خانہ بدوش

نیلے آسمان پر آج کالے بادل بڑی ہی تیزی سے یہاں وہاں رقّص کرتے ہوے برف اور بارش کی آمد کا پیغام دے رہے تھے۔وہیں ہواوں کی ہلکی دوڑ دھوپ سے پیڑ پودے بھی جنبش میں مَحّوتھے۔یہی سب کچھ دیکھتے ہوئے راج محمّد اپنےتنبو کے سامنے لوہے کے بنائے ہو چُولہے پرآگ سینکتے ہوے پہاڑوں کی طرف دیکھ کراپنی آستین سےآنسوں پونچھتے ہوےہچکیاں لے لے کر رورہا تھا۔وہ اپنے اُس وقت کے لیے ہوے فیصّلے پر پشیمانی کا اظہار کر رہاتھا، جب پچھلے سال وہ بیماری کی وجہ سے بکریوں کے ریوڑکے ساتھ جانے کی بجائے گاڑی میں بیٹھ کر سرینگر جمّوں قومی شہراہ سے اپنی بیٹھک پر پہنچا اور اپنی بیوی اور اکلوتے لخت جگر کو بھیڑ بکریوں کے ساتھ باقی برادری والوں کے ہمراہ پیر پنچال والے راستے سےآنے کو کہا۔۔۔۔۔۔،؟
یہ وہی راستہ ھے.جو اک طرف اگر قُدرتی حُسن سے مالامال ہے، لیکن دوسری طرف خطرات سے گھرا ہوا ہے۔ اس راستے میں بہتے ہوئے صاف و شفاف پانی کے دریا،نیلے سرسبز ملائم گھاس کےبڑے بڑے میدان، اُونچی اُونچی برف سے ڈھکی ہوئی سفید پہاڑیاں،اُوپر نِیلے آسّمان پر سفید اور کالے رنگ کے رقّص کرتے ہوے بادل کے ٹکرےجو کبھی کبھی سورج کے سامنے آکے کچھ حصّے پر چَھاوں کردیتے ہیں اور کچھ حصّے دھوپ ہی رہتی ہے۔یہاں کایہ نظّارہ کسی بہشت سے کم نہیں۔ لیکن ان حُسین نظاروں کے ساتھ ساتھ یہ راستہ قُدرتی آفتوں سےکم بھی نہیں ہے۔ اس راستے میں کسی بھی وقت انسان کسی بھی حادثہ کا شکار ہو کر مُوت کے منہ میں جاسکتا تھا۔اکثر گجر بکروال لوگوں کے مویشیوں کے لئے آمد و رفت کا یہی ایک راستہ تھا۔جو آہستہ آہستہ اپنا ڈھیراایک جگہ سے اُٹھا کے دوسری جگہ جماتے اور مَویشیُوں کوگھاس چَراتے ہوے اپنی منزل کی اور بڑھتے رہتے تھے.راج محمّدنے بھی اپنے بیٹے اور بیوی کو اِسی راستے سے مال مَویشیُوں کے ساتھ روانہ کیا!!!!
راج محمّد کو پچھلے سال کا وہ منظر کسی برچھی سے کم نہیں لگتا تھا.جو اُسکی آنکھوں کے سامنے بار بار آکر اُس کی زخمّوں کو تر وتازہ کررہا تھا.کیونکہ اُس کے گھرمیں شادی کے ٹھیک پنتیس سال بعد وہ آواز سُنای دی،جس آواز کے خاطر اُن کے کان ترس رہے تھے، جس کو سنُنےخاطراُنہوں نے در در ٹھوکریں کھائیں۔ کوئی  درگاہ کوئی آستانہ نہ چھوڑا،کوئی پیر،کوئی فقیر نہ چھوڑا اورکسی ڈاکٹر وحکیم کا علاج نہ چھوڑا۔۔۔۔۔،
آخرکار پہاڑی مرگ والے آستان پرحاضری اور دَچھیاں باندھ باندھ کر اللّہ پاک سے دعائیں کرکے ایک خوبصُورت اولادملی۔ہاجرہ بی بی نہیں چاہتی تھی کہ اُن کی آنکھ کا تارا اُن کی اور باقی براداری کے بچوّں کی طرح بکریّوں اور بھیڑوں کے ریوڑوں کے پیچھے پیچھے چل کر دُکھ درد سے بھری کٹھن زندگی جیئے۔وہ اُس کو پڑھنا لکھنا چاہتی تھی، پرپڑھاتی لکھاتی کیسے غربت اتنی تھی کہ سر کے اُوپر چھت کیا!قدم رکھنے کے لیے جگہ بھی نہ تھی ۔معاشی حالت اتنی خراب کہ اُس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ مال مویشی چُرا کرمُشکل سے لوگوں کا چُولھا جلتا تھا۔اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ راج محمّد کی صحت بھی ناساز رہتی تھی۔ ایسے حالات میں انہوں نے اپنی دل کی حسرتوں کو قربان کر کےآپ نے پچپن میں ہی بیٹے کو وہی مُشکل کام سونپ دیا۔جو اُن کادل نہیں چاہتا تھا۔اب اُن کا بیٹا اس کام کو سنبّھال پانے قابل ہے یا نہ لیکن معاشی طور پسماندہ ہونے کے ساتھ ساتھ  راج محمّد کی صحت بھی ناساز رہتی تھی۔جس کے آگے اب راج محمّد اب بے بس و مجبورتھا!
اب وہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثربیمار رہتا تھا۔ اب کے برس بھی بیمارہونے کی وجہ سے کے بڑے ہسپتال میں کچھ وقت کے لیےداخل کیا گیا۔ جس کی وجہ سے سُونہ مرگ سے ڈھیرا اُٹھانے میں تھوڑی دیر ہوگئی۔ برادری کے لوگ اپنا مال مَویشی لے کر اپنی منزل کی اور نکل چکے تھے۔صرف راج محمّداور اُس کے بچے کا ڈھیرا پچھے رہ گیا تھا۔چھ ہی دنوں بعد ہسپتال سےخارج ہوتے ہی یہ بھی جلدی جلدی اپنے مال اور مَویشی لے کر منزل کی اور بڑھنے لگے۔ شہربچے کی پر ہجوم سڑکوں اور تنگ گلی، کوچوں  سے گزرتے ہوےراستے میں کہیں کہیں پڑاو ڈالتے چلتے۔آخر مغل روڈ پر پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے رات گزارنے کے لئے اپنا ڈھیرا  شوپیان سے تھوڑا اُوپر ہرپورہ گاوں کے نزدیک ہی رمبی آرہ کے کنارے پر جمالیا۔
راج محمّد نےسردی کی شدید لہر دیکھتے ہی اپنا کوٹ اور چادر اُتار کر بیٹے کو دی اور اُس کے پائوں میں پھٹے پُرانے جُوتےدیکھ کر کہا.”لائو بیٹا جُوتے یہاں، میں اِن کی سلائی کرتا ،ہوں کہیں راستے میں تمہیں زیادہ سردی نہ لگ جاے؟۔۔۔۔،“
صبح چائے پی کے گھوڑوں پر سامان لاد کراُن کو وہاں سےروانہ کر کے خودگاڈی میں سوار ہو کر جمّوں کاراستہ پکڑ لیا۔ لیکن راستے میں دھیان اُن ہی کی اور رہا۔ وہ گاڑی کی کھڑکی کاشیشہ اُتار کر آسمان میں رقّص کرتے ہوے کالےبادلوں اور بُلند پہاڑوں کی طرف دیکھ دیکھ کر پریشانی کے بھنور میں ڈوبے جارہا تھا۔اپنے ہی آپ سے بڑبڑاتے ہوئے اللّہ پاک کے دربار میں برف باری نہ ہونے کی دُعا مانگ رہا تھا۔
راستے میں کہیں کہیں اگرچہ مسافر گاڑی سے اُتر کر ہوٹلوں میں چائے پیتےاورکھانا کھا لیتے تھے۔لیکن راج محمّد گاڑی سے اُتر کر بِنا کچھ کھائے پئے آسمان اور بُلند پہاڑوں کی اورٹکٹکی باندھےدیکھتااور بڑبڑاتا رہتا تھا  ۔۔۔۔!
بیٹھک پر پہنچتے ہی بے صبری سے اُن کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔باربار ریڈیو پر مُوسمی حالات کی جانکاریاں لے رہا تھا کہ اچانک یہ خبر سن کر اُس کے ہوش ہی اُڑ گئے کہ آج وادی کشمیر میں بہت برف بھاری ہوئی اور برف کے تودوں کے نیچھے آکر کچھ خانہ بدوش لوگ اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھے۔  برف تلے اُنکی دبی ہوی لاشیں ابھی برآمد نہیں ہیں، جن کو ڈھونڈنے کے لیے سرکاری عملے کو بیچ دیا گیا ہے۔
راج محمّد اپنے دل کو تسلی دینے لگا کہ ”.نہیں ایسا نہیں ہوسکتا اُنہوں نے تو” پیرگلی“ پار کر لی ہوگی۔میں نے اُنہیں جلدی آنے کو کہا تھا۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا.۔۔۔۔۔، نہیں۔۔۔، نہیں۔۔۔۔،“
دو تین روز گزرجانے کے بعد جب راج محمّد نے اپنی بیّوی اور بیٹے کی یخ بستہ لاشیں دیکھیں تو وہ اپنے آپ کو نہ ل نہ پاتے ہوئےبے ہوشی کی حالت میں بس یہی چلاچلا کر کہتا ھے.ہاے میرا اللّہ میں نے کیوں ایسا فیصلہ لیا تھا۔۔۔۔،!!!!
ہاے ربّا اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔؟
اب میں اکیلا اِدھر کیا کروں گا۔۔۔۔!!!
مجھے بھی اُٹھا لیے میرے ربّا۔۔۔!!!!
کیوں مُجھے بے سہارا چھوڑا؟
میرے اللّہ کیسی ہے ہم خانہ بدوش گجربکروالوں کی زندگی۔۔۔۔۔،؟ہاے۔۔۔۔ہاے۔۔۔ہاے۔۔۔!!!!
 
���
کیلر،شوپیان
موبائل نمبر؛7006816440