
جب نفس کے اندر رذائل پرورش پاگئے اور ان کا نقصان ظاہر ہوگیا اور خطرہ بڑھ گیا تو آدمی اپنے دین سے ایسے ہی نکل گیا جیسے کوئی ننگا کپڑے کے حدود سے نکل جاتا ہے۔ اسی لے نفس کو دنیوی غلاظتوں سے پاک کرنا، شریف و پاکیزہ معیار تک لانا زکوٰۃ کی اولین حکمت ہے جس کی بنیاد پر نبی کریمﷺ نے اس صدقہ کو وسیع معنوں میں لیا ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے قلب کو ایمان کے لیے خالص کرلیا، اپنے دل کو سلیم الطبع رکھا۔ اس کی زبان سچی رہی۔ اس کا نفس مطمئن رہا اور اس کی فطرت راہِ راست پر رہی‘‘۔ (ابن حبان)یہ بات ضروری ہے کہ نفس کی حرام کردہ خواہشات اور اس کے منقول مطالبات کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جائے۔ قرآن کریم نے اس پہلو پر خصوصی توجہ دی اور بڑی صراحت کے ساتھ نفس کی پاکیزہ خواہشات اور جائز مرغوبات کو مباح قرار دیا اور اسے حلال و طیب چیزوں کے استعمال کا موقع دیا اور اس قابلِ احترام و جائز دائرے میں نفس پر پابندی، حرمت اور تنگی کی مداخلت کو سوء اور فحشاء کے ہم مثل قرار دیا اس لیے کہ ایسے بدکاری و فحش عملی کا دروازہ کھلتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھائو اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں‘‘۔ (البقرہ: ۱۲۸۔۱۲۹)اسلام کو یہ ناپسند ہے کہ اس طرح کی طبیعتوں اور خصلتوں کو سختی اور سزا سے دبادیا جائے ۔یہ دین ان کے لیے معتدل طریقہ کار اختیار کرتا ہے جو افراط و تفریط سے پاک ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام فطرت انسانی کا احترام کرتا اور اپنی تعلیمات کو اس کی آواز قرار دیتا ہے اور ان کے نقطۂ نظر کی اصلاح کرتا ہے اور ہوائے نفس کو صحیح رُخ پر موڑ دیتا ہیں۔ لہذا انسان کو نفسِ مطمئنہ جس کے اندر صاف و پاک زندہ دل ہو کو اختیار کرنا چاہئے نہ کہ نفس ا مارہ یا نفس لوامہ کو جو ہر وقت بندہ پر حاوی ہو کر اُس سے مختلف رنگوں، قلیل لذتوں اور زہریلی چیزوں کی طرف راغب کرتی رہتی ہیں۔ نفس مطمئنہ میں موجود دل ان تمام نفسانی خواہشات سے صاف ہوگا جن سے اﷲ اور اس کا رسولؐ ناراض ہوں۔ ایسے نفس پر شیطان کا کوئی اثر نہیں ہوتا ،کیوںکہ یہ نفس اپنے مالک حقیقی کا نافرمان نہیں ہوتاہے، حقیقت یہی ہے کہـ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ہے۔ اﷲ ہم سب مسلمانوں کو ہمیشہ نفس مطمئنہ پر قائم رکھے اور ماہ رمضان کی تمام برکات سے ٖفیضیاب فرمائے۔آمین
……………………
رابطہ :ہاری پاری گام ترال کشمیر (9858109109)  
