خبریں

 میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن کاوفد آسیہ نقاش سے ملاقی

جموں / صحت و طبی تعلیم کی وزیر مملکت آسیہ نقاش نے کہا ہے کہ حکومت صحت و طبی تعلیم محکمہ کے ملازمین کے جائز مطالبات پور ا کرنے کے لئے وعدہ بند ہے ۔جموں میں آج آل جے اینڈ کے میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن جموں صوبہ کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے ان پر زور دیا کہ وہ مزید تندہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات بہم رکھیں۔اس دوران وفد نے انہیں درپیش کئی مسائل وزیر موصوفہ کی نوٹس میں لائے۔آسیہ نقاش نے ملیریا ڈیپارٹمنٹ کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایمپلائز فیڈریشن سے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر دفاتر میں حاضری دیں تاکہ کام کاج متاثر نہ ہو۔
 

آرمی انجینئراِن چیف کی گورنرسے ملاقات

جموں / لیفٹیننٹ جنرل سریش شرما ، انجینئر اِن چیف آرمی ہیڈ کوارٹر نے راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں جموں و کشمیر میں اس تنظیم کی طرف سے عملائے جارہے مختلف انجینئرنگ کاموں کے بارے میں جانکاری دی۔گورنر نے فوج کے کارپس آف انجینئرس کے رول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انجینئر س فوج کی کارروائیوں کے دوران تکنیکی تعاون دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
 

لال سنگھ کاجمبوچڑیاگھرکادور ہ 

 چڑیا گھرکو سیاحوں کیلئے اہم مقام قراردیا

جموں / جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھر ی لال سنگھ نے وائلڈ لائف محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ جمبو چڑیا گھر کا کام وقت پر مکمل کرنے کے لئے افرادی قوت اور مشینری کو متحرک کریںاور کہا کہ یہ جگہ سیاحوں کے لئے باعث کشش ہوگی ۔وزیر نے خانپور نگروٹہ میں چڑیا گھر کا دورہ کرنے کے دوران کہا کہ اس کی بدولت جموں میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ جنگلاتی اراضی کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔اس موقعہ پر چیف وائلڈ لائف وارڈن منوج پنتھ کے علاوہ محکمہ کے کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔لال سنگھ نے کہا کہ حکومت نے جمبو چڑیا گھر کو اشیاء چڑیا گھر کی طرز پر ترقی دینے کے لئے 120کروڑروپے مہیا کئے ہیں اور یہ چڑیا گھر پانچ ہزار اراضی پر محیط ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ اس میں مختلف اقسام سے جنگلی جانورں کو تحفظ دیا جائے گا۔وزیر نے کہا کہ انسان اور جانوروں کے درمیان پیش آنے والے تصادم انسان کی جنگلی علاقوں میں مداخلت سے سامنے آرہے ہیں ۔انہوں نے محکمہ سے کہا کہ وہ اس طرح کی تصادم آرائی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست میں مختلف مقاما ت کو بڑھاوا دے کر انہیں سیاحتی اہمیت کے مقامات میں تبدیل کرنے کی طرف توجہ دے رہی ہے تاکہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت میں بھی بہتری لائی جاسکی۔وزیر کو جانکاری دی گئی کہ چڑیا گھر کی تار بندی کا کام ایک ہفتے میں شروع کیا جائے گا۔
 

جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر گورنر سے ملاقی 

جموں / جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آر ڈی شرما نے آج یہاں راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی۔پروفیسر شرما  نے گورنر کو پچھلے چند مہینوں کے دوران مختلف شعبوں میں شروع کئے گئے اختراعی اقدامات اور آف سائیٹ کیمپسز کے کام کاج میں پیش آرہی دشواریوں کے بارے میں جانکاری دی۔گورنر نے وائس چانسلر پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی کے مین کیمپس کے ساتھ ساتھ آف سائیٹ کمیپسوں میں تدریس تحقیقی سرگرمیوں کے معیار برقرار رکھنے کی طرف خصوصی توجہ دیں۔
 

وزیر اعلیٰ کا ناظم اطلاعات کے ساتھ اظہارتعزیت 

جموں / وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ناظم اطلاعات منیر الاسلام کے برادر کے انتقال پر اُن کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم آج صبح انتقال کر گئے۔وزیر اعلیٰ نے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی ایصال ثواب کے لئے دعا کی۔
 
 

قومی مفاد میں بی جے پی کو شکست دی جائے:بھیم سنگھ

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ایگزیکٹو رکن پروفیسر بھیم سنگھ نے احمد آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رائے دہندگان سے ،جو گجرات کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، پرزور اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں 14 دسمبر، 2017 کے گجرات انتخابات میں مسٹر مودی اور بی جے پی کو آرام دیں ۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے دہلی پردیش پینتھرس کے صدر جناب راجیو جولی کھوسلا، راجستھان ریاستی صدر انل شرما، گجرات پنتھرس سیکرٹری محمد حنیف اور دیگر کے ساتھ کئی طلبا ، نوجوانوں اور تاجروں کے گروپوں سے ملاقات کی۔ پروفیسر بھیم سنگھ اس پیغام کے ساتھ گجرات پہنچے ہیں کہ کشمیر سے کنیا کماری تک ہندستان ایک ہے، ایک پرچم، ایک آئین اور تمام کو بنیادی حقوق جن میں جموں و کشمیر میں رہنے والے ہندستانی شہری بھی شامل ہوں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر بھیم سنگھ نے نوجوانوں سے خاص طور پر سیکولرازم اور قومی اتحاد کے اصول کو مضبوط کرنے کی اپیل کی، جسے قومی قیادت نے نافذ کیا تھا، جن میں گجرات کی تین عظیم شخصیتیں مہاتما گاندھی (بابائے قوم)، سردار بلبھ بھائی پٹیل اور مرارجی دیسائی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے لوگوں نے صدیوں سے قومی اتحاد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایک بار پھر مودی حکومت کو آرام دے کر گجرات کے لوگوں کو ہندستان کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے میں، خاص طور پر فلسطین  کے معاملہ پر مودی حکومت کے ناکام ہونے پر پروفیسر بھیم سنگھ نے افسوس ظاہر کیا، جو ایک المیہ ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی ناوابستہ پالیسی کو بچانے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے صیہونی  طاقتوں سے ہاتھ ملا لیا ہے، جس سے قومی خارجہ پالیسی کے لئے ایک خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پروفیسربھیم سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کی نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے قومی معیشت کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے لئے مودی ذمہ دار ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے مسٹر نریندر مودی پر جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے موجودہ بحران کا الزام لگایا۔ جموں و کشمیر پر مودی کی پالیسی سے قومی اتحاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ وہ کشمیر سے آئے ہیں تاکہ گجرات کے عظیم لوگوں سے اپیل کی جا سکے کہ وہ قومی اتحاد، ناوابستہ پالیسی اور عام لوگوں کی حفاظت کے لئے اسمبلی کے موجودہ انتخابات میں مسٹر نریندر مودی کو آرام دیں۔
 
 

اُردوجریدے کی اشاعت …رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کاخیرمقدم

جموں//رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری اصغرسامون نے ریاست کے مختلف کالجوں میںتعینات اُردوکے پروفیسروں کی ذہنی تربیت اوران کی صلاحیتوں کوفروغ دینے کیلئے ایک اُردوتحقیقی مجلہ جاری کرنے کااعلان کرنے کاخیرمقدم کیاہے۔اس سلسلے میں رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کاایک اجلاس منعقدہواجس میں سابق ڈائریکٹر جنرل اکائونٹس اینڈٹریجری اورجنرل سیکریٹری رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی اسیرکشتواڑی ،سابق سب ڈویژنل مجسٹریٹ اورجوائنٹ سیکریٹری تنظیم روی ٹھاکور،شبیراحمدبٹ ریٹائرڈڈپٹی کمشنراورایگزیکٹیوممبر ،پیارے ہتاش،ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتہ بشیربھدرواہی ودیگران نے شرکت کی۔ممبران نے ہائرایجوکیشن کے پرنسپل سیکریٹری محمداصغرسامون کے اُردوریسرچ جرنل شروع کرنے کی ستائش کی۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے ریاست میں اُردوزبان وادب کوفروغ ملے گا۔مقررین نے کہاکہ اُردوڈوگرہ حکمرانوں کے دورسے یہاں پرسرکاری زبان ہے لیکن تقسیم وطن کے بعدجتنی بھی سرکاریں آئیں انہوں نے اُردوکونظرانداز کیااورسول سیکرٹریٹ میں تعینات بیرونی ریاستوںکے  آئی اے ایس آفیسران نے اسے سیکریٹریٹ سے باہرنکال دیا۔انہوں نے کہاکہ اُردوریاست کی سرکاری ہی نہیں بلکہ آئینی زبان بھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیکریٹریٹ میں ہائرایجوکیشن کے پرنسپل سیکریٹری پہلے آفیسرہیں جواُردوکوترقی دینے کیلئے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اصغرسامون اُردواورفارسی کے اچھے اسکالربھی ہیں اوران کے بڑے بھائی مسعودسامون اُردو کے اچھے شاعرہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دوسرے بھائی باقرسامون نے بھی اُردومضمون کے ساتھ کے اے ایس امتحان پاس کیا۔انہوں نے کہاکہ ریسرچ جرنل شروع کرناایک قابل ستائش فیصلہ ہے جوآج تک کوئی قدآورسیاستدان بھی نہیں لے سکاہے۔انہوں نے کہاکہ ہراسمبلی اجلاس میں اُردوکے مسائل سے متعلق سوال اُٹھائے جاتے ہیں لیکن عملی طورپرکوئی بھی کام نہیں ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اصغرسامون کے اس فیصلے سے اُردوداں طبقے کی اُمیدیں پھرسے جاگ گئی ہیں۔اراکین نے کہاکہ جموں یونیورسٹی کے تسلسل اورکشمیریونیورسٹی کے بازیافت کی طرزپراس مجلے میں بھی اعلیٰ معیارکے تحقیقی مقالے شائع ہونے چاہیئں اوربیرون ریاست کے ادباء سے بھی اس مجلے کیلئے مضامین بھیجنے کی دعوت دی جانی چاہیئے۔اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی جانی چاہیئے جو تحقیقی مقالوںکی جانچ کرے۔اس دوران رساجاودانی میموریل سوسائٹی کے صدراورصدرشعبہ اُردوجموں یونیورستی پروفیسرشہاب عنایت ملک کررہے تھے۔پروفیسرشہاب عنایت ملک نے صدارتی خطاب میں کہاکہ پرنسپل سیکریٹری اصغرسامون کی رہنمائی میں محکمہ اعلیٰ تعلیم بہترین کام کررہاہے اوراب نئے اسسٹنٹ پروفیسروں کواپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے کاموقعہ دینے کیلئے اُردوریسرچ جرنل شروع کرنے کااعلان کیاگیاہے جوکہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے نوجوان قلمکاروں اوراسسٹنٹ پروفیسروں کواے پی آئی سکورحاصل کرنے میں کوئی دقت نہیں آئے گی۔انہوں نے کہاکہ پرنسپل سیکریٹری اصغرسامون کے اس فیصلے سے ریاست میں اُردوزبان وادب کوفروغ ملے گا۔میٹنگ میں شکریہ کی تحریک تنویراحمددیو ،ریٹائرڈ ڈی ایس پی نے پیش کی۔
 

محکمہ اعلیٰ تعلیم کاسہ ماہی اْردوتحقیقی مجلہ شائع کرنے کااعلان

پرنسپل سیکریٹری اصغرسامون نے لوازمات کاجائزہ لیا

جموں//اعلیٰ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکر اصغر سامون نے  یہاں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران شائع ہونے والے اردو تحقیقی جریدے کے لئے لوازمات کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں کئے جارہے اقدامات کا جائزہ لیا۔یہ جریدہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی طرف سے شائع کیاجارہا ہے۔میٹنگ میں جموں اور کشمیر ڈویژن کے کالجوں کے اساتذہ نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران تحقیقی جریدے کی اشاعت کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقعہ پر شرکأ نے پرنسپل سیکریٹری کے ایجنڈا کو آگے لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔سامون نے سول سیکریٹریٹ جموں سے سرینگر کی میٹنگ سے ٹیلی فون پر خطاب کیا۔تفصیلات کے مطابق ریاست جموں وکشمیرمیں اْردوزبان میں نیاانقلاب بپاکرنے کے مصمم اِرادے کیساتھ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے سہ ماہی تحقیقی مجلہ شائع کرنے کااعلان کیاہے،پرنسپل سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم جموں وکشمیرڈاکٹر اصغر حسن ساموں نے ڈیڈ لائن مقرّر کرتے ہوئے تمام منتخب مقالہ نگاروں کو ہدایت دی کہ وہ بہر صورت جنوری ماہ کے دوسرے ہفتے تک مضامین اڈیٹوریل بورڈ کوروانہ کر دیں، تا کہ فروری 2018 کے پہلے ہفتہ میں مجلہ منظر عام پر آ جائے۔اس سلسلے میں ایک فیصلہ کن اجلاس پرنسپل سیکریٹری ،اعلیٰ تعلیم ڈاکٹراصغرحسن ساموں کی زیرصدارت جموں کے مولاناآزادمیموریل کالج جموں میں منعقدہوا جس میں صوبہ جموں کے کالجوں کے منتخب اْردوپروفیسروں نے شرکت اورجس میں محکمہ کی جانب سے آئندہ ماہ فروری سے شروع کئے جارہے تحقیقی مجلہ جرنل کے مشمولات پرتفصیلی بحث ومباحثہ ہوا۔پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹرساموں کی ہدایات پر سرینگرکے امرسنگھ کالج میں ڈاکٹرشفاق سوپوری کی صدارت میں اجلاس منعقدہوا اورمجوزہ تحقیقی مجلہ جرنل کے مشمولات پرتفصیلی بحث ومباحثہ ہوا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت جموں و کشمیر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن ساموں کی زیرصدارت جموں کے مولانا آزاد میموریل کالج میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا، قریب چار گھنٹے پر مشتمل اس میٹنگ میں صوبہ جموں کے تمام کالجوں کے اردو پروفیسروں نے شرکت کی، میٹنگ میں آئندہ فروری ماہ سے اجراء ہونے جا رہے محکمہ کے تحقیقی مجلہ جرنل کے مشمولات پر تفصیلی بحث و مباحثہ ہوا۔اس اہم اجلاس کی میزبانی کے فرائض پرنسپل گورنمنٹ  ایم اے ایم کالج جموں ڈاکٹر انیتا سودن نے انجام دئیے۔میٹنگ میں جموں صوبہ کے مختلف اضلاع کے کالجوں کے قریبا پچاس اردو،فارسی،عربی اساتذہ نے شرکت کی۔پروفیسر عرفان علی عارف کی نظامت میں شروع ہوئے اس پروگرام کا استقبالیہ خطبہ ڈاکٹر انیتا سودن نے پیش کیا۔پروگرام کے کنوینر صدر شعبہ اردو مولانا آزاد میموریل کالج جموں ڈاکٹر لیاقت جعفری نے ایک تفصیلی پاور پائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ مجوزہ مجلہ کے خد و خال، مقاصد، مشمولات، موضوعات،موادوغیرہ کے بارے میں میٹنگ میں شریک افراد کوآگاہ کیا۔محکمہ میں حالیہ دنوں میں شامل ہوئے کم و بیش تمام اردو پروفیسروں اور کچھ ایک سینئر پروفیسروں نے اس تحریک کو لبیک کہا۔ شرکا نے اس تحقیقی جرنل میں ہر طرح کی تحریری معاونت کا وعدہ کرتے ہوئے محکمہ کے اس قدم کوتاریخی قدم قرار دیا۔ صوبہ جموں کے مختلف کالجوں میں تعینات فارسی اور عربی کے اساتذہ نے بھی اپنی بھرپور حصہ داری کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انھیں اجازت دی جائے کہ وہ براہ راست فارسی اور عربی زبانوں میں ہی اپنے مقالے تحریر کریں، تا کہ ان کو یو جی سی گائیڈ لائنز کے تحت اے پی آئی نمبرات حاصل کرنے میں کوئی دشواری نا آ ئے۔میٹنگ کے دوران انفرادی سطح پر تقریباً درجن بھر اساتذہ نے جرنل کو ایک دستاویزی ڈاکومنٹ بنانے کے حوالے سے اپنی مدلل آراء پیش کیں۔ پرنسپل سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم اصغر سامون نے ڈیڈ لائن مقرّر کرتے ہوئے تمام منتخب مقالہ نگاروں کو ہدایت دی کہ وہ بہر صورت جنوری ماہ کے دوسرے ہفتے تک مضامین اڈیٹوریل بورڈ کوروانہ کر دیں، تا کہ فروری 2018 کے پہلے ہفتہ میں مجلہ منظر عام پر آجائے۔ پروگرام میں جرنل کے نام اور متوقع چہرے مہرے پر بھی کھل کر بات ہوئی۔پریڈ کالج کے صدر شعبہ ڈاکٹر دلجیت ورما کے شکریہ کے ساتھ ہی میٹنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔اس میٹنگ میں حصّہ لینے والے اساتذہ، رام بن، ڈوڈہ،کشتواڑ، بھدرواہ، ریاسی، ادھمپور،کٹھوعہ، بسوہلی،سانبہ،اکھنور،نوشہرہ،سندربنی، راجوری،تھنہ منڈی، مینڈھر، سرنکوٹ، پونچھ وغیرہ سے جموں پہنچے۔ سرینگرمیں اسی نوعیت کی میٹنگ زیرصدارت ڈاکٹرشفق سوپوری منعقدہوئی۔اجلاس نوڈل پرنسپل ڈاکٹریاسمین عشیائی کے افتتاحی کلمات کیساتھ شروع ہوا۔اْنہوں نے اپنے خطاب میں پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹراصغرسامون کے اس جرأتمندانہ قدم پران کے تئیں اِظہارِ تشکرکرتے ہوئے اس تاریخ ساز فیصلے کومحبانِ اْردوکیلئے عظیم تحفہ قرار دیا۔اْنہوں نے کہاکہ اْردومجلہ کی اشاعت شروع کرنے کافیصلہ انتہائی حوصلہ افزاہے۔اْنہوں نے شرکااساتذہ سے تلقین کی کہ وہ مقررہ مدت میں اس تحقیقی مجلہ کومنظرعام پرلانے میں اپنابھرپورتعاون پیش کریں۔اْنہوں نے ذوق وشوق کیساتھ معیاری شراکت کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرسامون بین الاقوامی سطح کاتحقیقی مجلہ شروع کرنے کااِرادہ رکھتے ہیں جس میں موادکامعیاراہمیت کاحامل ہوگا۔اجلاس میں بااتفاق رائے ایک قرار دادپاس کی گئی جس میں پرنسپل سیکریٹری موصوف کوان کے اس تاریخ ساز قدم کیلئے مبارک باد پیش کرتے ہوئے ہرطرح سے اس اولین تحقیقی مجلہ کوکامیاب بنانے کیلئے تعاون پیش کرنے کاقرار کیاگیا۔اجلاس میں مجوزہ تحقیقی مجلہ کے سرورق ودیگرامورپربھی سیرحاصل بحث مباحثہ ہوا۔اس موقع پر25شرکا نے اپنے تحقیقی مقالوں کی فہرست موقع پرہی جمع کرادیں۔اْنہوں نے اس موقع پرایک ہفتے کے اندراپنے تحقیقی مقالوں کی ہارڈوسافٹ کاپی پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سرینگر میں نظامت کے فرائض ڈاکٹرجوہرقدوسی نے انجام دیے۔یہ ثمرآوراجلاس ڈاکٹر گلزارپڈرکے تعارفی کلمات سے شروع ہوااورانہی کے اختتامی کلمات پراختتام کوپہنچا۔