خبریں

شوکت کاظمی کا زمینی ریکارڈ کی تجدید پر زور

نیوز ڈیسک
 
پونچھ //ریجنل ڈائریکٹر سروے و لینڈ ریکارڈ س پیر پنچال شوکت حسین کاظمی نے محکمہ مال کے افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کرکے ان پر زمینی ریکارڈ کی تجدید کاری پر زور دیاہے ۔ اس دوران تحصیل دفتر حویلی پونچھ کے زمینی ریکارڈ کی ماڈرنائزیشن کا جائزہ لیاگیا۔اس موقعہ پر تحصیلدار حویلی جہانگیر خان نے محکمہ مال سے جڑے دستاویزات کی سکیننگ اور معیار کے بار ے میں تفصیل سے بتایا۔انہوںنے کہاکہ پہلے مرحلے میں 85گائوں کو ہاتھ میں لیاگیاہے اوران گائوں کے زمینی دستاویزات کو سکین کیاجارہاہے ۔میٹنگ میں بتایاگیاکہ اب تک تحصیل حویلی اور منڈی میں محکمہ مال کے دستاویزات پرمبنی369789صفحات سکین کئے جاچکے ہیں ۔ریجنل ڈائریکٹر نے افسران اور RAMٹیک کمپنی پر زور دیاکہ آپسی تال میل سے کام کیاجائے اور اس پروجیکٹ کو جلد سے جلد کامیابی سے ہمکنارکیاجائے ۔انہوںنے معیاری کام کرنے پر زور دیا۔ 
 

حکومت کا نریگا ملازمین کے تئیں رویہ افسوسناک :جان 

نیوز ڈیسک
 
پونچھ //نریگا ملازمین کے تئیں اپنائے گئے حکومتی رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس لیڈر اعجاز جان نے کہاکہ یہ ملازمین کئی عرصہ سے اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومت نے چپ سادھ رکھی ہے ۔اپنے ایک بیان میں اعجاز جان نے کہاکہ نریگا ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے کام بری طرح سے متاثر ہواہے اور ان کے جائز مطالبات سننے کو بھی کوئی تیار نہیں ۔انہوںنے کہاکہ وہ اس احتجاج کا ذمہ دار نریگا ملازمین کو نہیں ٹھہراسکتے بلکہ اس کی ذمہ دار حکومت کی عوام کش پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ محکمہ کے وزیر نے ان ورکروں کے پہلے احتجاج کے دوران یہ وعدہ کیاتھاکہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیںگے اور جاب پالیسی وضع کی جائے گی لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ وزیر کی یقین دہانیوںپر بھی عمل نہیںہوا اور ملازمین ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔این سی صوبائی صدر نے کہاکہ حکومت نریگا ملازمین کے حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کرے اور ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے ۔ انہوںنے کہاکہ ان ملازمین نے اپنا قیمتی وقت محکمہ کی خدمات میں گزارد یاہے اس لئے ان کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔
 

عارضی ملازمین کی باقاعدگی 

آل جموں و کشمیر لوپیڈ فیڈریشن نے فیصلہ کا خیر مقدم کیا

جا وید اقبال
 
مینڈھر//مینڈھر میں آل جموں و کشمیر لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کی ایک میٹنگ زیر صدارت محمد رشید مغل منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں ملازمین نے شرکت کی۔ شرکا ء میٹنگ نے بیک زبان حکومت کے ڈیلی ویجرز کو باقاعدہ بنانے کے فیصلے کو سراہا اور اس اعلانیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ مطالبہ سب سے پہلے لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن نے1993 میں حکومت کے سامنے رکھا اور آج تک فیڈریشن بار بار یہ مطالبہ کرتی آرہی ہے ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے رشید مغل نے فیڈریشن کے دیگر مطالبات جن میں ساتویں تنخواہ کمیشن کو2016جنوری سے لاگو کرنا،میڈیکل الائونس بڑھا کر1000روپے کرنا، تنخواہوں میں تفاوت دور کرنا، چوکیداروں کودرجہ چہارم ملازمین کا درجہ دینا، آنگن واڑی ورکرز کی تنخواہیں بروقت واگزار کرنا اور2014میں ترقی دئیے گئے ماسٹرز کی ایڈجسٹمنٹ کرنا وغیرہ شامل ہیں ،کو جلد از جلد عملانے کی اپیل کی۔میٹنگ میں مشتاق خان، نذیر مغل،محمود خان، حاجی نذیر،شریف منہاس، محمد شفیق،حمید بھٹی، عاصف اقبال خان،نذیر کٹاریہ اور ابراہیم چوہدری بھی شامل تھے۔
 
 

پراسرار موت پر پولیس تحقیقات شروع 

راجوری //راجوری میں ایک نوجوان کی پراسرار طور پر موت ہوگئی جس پر پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔پچیس سالہ محمد شکیل ولد محمد صدیق ساکن درہ سمبلا کو ضلع ہسپتال راجوری لایاگیاجہاں اس کی موت ہوگئی ۔ بتایاجاتاہے کہ نوجوان نے کوئی زہریلی شے نگل لی تھی جس کی وجہ سے اس کی حالت بگڑ گئی ۔ اس دوران ہسپتال میں علاج کے دوران ہی اس کی موت ہوئی جس کے بعد اس کی نعش کو قانونی لوازمات پورا کرکے لواحقین کے حوالے کیاگیا۔ اس سلسلے میں پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔
 

گاڑی چلاتے ڈرائیور کی حرکت قلب بند ہونے سے موت 

راجوری //راجوری میں ایک ڈرائیور کی گاڑی چلانے کے دوران حرکت قلب بند ہونے سے موت ہوگئی ۔ یہ واقعہ راجوری کے اگراتی علاقے میںرونماہواہے ۔ٹرک زیر نمبر JK02BK 7972ڈونگی سڑک پر چل رہاتھا تاہم سسلکوٹ پہنچنے پر اس کے ڈرائیور دلیپ سنگھ ولد گیان سنگھ ساکن گودر پوٹھہ کی اچانک حرکت قلب بند ہوگئی جس سے اس کی موت ہوگئی۔اس دوران ڈرائیور ٹرک کو سڑک کنارے پارک کرنے میں کامیاب ہوا تاہم اس کی موت موقعہ پر ہی ہوگئی ۔ بعد میں نعش کو آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپرد کیاگیا۔
 

بخاری نے BGSBUکو خطہ پیر پنچال کی AMUقرار دیا

نیوز ڈیسک
 
ممبئی//نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر و پہاڑی طبقہ کے سرکردہ لیڈر سید مشتاق بخاری نے باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ یونیورسٹی خطہ پیر پنچال کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے ۔ یونیورسٹی کے یوم تاسیس پر اپنے ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی نے بہت کم مدت میں پورے ملک میں اپنانام کمایاہے اور اس کی خطے میں تعلیمی فروغ کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ یونیورسٹی خطہ پیر پنچال کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے اور موجودہ دور میں ایسے ادارے ہر جگہ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔بخاری کاکہناتھاکہ انہیں بھی یوم تاسیس کی تقریب میں شریک ہوناتھاتاہم کسی مجبوری کی وجہ سے وہ ریاست سے باہر ہیں لیکن اس عظیم دن کے موقعہ پر وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوںنے اس ادارے کو صحیح سمت میں گامزن رکھاہے اور یونیورسٹی ایسی خدمات انجام دے رہی ہے جن کی اس پسماندہ اور نظر انداز رہے خطہ کو ضرورت ہے ۔بخاری نے کہاکہ یہ یونیورسٹی خطہ پیر پنچال کیلئے علی گڑھ یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس نے بہت کم مدت میں سماجی و اقتصادی سطح پر نمایاں کام کیاہے ۔
 

میونسپل حکام کیخلاف احتجاج

طارق شال
 
تھنہ منڈی//بے روزگار یونین نے جمعہ کی نماز کے بعد میونسپل کمیٹی حکام کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اور نعرے بازی کی ۔ قاضی قمر جاوید، آفتاب احمد، منظور گنائی،  منظور وانی، ممتاز احمد،راحیل فاروق،اشفاق وانی،جاوید گنائی، جاوید خان پر مشتمل نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی حکام پر الزام عائد کیاکہ انہوںنے تھنہ منڈی میں کیجول لیبرز کی بھرتی میں بڑے پیمانے پربے ضابطگیاں کی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حکام نے آن لائن کرتے وقت کنبہ پروری کی ہے اور بائیو میٹرک حاضری کے دوران ایسے چہرے نمودار ہوئے ہیں جنکو پہلے دیکھا ہی نہیں گیااوراس کے برعکس برسوںسے کام کرنے والوں کو آن لائن فہرستوںسے باہر کردیاگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی کے مختلف وارڈوں میں کام کرنے والے کیجول لیبرز کوجان بوجھ کرلسٹوں میں شامل نہیں کیاگیااور حکام نے کس پیمانہ سے فہرستیں مرتب کی ہیں ،اس بارے میں کوئی خبر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ میونسپل کمیٹی میں تعینات کئے گئے کیجول لیبرز کی کسی آزاد ایجنسی سے تحقیقات کرائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آئے۔ انہوںنے انتباہ دیاکہ اگرتحقیقات نہ کرائی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریںگے ۔
 
 

لوہر لسانہ بھٹاں والی سڑک 

وزیر اعلیٰ شکایتی سیل کی امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت 

سرنکوٹ//وزیر اعلیٰ شکایت ازالہ سیل نے محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر کو ہدایت دی ہے کہ تحصیل سرنکوٹ کی پنچایت لوہر لسانہ میں زیارت شریف پیر ولی میاں مشری ؒ بھٹاں والی تک سڑک کی تعمیر کیلئے زمینی صورتحال کا جائزہ لیاجائے۔ وزیر اعلیٰ شکایتی سیل نے یہ ہدایت ایڈووکیٹ مبین خان کی طرف سے کی گئی شکایت پر جاری کی ۔ شکایت نمبر77749میںمبین خان نے کہاکہ ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں لوہر لسانہ میں باباغلام شاہ بادشاہ شاہدرہ شریفؒ کے استاد ولی پیر میاں مشری ؒ کی زیارت محلہ بھٹاں والی میں موجود ہے، جہاں تک پہنچنے کے لئے کوئی بھی روڈ نہ ہے۔ سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو مین سڑک تک پہنچنے کے لئے 2گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتاہے۔ اگر یہاں کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو اس کو اسپتال پہنچنانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں جس کی حالت انتہائی خراب ہوجاتی ہے۔ یہاں سے سکول ، کالج، اسپتال اور تحصیل صدور مقام تک روزانہ لوگوں کو جانے اور واپس شام کو گھر تک لوٹنے کے لئے صبح سویرے گھر سے نکلنا پڑتاہے اور شام کو واپس پہنچتے ہیں۔ بچے اکثر وقت سے سکول نہیں پہنچ پاتے۔ مبین خان نے وزیر اعلیٰ سے گزارش کی تھی لوگوں کی مشکلات کے ازالہ کے لئے سڑک تعمیر کی جائے۔