خانہ بدوش نوجوان کو اذیتیں دینے کا ویڈیو منظر عام پر

جموں// ایک خانہ بدوش شخص کو اس خاتون کے اہل خانہ کی طرف سے زد و کوب کرنے کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جسے لے کر وہ فرار ہو گیا تھا۔ ایس ایس پی کٹھوعہ شری دھر پاٹل کے مطابق پولیس نے معاملہ کا نوٹس لے کر اس ویڈیو کو تجزیہ کے لئے بھیج دیا ہے تا کہ قصور وار افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے ۔ذرایع کے مطابق ضلع کٹھوعہ کے منیاری گاﺅں کا شوکت علی نامی شخص 16اگست کو جیلو نام کی ایک عورت کے ساتھ ریاستی ہائی کورٹ میں شادی کرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ 33اور36سیکنڈ کے دو ویڈیو کلپ منظر عام پر آئے ہیں جن میں ایک شخص کی بری طرح سے مار پیٹ کی جا رہی ہے جب کہ وہ رحم کی بھیک مانگتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ ایک ویڈیو میں اسے الٹا لٹکا کر کھلے عام تشدد کیا جا رہا ہے ۔ ایس ایس پی موصوف نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پولیس نے اس ویڈیو کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے کہ معتوب شخص کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے تین خصوصی دستے تشکیل دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل لڑکی کے اہل خانہ کی طرف سے معتوب شخص کے خلاف اغوا کی شکایت درج کروائی تھی تو پولیس نے لڑکی برآمد کر کے والدین کے سپرد کر دی تھی۔ اب ایک نئی ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے جس میں لڑکی کے گھر والوں نے اس کے اغوااور حبس بے جا میں رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ 24اگست کو جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر نے ایس ایس پی کٹھوعہ کو ہدایت دی تھی کہ شوکت علی اور اس کی بیوی کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ ہدایات لڑکے کے والد کی طرف سے ہائی کورٹ میں دائر عرضی کی سماعت کے دوران لڑکے اور لڑکی کے دفعہ 164کے تحت بیانات درج کرنے کے بعد دی گئی تھی۔ جسٹس ٹھاکور نے 14اگست کو عدالت میں حاضری کے بعد اغوا کئے جانے کا سنجیدہ نوٹس لیا تھا، اس روز لڑکی نے عدالت عالیہ کو بتایا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شوکت علی کیساتھ شادی کی ہے ۔ ہائی کورٹ نے ایس ایس پی کو ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔