خبریں

درہال:بارش کے ساتھ ہی بجلی غائب 

درہال // درہال میں بارش شروع ہونے کے ساتھ ہی بجلی غائب ہوگئی ہے جس پر مقامی لوگوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بجلی کی لاپر واہی کا سلسلہ شروع ہوگےاہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سردیوں کے موسم میں انہیں بجلی کی زیادہ ضرورت رہتی ہے لیکن بدقسمتی سے اسی موسم میں بجلی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اورمتعلقہ حکام کوٹس سے مس نہیں ۔ سرتاج احمد ،ذوالقفار علی اور امجد مرزا نے بتایا کہ پیر کے روز صبح سے ہی بارش کا سلسلہ شروع ہوگےا جس کے ساتھ ہی محکمہ بجلی نے درہال میں بجلی کاٹ دی اور 12گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی سپلائی بحال نہ ہوئی ۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں جب راجوری ایگزیکٹو انجینئرسے بات کرتے ہیں تو یہ کہہ کرٹال دیاجاتاہے کہ بجلی کٹوتی والا ونگ ہی الگ ہے لہٰذا دوسرے ایگزیکٹو انجینئر سے بات کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتاجارہاہے لیکن ان کا سدباب نہیںہورہا۔ جب اس ضمن میں ایگزیکٹوانجینئر سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے اکثر مقامات پر ترسلی لائنوں میں خرابی آگئی تھی جس کی وجہ سے بجلی سپلائی متاثر ہوئی ہے تاہم موسم سازگار ہوتے ہی سپلائی بحال کردی جائے گی ۔
 

سابق تحصیلدار گر کر شدید زخمی 

مینڈھر//جاوید اقبال //مینڈھر سے تعلق رکھنے والے سابق تحصیلدار یار محمد خان عمارت کی سیڑھیوںسے گر کر بری طرح سے زخمی ہوگئے ہیں ۔یار محمد خان بس اڈہ کے قریب اپنے کمپلیکس کی سیڑھیوںسے نیچے گر گئے جس کیوجہ سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے ۔ وہ کافی عرصہ تک وہیں پڑے رہے اور گھروالوںکو بھی ان کے بارے میںکچھ پتہ نہ چلا تاہم جب گھر والوںنے دیکھاکہ وہ واپس نہیں آئے اور کہیں غائب ہیںتو ان کی تلاش شرو ع کی گئی جس دوران انہیں بے ہوش میں پایاگیا ۔ وہاںسے انہیں پولیس کی مدد سے سب ضلع ہسپتال مینڈھر پہنچایاگیاجہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مزید علاج کیلئے ضلع ہسپتال راجوری روانہ کردیا۔ 
 

پونچھ میں لوک عدالت کا اہتمام

حسین محتشم 
پونچھ//ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی پونچھ کی جانب سے ضلع عدالت پونچھ، مینڈھر اور سرنکوٹ میں لوک عدالت کا اہتمام کیاگیاجہاں مختلف قسم کے مقدمات کی سنوائی کیلئے پانچ بنچ تشکیل دیئے گئے ۔ پہلا بنچ ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے صدر و سیشن جج پونچھ زبیر احمد رضا اور صدر بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ تاج حسین شاہ، دوسرابنچ جے ایم محمد اشرف خان اور ایڈووکیٹ راجندر سنگھ کاکا، تیسرا بنچ سب جج احسان سعید اور ضلع موبائل مجسٹریٹ پونچھ وجاہت کاظمی، چوتھابنچ سب جج سرنکوٹ مظفر اقبال خان اور ایڈیشنل موبائل مجسٹریٹ سرفراز نواز قریشی اور پانچواں بنچ جے آئی ایم سی مینڈھر چوہدری ریاض احمد پر مشتمل تھا۔اس دوران سول، سرکاری، زمینی، کاروباری و دیگر مقدمات میں سے کل 953 مقدمے زیر بحث لائے گئے جن میں سے 798کو افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کیاگیاجبکہ 1,08,930روپے جرمانہ وصول ہوا۔
 

ایس ڈی آر ایف کاجانکاری پروگرام

بختیار حسین
سرنکوٹ// ڈاک بنگلہ سرنکوٹ میں ایس ڈی آر ایف پونچھ کی ٹیم نے زیر قیادت ڈی ایس پی کیول شرما ایک جانکاری پروگرام کا کیا اہتمام کیا۔ اس موقعہ پر نائب تحصیلدار وں کے علاوہ چوکیدار ،نمبردار اور معززین نے شرکت کی ۔اس دوران مشکل حالات میں انسانی جانوں کو بچانے کے بارے میں بتایاگیا۔نوجوانوںکو بتایاگیاکہ انہیں ایسے حالات میں پولیس ، فائر سروس کی ہدایت پر چلناہوگا۔انہیں بتایاگیاکہ زلزلے کی صورت میں گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اس پروگرام میںبی ایم او سرنکوٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے ۔
 

نریگا ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال شروع 

پونچھ//حسین محتشم //محکمہ دیہی ترقی میں کام کررہے نریگا ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت تک کیلئے کام چھوڑ ہڑتال شر وع کردی ہے ۔ ملازمین کا الزام ہے کہ محکمہ کے وزیر اور اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیاجارہاہے ۔ملازمین کے جموں صوبہ کے صدر طارق زرہ نے کہاہے کہ ریاست میں کام کررہے 60ہزار ڈیلی ویجر ملازمین کو مستقل کیاجارہاہے جن کا وہ خیر مقدم کرتے ہیںلیکن افسوسناک بات ہے کہ نریگا ملازمین کیلئے کوئی جاب پالیسی ہی وضع نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ افسران ان پرمظالم ڈھا رہے ہیں جبکہ وہ دن رات ایک کرکے کام کرتے ہیں اور انہی کی بدولت آج نریگا میں قیمتی اثاثے تعمیر ہورہے ہیں اور جموں وکشمیر کو ملکی سطح پر اعزاز سے نوازاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ محکمہ نریگا ملازمین کے بغیر لنگڑا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جب تک انکو تحریری طور پر یقین دہانی نہیں ملتی تب تک ہڑتال جاری رہے گی ۔
 
 

مینڈھر میں 15گھنٹوں سے بجلی سپلائی معطل 

جاوید اقبال
 
مینڈھر// سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی مینڈھر اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کا نظام متاثرہونے لگ گیاہے اور سوموار کو پندرہ گھنٹوں تک بجلی نہیں آئی ۔لوگوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مینڈھر میںجب بھی آسمان سے بارش ٹپکتی ہے تو بجلی بند ہو جاتی ہے جبکہ کٹوتی کا بھی کوئی وقت معین نہیں ۔ان کاکہناتھا کہ محکمہ کے آفیسران کو لوگوں سے کرایہ چاہیے لیکن ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ بجلی بھی سپلائی کرنی ہے ۔ان کاکہناتھا کہ گزشتہ دنوں بھی بارش کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہی جبکہ اتوار اور سوموار کی درمیان رات کو معمولی سی بارش ہوئی اور بجلی غائب ہو گئی جسے پندرہ گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی بحال نہیں کیاگیا۔انہوںنے کہا کہ اگر بجلی کی یہی حالت رہی تو لوگ سردیوں کے موسم میںزندگی کیسے گزاریںگے ۔مقامی لوگوں نے سرکار سے اپیل کی کہ ان ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جو لا پرواہی برت رہے ہیں اور بجلی کی سپلائی کو بحال نہیں کیا جا رہا ۔انہوں نے کہا کہ ٓافیسران بھی لا پرواہی سے کام لے رہے ہیں جبکہ انتظامیہ بھی محکمہ بجلی کے آفیسران کو پوچھنے والی نہیں ۔لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ بجلی کی سپلائی کو فوری طور بحال کیا جائے اور ان کو مشکلات میں نہ دھکیلا جائے ۔ان کاکہناہے کہ سردیوں کے دنوں میں بچے پڑھائی کی طرف زیادہ دھیان دیتے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے سے ان کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ محکمہ انہیں احتجاج کیلئے مجبور کررہاہے اور اگر سپلائی میں بہتری نہ آئی تو پھر ایسا ہی کیاجائے گا۔
 
 

شاہ نظام الدین کا سالانہ عرس

محکمہ پی ایچ ای سپلائی فراہم کرنے میں ناکام رہا

سمت بھارگو
 
راجوری //راجوری کے پیڑی علاقے میں شاہ نظام الدین غازی کا سالانہ عرس منعقد ہواجس دوران محکمہ پی ایچ ای پانی کی سپلائی فراہم کرنے میں ناکام رہا جس پر مقامی لوگوں اور عقیدت مندوں نے شدید برہمی کا اظہار کیاہے ۔ایک مقامی شخص نے بتایاکہ عرس ایک بہت بڑی تقریب ہوتی ہے جس میں بڑی تعداد میںلوگ شریک ہوتے ہیں لیکن افسوسناک بات ہے کہ محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے کوئی تعاون نہیں دیاگیا اور پانی سپلائی کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ ان کے علاقے کیلئے بچھائی گئی پانی کی سپلائی تیس سال پرانی ہے جس سے بہت ہی کم لوگوںکو پانی ملتاہے ۔انہوںنے کہاکہ عرس ہو یا کوئی اور تقریب محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کی طر ف سے کوئی تعاون نہیں دیاجاتاجس وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ محکمہ کی لاپرواہی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ عرس کے موقعہ پر بھی سپلائی فراہم کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔سابق سرپنچ کوٹھے دھار منظور شاہ کاکہناہے کہ انہوںنے خود بھی متعلقہ افسران سے رابطہ کیا اور انہیں بتایاکہ عرس کے دوران پانی کی سپلائی فراہم کی جائے لیکن محکمہ اپنی ذمہ داری انجام دینے میں ناکام ہوگیا۔انہوںنے کہاکہ وہ محکمہ سے عام حالات میں پانی کی سپلائی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں جو عرس پربھی پیاسا رکھے ۔انہوںنے علاقے میں تعینات پی ایچ ای ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی ۔
 
 

اساتذہ بطور بی ایل او تعینات 

بچوں کی تعلیم متاثر ، اٹیچ منٹیں ختم کرنے کامطالبہ 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//مینڈھر میں بڑی تعداد میں اساتذہ کو بی ایل او ڈیوٹی پر تعینات کیاگیاہے جبکہ کئی اساتذہ دفاتر میںاٹیچ ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔بچوں کے والدین نے اس کیلئے اعلیٰ حکام کو ذمہ دار ٹھہرایاہے جن کی طرف سے ایسے احکامات جاری ہوتے ہیں جن میں اساتذہ کو بی ایل او تعینات کیاجاتاہے یاپھر ان کی اٹیچ منٹ کی جاتی ہے ۔ان کاکہناہے کہ کئی سکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک ایک ٹیچر تعینات ہے لیکن پھر بھی حکام غفلت کی نیند سے نہیںجاگتے ۔ محمد زمان،شوکت علی،علی اصغر اور جمیل خان نامی شہریوںکا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران کی وجہ سے بچوں کی تعلیم ضائع ہو رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ اس میں انتظامیہ کے علاوہ وزیر برائے تعلیم اور دیگر حکام بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ کو بی ایل او ڈیوٹی پر تعینات کیا ہوا ہے جبکہ کئی اساتذہ کو دفاتر میں اٹیچ کیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اٹیچ منٹیں اثرورسوخ کی بنیاد پر ہوتی ہیں جو بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ان کاکہناتھا کہ کئی سکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے مہینے میں کئی بار بند رہتے ہیں کیونکہ ایک ٹیچر کبھی چھٹی پر بھی جاتی ہے ،کبھی میٹنگ میں شرکت کرتاہے اور خود ہی مڈ ڈے میل کا انتظام بھی کرتاہے ۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی شعبے کا یہ حشر نہیںہوناچاہئے اور اساتذہ سے صرف درس و تدریس کا کام لیاجاناچاہئے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ بی ایل او کا کام کسی دوسرے محکمہ سے لیاجائے اور اساتذہ کو فوری طور پر واپس اپنی ڈیوٹی پر تعینات کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ ساتھ ہی اٹیچ منٹیں بھی ختم کی جائیں جو ایک غیر قانونی طریقہ کار ہے ۔
 

غریب گھرانوں کی حق تلفی 

نام بی پی ایل فہرست سے خارج 

پرویز خان 
 
منجاکوٹ //منجاکوٹ کی پنچایت دیری دہاڑہ کے لوگوں نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ غریب اور مستحق کنبوں کے نام بی پی ایل سے باہر نکال کر انہیں راشن سے محروم کردیاگیاہے ۔ مقامی لوگوں کے ایک وفد نے سابق سرپنچ طالب حسین خان اور گلصید خان کی قیادت میں تحصیلدار منجاکوٹ ریاض محمود خان سے ملاقات کر کے انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔وفد میں شامل لوگوں نے کہاکہ محکمہ خوراک ، شہری رسدات و امورصارفین کی طرف سے غریبوںکے ساتھ سراسر ناانصافی کی جارہی ہے اورایسے کنبوں کے نام بھی بی پی ایل سے خارج کئے گئے ہیں جو بالکل غریب ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کئی لوگوں کو بی پی ایل کے راشن سے محروم کردیاگیاہے جبکہ وہ اس کے مستحق ہیں ۔طالب حسین نے بتایا کہ بی پی ایل سے نام نکال کر اے پی ایل میں رکھے گئے ہیں جو غریبوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اور ایسا کرنے والوںکو معاف نہیں کیاجاناچاہئے کیونکہ انہوںنے غریب کا نوالہ چھیننے کی کوشش کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ فہرستیں مرتب کرنے پر تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ تحصیلدار منجاکوٹ نے لوگوں کو یقین دلایاکہ وہ یہ معاملہ ڈپٹی کمشنر راجوری کے نوٹس میںلاکر حل کرائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ فہرستوںسے متعلق تحقیقات کروائی جائے گی اور غریبوں کا حق مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔